حقوق کی تنظیموں کا سوشل میڈیا قواعد پر مشاورتی عمل کے بائیکاٹ کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 02 مارچ 2020

ای میل

گروپس نے مطالبہ کیا کہ کابینہ ان قواعد سے دستبردار ہو—فائل فوٹو: اے ایف پی
گروپس نے مطالبہ کیا کہ کابینہ ان قواعد سے دستبردار ہو—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: 100 سے زائد تنظیموں اور افراد نے حکومت کی جانب سے سٹیزن پروٹیکشن (اگینسٹ آن لائن ہارم) رولز 2020 پر مشاورت کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا۔

انہوں نے مشاورتی کمیٹی کے انتخاب پر بھی اعتراض کیا کہ اس میں سول سوسائٹی، صنعت اور اسٹیک ہولڈرز کے کسی نمائندے کو نامزد نہیں کیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کابینہ کی جانب سے منظور کردہ قواعد پر مختلف شعبہ جات اور سوشل میڈیا پلٹ فامرز کی کمپنیوں کی مخالفت کے باعث وزیراعظم نے سٹیزن پروٹیکشن (اگینسٹ آن لائن ہارم) رولز 2020 پر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی سوشل میڈیا قواعد پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنے کی ہدایت

اس مقصد کے لیے وزارت اطلاعات و نشریات نے پاکستان ٹیلی کمیونکیشن (پی ٹی اے) کے چیئرمین عامر عظیم باجوہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔

کمیٹی میں ایڈیشنل سیکریٹری آئی ٹی اعزاز اسلم ڈار، وزیراعظم دفتر کے اسٹریٹجک ریفارمز امپلیمنٹیشن یونٹ کی رکن تانیہ ایدروس اور فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد شامل ہیں۔

اس کے علاوہ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری اور بیرسٹر علی ظفر بھی اس کارروائی میں شریک ہوں گے۔

اس سلسلے میں بولو بھی، ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن، انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ، ایڈوکیسی اینڈ ڈیولپمنٹ، پاکستان بار کونسل، انسانی حقوق کمیشن پاکستان، پاکستان پریس فاؤنڈیشن، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ، انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر ایسوسی ایشن پاکستان، فریڈم نیٹ ورک، عوامی ورکرز پارٹی اور دیگر نے ایک بیان پر دستخط کیے۔

مزید پڑھیں: سوشل میڈیا رولز پر مشاورت کیلئے وزیر اعظم کی ہدایت پر کمیٹی تشکیل

بیان کے مطابق حکومت نے ان قواعد کی قانونی حیثیت واضح کرنے سے انکار کردیا ہے جس کے بغیر ’کوئی بھی مشاورت لینے کی کوئی حقیقی کاوش نہیں کی بلکہ محض تنقید کو کم کرنے کا حربہ ہوگی‘۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’جب کابینہ نے یہ قواعد منظور کیے جو کوئی رابطہ یا مشاورت نہیں کی گئی جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت مشاورت کو صرف ایک سہارے کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے کیوں کہ ان قواعد کو نافذ اور ان پر عملدرآمد کرنے کی تیاری اور منظوری ہوچکی ہے۔

بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ کابینہ ان قواعد سے دستبردار ہو اور کسی بھی مشاورت سے قبل فیصلے کو پبلک کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم عمران خان کو ایشیائی تنظیم کا خط، سوشل میڈیا قواعد پر انتباہ

اس سلسلے میں آئی آر اے ڈی اے کے ڈائریکٹر آفتاب عالم نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سٹیشن پروٹیکشن (اگینسٹ آن لائن ہارم) کے قواعد کابینہ سے منظور ہوچکے ہیں اور نفاذ کے لیے اب صرف ان کا گزیٹ اف پاکستان میں شائع ہونا باقی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے مشاورت کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ کمیٹی میں صرف حکومتی نمائندے موجود ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں خدشہ ہے کہ تمام سوشل میڈیا ایپلیکیشنز پاکستان میں کام کرنا بند کردیں گی کیوں کہ ایشین انٹرنیٹ کولیشن (اے آئی سی) نے کہا ہے کہ پاکستان میں کام کرنا مشکل ہوجائے گا اور گلوبل انیشی ایٹو (جی این آئی) نے انہیں خطرناک قرار دیا ہے‘۔

آفتاب عالم نے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز کی رائے یہ تھی کہ حکومتی منصوبے کو عارضی طور پر روک دیا جائے اور اسٹیک ہولڈرز کسی بھی مشاورت کا حصہ نہیں بنیں گے۔

سوشل میڈیا ریگولیٹری قواعد

خیال رہے کہ 28 جنوری کو وفاقی حکومت نے ملک میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے قواعد و ضوابط کی منظوری دی تھی جس کا اعلان 12 فروری کو کیا گیا تھا۔

ان اصولوں کے تحت سوشل میڈیا کمپنیاں کسی تفتیشی ادارے کی جانب سے کوئی معلومات یا ڈیٹا مانگنے پر فراہم کرنے کی پابند ہوں گی اور کوئی معلومات مہیا نہ کرنے کی صورت میں ان پر 50 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد ہوگا۔

مزید پڑھیں: حکومت نے سوشل میڈیا ریگولیٹ کرنے کے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی

اس حوالے سے جو معلومات فراہم کی جاسکتی ہیں ان میں صارف کی معلومات، ٹریفک ڈیٹا یا مواد کی تفصیلات شامل ہیں۔

ان قواعد و ضوابط کے تحت اگر کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو تحریری یا الیکٹرانک طریقے سے ’غیر قانونی مواد‘ کی نشاندہی کی جائے گی تو وہ اسے 24 گھنٹے جبکہ ہنگامی صورتحال میں 6 گھنٹوں میں ہٹانے کے پابند ہوں گے۔

علاوہ ازیں ان کمپنیوں کو آئندہ 3 ماہ کے عرصے میں عملی پتے کے ساتھ اسلام آباد میں رجسٹرڈ آفس قائم کرنا ہوگا۔

اس کے ساتھ ان کمپنیوں کو 3 ماہ کے عرصے میں پاکستان میں متعلقہ حکام سے تعاون کے لیے اپنا فوکل پرسن تعینات کرنا اور آن لائن مواد کو محفوظ اور ریکارڈ کرنے کے لیے 12 ماہ میں ایک یا زائد ڈیٹا بیس سرورز قائم کرنا ہوں گے۔