ملک میں مزید 5 بچے پولیو کے باعث معذوری کا شکار بن گئے

اپ ڈیٹ 17 جولائ 2020

ای میل

خیبرپختونخوا پولیو سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
خیبرپختونخوا پولیو سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

ملک میں پولیو کی بیماری کا سب سے زیادہ شکار صوبے خیبر پختونخوا میں مزید پولیو کے مزید 4 جبکہ بلوچستان میں ایک اور کیس سامنے آگیا۔

واضح رہے کہ وائلڈ پولیو وائرس-1 کے مزید 5 کیسز کی تصدیق ہونے کے بعد سال 2020 میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 17 تک پہنچ چکی ہے۔

خیبرپختونخوا کے ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق خیبرپختونخوا کے چاروں پولیو کیسز ایک ہی ضلع لکی مروت سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان میں تحصیل بٹانی کی یونین کونسل (یو سی) غنڈی حسن خیل میں 12 ماہ کا بچہ، اسی تحصیل کی یو سی کوٹکا عرب خان میں 18 ماہ کی بچی، تحصیل نورنگ کی یو سی بخمل احمد زئی میں 17 ماہ کے بچے اور یونین کونسل ابا خیل میں 11 ماہ کی بچی پولیو کا شکار بن کر معذور ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں: پولیو کیسز: بابر بن عطا نے مجرمانہ غفلت کی ہے تو انہیں سزا دی جائے، اعظم سواتی

رپورٹ کے مطابق نئے کیسز میں ایک پولیو کیس بلوچستان کے ضلع پشین کی تحصیل پشین میں سامنے آیا جہاں 7 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔

یہ بات مدِ نظر رہے کہ کراچی میں پی ایس ایل میچز کے سبب 10 فروری کو پولیو مہم کا آغاز کردیا گیا تھا جبکہ ملک بھر میں 17 فروری سے 5 روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز ہوگا۔

خیال رہے کہ سال 2020 میں پولیو سے متاثر ہونے والے 17 بچوں میں سے 10 کا تعلق خیبرپختونخوا 5 کا سندھ اور 2 کا بلوچستان سے ہے، خوشقسمتی سے اس سال اب تک پنجاب میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

خیال رہے کہ خیبرپختونخوا پولیو سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے جہاں گزشتہ برس بھی ملک میں سب سے زیادہ 92 کیسز اسی صوبے میں سامنے آئے تھے۔

مزید پڑھیں: 4 نئے کیسز کے ساتھ گزشتہ برس کے پولیو کیسز کی تعداد 144 ہوگئی

یاد رہے کہ 2018 میں پولیو کے صرف 12 کیس رپورٹ ہوئے تھے اور 2017 میں 8 پولیو کیسز منظر عام پر آئے تھے۔

تاہم گزشتہ برس اپریل میں انسداد پولیو مہم میں آنے والے تعطل کے باعث پولیو کا پھیلاؤ صحت حکام کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ثابت ہوا اور سال 2019 میں پولیو سے 144 بچے معذوری کا شکار ہوئے۔

خیال رہے کہ 19 جنوری کو نئے سال کے پہلے پولیو کیس کی لکی مروت میں تصدیق ہوئی تھی جہاں ایک سالہ بچہ پولیو وائرس سے متاثر ہوا تھا جسے ایک مرتبہ پولیو کے قطرے پلائے گئے تھے۔

واضح رہے کہ پولیو وائرس 5 سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتا ہے اور اعصابی نظام میں داخل ہوکر تاحیات معذور بنا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ اور خیبرپختونخوا سے پولیو کے مزید 4 کیسز رپورٹ

ویکسین کے علاوہ پولیو کے خاتمے کا کوئی سبب نہیں تاہم بروقت قطرے پلانے سے بچے اس خطرناک وائرس سے بچ سکتے ہیں اور ماہرین صحت والدین پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کو ہر دفعہ قطرے ضرور پلوائیں۔

دنیا کے اکثر ممالک پولیو کے مرض سے چھٹکارہ پاچکے ہیں لیکن پاکستان اور پڑوسی ملک افغانستان دو ایسے ممالک ہیں جہاں اس وقت بھی پولیو کیسز مسلسل سامنے آرہے ہیں اور اس کا انسداد نہ ہوسکا۔

پاکستان تاحال پولیو سے متاثرہ ملک ہونے کے باعث عالمی ادارہ صحت کی جانب سے متعدد سفری پابندیوں کا شکار ہے اور 2014 سے بیرون ملک سفر کرنے والے ہر شہری کو پولیو سے متعلق سرٹیفکیٹ درکار ہوتا ہے۔