ملک بھر میں 5 روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز

اپ ڈیٹ فروری 17 2020

ای میل

کراچی میں  انسداد پولیو مہم ایک ہفتے قبل شروع کردی گئی تھی۔—فائل فوٹو: اے ایف پی
کراچی میں انسداد پولیو مہم ایک ہفتے قبل شروع کردی گئی تھی۔—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: ملک بھر میں رواں سال کی پہلی 5 روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز آج (پیر) سے ہورہا ہے جس کا مقصد 3 کروڑ 96 لاکھ بچوں کو پولیو کی ویکسین پلانا ہے، اس سلسلے میں 2 لاکھ 65 ہزار پولیو ورکرز گھر، گھر جا کر 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو ویکسینیٹ کریں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق قومی پولیو مہم میں کراچی شامل نہیں کیوں کہ وہاں انسداد پولیو مہم ایک ہفتے قبل شروع کردی گئی تھی۔

مہم سے محض چند روز قبل ہی قومی ادارہ صحت نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پولیو کے مزید 5 کیسز کی تصدیق کی تھی جس کے بعد رواں سال کے پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 17 ہوگئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں مزید 5 بچے پولیو کے باعث معذوری کا شکار بن گئے

خیال رہے گزشتہ برس پولیو کے 144 کیس سامنے آئے تھے جبکہ 2018 میں یہ تعداد 12 اور 2017 میں 8 تھی۔

اس سلسلے میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس دسمبر میں کامیاب قومی مہم کی طرح قوم 2020 میں اس وائرس کے تدارک کے جارحانہ اقدامات کے لیے تیار ہے اور ہمیشہ کے لیے ملک سے پولیو کو جڑ سے اکھاڑنے کا مرحلہ طے کرنا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ مہم کے دوران اپنی کارکردگی کا تنقیدی جائزہ لیا اور آئندہ مہم کی بہتر تیاریوں کے لیے صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ کام کیا۔

اس ضمن میں نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کے کو آرڈینیٹر رانا محمد صفدر کا کہنا تھا کہ موجودہ جغرافیائی پھیلاؤ اور وائرس کے منتقل ہونے کی رفتار ملک میں بچوں کے لیے حقیقی خطرہ ہے۔

مزید پڑھیں: سندھ اور خیبرپختونخوا سے پولیو کے مزید 4 کیسز رپورٹ

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’2019 سے سبق سیکھ کر ہم نے 2020 میں صورتحال بہتر کرنے کا پختہ عزم کررکھا ہے، قومی مہم کے دوران گھر گھر جا کر، ہر بچے تک پہنچ کر ضروری قوت مدافعت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رہیں۔

اس کے ساتھ ای او سی نے فروری کے دوران ہر بچے کو 2 قطرے پلانے کی انسداد پولیو مہم کی معاونت کے لیے ملک کے اہم علاقوں میں 50 ماہرین کو بطور سہولت کار بھی تعینات کردیا ہے۔

علاوہ ازیں پولیو پروگرام نے علاقائی زبانوں کے ذریعے ’صحت تحفظ ہیلپ لائن 1166‘ بھی متعارف کروادی ہے جس میں عوام اُس بچے کی معلومات فراہم کرسکتے ہیں جسے کسی بھی وجہ سے ویکسین نہ دی جاسکی ہو۔

یہ بھی پڑھیں: پولیو کیسز: بابر بن عطا نے مجرمانہ غفلت کی ہے تو انہیں سزا دی جائے، اعظم سواتی

خیال رہے کہ پولیو ایک انتہائی معتدی مرض ہے جو زیادہ تر 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو اپنا شکار بناتا ہے، یہ اعصابی نظام پر اثر انداز ہو کر معذوری بلکہ موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

پولیو کا اب تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوا البتہ ویکسینیشن بچوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔

ہر مرتبہ جب ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں تو وائرس سے اس کی حفاظت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔