سالانہ 20 کروڑ روپے کمانے والا شخص سینڈوچ چرانے پر نوکری سے فارغ

اپ ڈیٹ 06 فروری 2020

ای میل

پارس شاہ 2017 سے امریکن بیکنگ گروپ کے لندن پیڈکوارٹر میں اہم عہدے پر تعینات تھے — فوٹو: انڈیا ٹوڈے
پارس شاہ 2017 سے امریکن بیکنگ گروپ کے لندن پیڈکوارٹر میں اہم عہدے پر تعینات تھے — فوٹو: انڈیا ٹوڈے

لندن میں کروڑوں روپے کمانے والے بھارتی بینکر کو کھانا چوری کرنے پر نوکری سے ہاتھ دھونا پڑ گیا۔

بھارتی نشریاتی ادارے انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق پارس شاہ نامی بینکر پر الزام تھا کہ انہوں نے سٹی بینک ہیڈکوارٹرز کے کینٹین سے سینڈوچ چوری کیا، جس کے بعد انہیں نکال دیا گیا۔

واضح رہے کہ 31 سالہ پارس شاہ 2017 سے امریکی بیکنگ گروپ کے لندن ہیڈکوارٹرز میں اہم عہدے پر تعینات تھے۔

سٹی بینک کی کینٹین — ڈیلی میل
سٹی بینک کی کینٹین — ڈیلی میل

اس حوالے سے مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کی سالانہ تنخواہ 10 لاکھ پاؤنڈ تھی جو تقریباً 20 کروڑ پاکستانی روپے بنتی ہے۔

تاہم ان کی اس حرکت کے باعث انہیں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے مگر اس حوالے سے کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی کہ پارس شاہ اپنے دفتر کے کینٹین سے کتنی مرتبہ کھانا چوری کرچکے ہیں؟

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سٹی بینک ہیڈکوارٹرز اپنے ملازمین کے لیے جلد بونس کا اعلان بھی کرنے والا تھا تاہم پارس شاہ کو اس سے چند ہفتے قبل ہی نوکری سے فارغ کردیا گیا۔

پارس شاہ لندن میں سالانہ کروڑوں روپے کمارہے تھے — فوٹو: فیس بک
پارس شاہ لندن میں سالانہ کروڑوں روپے کمارہے تھے — فوٹو: فیس بک

پارس شاہ کے سابق ساتھیوں نے میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کامیاب ٹریڈر تھے جن کے کام کو پسند کیا جاتا تھا۔

دوسری جانب سٹی بینک نے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔