اغوا کے بعد قید کرکے نشہ دیا گیا، ریپ کیا گیا، ایوارڈ یافتہ گلوکارہ

ای میل

گلوکارہ ڈفی کے پہلے ایلبم کی 50 لاکھ کاپیاں فروخت ہوئی تھیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
گلوکارہ ڈفی کے پہلے ایلبم کی 50 لاکھ کاپیاں فروخت ہوئی تھیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

موسیقی کی دنیا میں ریکارڈ بنانے والی ایوارڈ یافتہ معروف برطانوی گلوکارہ 35 سالہ ڈفی نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں کچھ عرصہ قبل اغوا کے بعد قید کرکے رکھا گیا، جہاں انہیں نشہ دینے سمیت ان کا ’ریپ‘ کیا گیا۔

گلوکارہ ڈفی کا اصل نام ’ایمی اینی ڈفی‘ ہے اور انہوں نے موسیقی کے اعلیٰ ترین ایوارڈ ’گریمی‘ سمیت دیگر ایوارڈز جیت رکھے ہیں۔

ڈفی کو اس وقت شہرت ملی تھی جب 2008 میں ان کا گانا ’مرسی‘ کافی مقبول ہوا تھا۔

ڈفی کے مذکورہ گانے نے انتہائی کم وقت میں امریکا اور یورپ کے کئی ممالک میں دھوم مچادی تھی اور ان کے اسی گانے کی 50 لاکھ کاپیاں فروخت ہوئی تھیں۔

ڈفی کا مذکورہ گانا ان کے پہلے میوزیکل ایلبم ’راک فری‘ میں شامل تھا۔

پہلے ہی میوزک ایلبم سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والی گلوکارہ کا دوسرا ایلبم ’اینڈلسلی‘ 2010 میں سامنے آیا، جس کے بعد ان کا تاحال تیسرا میوزک ایلبم نہیں آ سکا۔

برطانوی گلوکارہ نے انتہائی کم عرصے میں کافی مقبولیت حاصل کی—فائل فوٹو: اے ایف پی
برطانوی گلوکارہ نے انتہائی کم عرصے میں کافی مقبولیت حاصل کی—فائل فوٹو: اے ایف پی

دو کامیاب میوزک ایلبمز کے بعد ڈفی نے اداکاری میں قسمت آزمائی کی اور ان کی پہلی فلم ’پینٹاگونیا‘ 2010 میں سامنے آئی، اس سے قبل ہی وہ ایک ٹی وی سیریز میں کام کر چکی تھیں۔

ڈفی کی دوسری فلم ’لیجنڈ‘ 2015 میں ریلیز ہوئی، جس کے بعد انہیں کچھ موسیقی اور فلمی منصوبوں پر کام کرتے دیکھا گیا مگر تاحال ان کی کوئی فلم اور میوزک ایلبم سامنے نہیں آ سکا۔

گلوکارہ ڈفی کو گزشتہ کافی عرصے سے گلیمر اور شوبز کی دنیا سے دور دیکھا گیا اور اب انہوں نے اپنے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کرکے سب کو حیران کردیا۔

ڈفی نے اپنے آفیشل انسٹاگرام پر اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ کچھ عرصے قبل انہیں اغوا کے بعد قید کرکے رکھا گیا، جہاں انہیں نشہ دیا گیا اور ان کا ’ریپ‘ کیا گیا۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اگرچہ گلوکارہ نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں کس نے اور کب قید کرکے ریپ کا نشانہ بنایا تاہم انہوں نے انکشاف کیا کہ مذکورہ واقعہ کچھ عرصہ قبل پیش آیا۔

گلوکارہ نے بتایا کہ انہیں قید کے دوران نشہ دینے اور ’ریپ‘ کیے جانے کے صدمے سے نکلنے میں کچھ وقت لگا اور اب وہ بالکل ٹھیک ہیں، جس وجہ سے ہی وہ عوام اور مداحوں کے سامنے آئی ہیں۔

ڈفی کے مطابق جب انہیں قید کرکے ریپ کا نشانہ بنایا گیا اس کے بعد انہوں نے خود سے کئی بار سوال کیا کہ انہیں ٹوٹے دل اور پست حوصلوں کے ساتھ عوام کے سامنے جانا چاہیے؟

ساتھ ہی انہوں نے اپنے سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ انہیں فیصلہ کیا تھا کہ وہ آنسوؤں سے لبریز آنکھوں کے ساتھ مداحوں کے سامنے نہیں جائیں گی، اس وجہ سے انہیں مذکورہ صدمے سے نکلنے میں وقت لگا۔

گلوکارہ نے بتایا کہ عین ممکن ہے کہ کچھ افراد کو ان کی بات پر یقین نہ ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کے ذہنوں میں بہت سارے سوالات ابھرتے ہوں، تاہم وہ جلد ہی ان تمام سوالوں کے جواب ایک انٹرویو میں دیں گی۔

ان کے مطابق واقعے کے بعد ان کے ساتھ ایک صحافی نے رابطہ کیا، جن کے ساتھ بات کرنے کے دوران انہوں نے اپنے اغوا، قید کیے جانے، نشہ دینے اور ریپ کیے جانے کے حوالے سے تمام معاملات پر بات کی۔

گلوکارہ نے بتایا کہ ان کا مذکورہ انٹرویو جلد ہی شائع ہوگا۔

اگرچہ اداکارہ نے واضح نہیں کیا کہ انہیں کب اغوا کیا گیا تاہم ان کی باتوں سے عندیہ ملتا ہے کہ ان کے ساتھ ہولناک واقعہ 2 سے 3 سال قبل پیش آیا ہوگا۔

گلوکارہ ڈفی کو 2017 کے بعد عوامی مقامات پر انتہائی کم دیکھا گیا۔

گلوکارہ ڈفی کے مطابق وہ ریپ اور قید کیے جانے کے واقعے سے متعلق جلد مزید تفصیلات بتائیں گی—فوٹو: اے ایف پی
گلوکارہ ڈفی کے مطابق وہ ریپ اور قید کیے جانے کے واقعے سے متعلق جلد مزید تفصیلات بتائیں گی—فوٹو: اے ایف پی