پاکستان کا پانی روکنے کا بھارتی اقدام ’جارحیت‘ تصور کیا جائے گا، ترجمان دفتر خارجہ

اپ ڈیٹ 17 اکتوبر 2019

ای میل

بھارت کی موجودہ حکومت بھارت کو ایک غیر ذمہ دار جارحانہ ریاست بنانا چاہتی ہے— فوٹو: ڈان نیوز
بھارت کی موجودہ حکومت بھارت کو ایک غیر ذمہ دار جارحانہ ریاست بنانا چاہتی ہے— فوٹو: ڈان نیوز

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ 3 مغربی دریاؤں پر پاکستان کا خصوصی حق ہے اور بھارت کی جانب سے ان دریاؤں کا پانی روکنے کی کوشش جارحیت کا اقدام تصور کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ ’بدترین کرفیو کے نفاذ اور دنیا بھر سے مقبوضہ کشمیر کا رابطہ ختم کرنے کے 2 ماہ سے زائد عرصے بعد بھارتی قیادت کی جانب سے ایسے بیانات اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ بھارت کی موجودہ حکومت بھارت کو ایک غیر ذمہ دار جارحانہ ریاست بنانا چاہتی ہے جو انسانی حقوق یا عالمی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کرتی‘۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت 3 مغربی دریاؤں پر پاکستان کے ’خصوصی اختیارات‘ ہیں۔

مزید پڑھیں: چاہے کوئی رافیل رکھے یا کچھ اور، پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے، دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دریاؤں کا بہاؤ بدلنے کی کوشش جارحیت کا اقدام تصور کی جائے گی اور پاکستان اس پر ردعمل دینے کا حق رکھتا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق نریندر مودی نے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت پاکستان کا پانی روک کر اس کا رخ ہریانہ کی جانب کردے گی کیونکہ ’اس پر ان کے ملک کا اور ریاست کے کسانوں کا حق ہے‘۔

ترک صدر کا دورہ پاکستان ملتوی

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان کا دورہ پاکستان ملتوی ہوگیا ہے جس کی نئی تاریخوں کا تعین کیا جائے گا۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ ترک صدر کے دورے کی نئی تاریخوں کا تعین جلد کیا جائے گا۔

ڈاکٹر محمد فیصل کے اعلان سے اس سے قبل ترک سفارتکار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں ترک صدر کا دورہ پاکستان ملتوی ہونے سے متعلق آگاہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ترک صدر رجب طیب اردوان 23 اکتوبر کو پاکستان کا دورہ کریں گے

چند روز قبل وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے 23 اکتوبر کو سرکاری دورے پر پاکستان آئیں گے اور مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی موقف کی حمایت کریں گے۔

تاہم ڈاکٹر فیصل نے ترک صدر کا دورہ ملتوی ہونے سے متعلق کوئی وجہ بیان نہیں کی، ترکی اس وقت شام میں کرد ملیشیا کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے جس کی وجہ سے واشنگٹن اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

امریکی نائب صدر مائیک پنس کی قیادت میں سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو اور وائٹ ہاؤس میں مشیر قومی سلامتی رابرٹ او برین آج (17 اکتوبر کو) ترکی پہنچیں گے۔