سندھ اور خیبرپختونخوا سے پولیو کے مزید 4 کیسز رپورٹ

اپ ڈیٹ 09 فروری 2020

ای میل

سال 2019 میں پولیو کے 144 کیسز جبکہ سال 2018 میں 12 کیسز رپورٹ ہوئے تھے 
— فائل فوٹو: اے پی
سال 2019 میں پولیو کے 144 کیسز جبکہ سال 2018 میں 12 کیسز رپورٹ ہوئے تھے — فائل فوٹو: اے پی

اسلام آباد: سندھ اور خیبرپختونخوا سے پولیو کے مزید 4 نئے کیسز سامنے آگئے جس کے بعد ملک میں رواں برس اب تک کیسز کی تعداد 12 تک پہنچ گئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سال 2020 کے صرف 39 روز ہوئے ہیں اور پاکستان نے سال 2018 کے پولیو کے مجموعی کیسز کی تعداد برابر کردی ہے جب صرف 12 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کے عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سندھ میں پولیو کے کیسز بدین اور قمبر جبکہ خیبرپختونخوا میں دونوں کیسز ضلع لکی مروت سے رپورٹ ہوئے۔

مزید پڑھیں: ملک میں سال 2020 کے پولیو کیسز کی تعداد 4 تک پہنچ گئی

انہوں نے کہا کہ 'سندھ میں ضلع بدین کی یونین کونسل 'بدین 1' کی رہائشی 36 ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ صوبے میں پولیو کا دوسرا کیس ضلع قمبر کی تحصیل میرو خان کی رہائشی 42 ماہ کی بچی میں سامنے آیا'۔

عہدیدار نے کہا کہ 'خیبرپختونخوا میں ضلع لکی مروت کی تحصیل بٹانی کی یونین کونسل غنڈی حسن خیل کے 18 ماہ کے بچے میں پولیو کی تصدیق ہوئی'۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں پولیو کا دوسرا کیس ضلع لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ کی یونین کونسل کوٹ کشمیر میں 9 ماہ کی بچی میں سامنے آیا۔

یہ بھی پڑھیں: 4 نئے کیسز کے ساتھ گزشتہ برس کے پولیو کیسز کی تعداد 144 ہوگئی

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سال 2019 میں پولیو کے 144 کیسز جبکہ سال 2018 میں 12 اور سال 2017 میں صرف 8 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ 30 دسمبر کو وزارت قومی صحت کے انسداد پولیو پروگرام نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیو پروگرام گزشتہ 6 ماہ میں کئی تنازعات کا سامنا کرنے کے بعد آخر کار اپنی 'درست سمت پر گامزن' ہے۔

انسداد پولیو پروگرام نے دعویٰ کیا تھا کہ دسمبر میں انسداد پولیو مہم کے دوران 100 فیصد سے زائد بچوں کو ویکسین پلائی گئی اور ملک بھر میں 3 کروڑ 96 لاکھ بچوں کے ہدف کے مقابلے میں 4 کروڑ 39 بچوں کو ویکسین پلائی گئی۔