سوشل میڈیا رولز پر مشاورت کیلئے وزیر اعظم کی ہدایت پر کمیٹی تشکیل

28 فروری 2020
مشاورت کے لیے کمیٹی وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر تشکیل دی گئی ہے — فوٹو: شٹراسٹاک
مشاورت کے لیے کمیٹی وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر تشکیل دی گئی ہے — فوٹو: شٹراسٹاک

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے سوشل میڈیا رولز پر مشاورت کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔

سوشل رولز پر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے لیے کمیٹی وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر تشکیل دی گئی جس کے سربراہ چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) عامر عظیم باجوہ ہوں گے جبکہ ایڈیشنل سیکریٹری وزارت آئی ٹی اعزاز اسلم ڈار بھی اس میں شامل ہیں۔

کمیٹی میں وزیر اعظم کی اسٹریٹیجک ریفارمز یونٹ کی رکن تانیہ اندروس اور وزیر اعظم کے ڈیجیٹل میڈیا پر فوکل پرسن ڈاکٹر ارسلان خالد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

کمیٹی تمام فریقین سے وسیع البنیاد مشاورت کرے گی اور دو ماہ میں مشاورت مکمل کرکے رپورٹ دے گی۔

مشاورت کے عمل میں وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری اور بیرسٹر علی ظفر کو بھی شامل کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: حکومت نے سوشل میڈیا ریگولیٹ کرنے کے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے ملک میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے قواعد و ضوابط کی منظوری دی تھی۔

ان اصولوں کے تحت سوشل میڈیا کمپنیاں کسی تفتیشی ادارے کی جانب سے کوئی معلومات یا ڈیٹا مانگنے پر فراہم کرنے کی پابند ہوں گی اور کوئی معلومات مہیا نہ کرنے کی صورت میں ان پر 50 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد ہوگا۔

اس میں جو معلومات فراہم کی جاسکتی ہیں ان میں صارف کی معلومات، ٹریفک ڈیٹا یا مواد کی تفصیلات شامل ہیں۔

ان قواعد و ضوابط کے تحت اگر کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو تحریری یا الیکٹرونک طریقے سے’غیر قانونی مواد‘ کی نشاندہی کی جائے گی تو وہ اسے 24 گھنٹے جبکہ ہنگامی صورتحال میں 6 گھنٹوں میں ہٹانے کے پابند ہوں گے۔

علاوہ ازیں ان کمپنیوں کو آئندہ 3 ماہ کے عرصے میں عملی پتے کے ساتھ اسلام آباد میں رجسٹرڈ آفس قائم کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: 'حکومت سوشل میڈیا بند کرنا چاہتی ہے جو آپکا سب سے بڑا ہتھیار ہے'

اس کے ساتھ ان کمپنیوں کو 3 ماہ کے عرصے میں پاکستان میں متعلقہ حکام سے تعاون کے لیے اپنا فوکل پرسن تعینات کرنا اور آن لائن مواد کو محفوظ اور ریکارڈ کرنے لیے 12 ماہ میں ایک یا زائد ڈیٹا بیس سرورز قائم کرنا ہوں گے۔

مختلف طبقات کی طرف سے اس اقدام پر حکومت پر تنقید سامنے آئے تھی اور ناقدین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے انتظامیہ کو 'مذہبی منافرت، ثقافتی اور نسلی تعصب پھیلانے اور قومی مفاد' کے نام پر آزادی اظہار کو کنٹرول کرنے کا موقع ہاتھ آجائے گا۔

اس تنقید کے جواب میں وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے سوشل میڈیا قواعد و ضوابط کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ رولز، شہریوں کی حفاظت کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس سے قبل ایسا کوئی طریقہ کار نہیں تھا جس سے ہمارے شہریوں کے مفادات اور قومی سالمیت کا تحفظ کیا جاسکے، تاہم اس پالیسی کے لاگو ہونے کے بعد سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان کے قومی مفادات کو نقصان پہنچانے سے پہلے سوچیں گی۔'

مزید پڑھیں: تکنیکی صلاحیت بڑھائیں یا سوشل میڈیا ویب سائٹس بلاک کریں، پی ٹی اے کی تجویز

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ 'نئے قوانین نا صرف پاکستان کے مخالفین کو بےنقاب کریں گے بلکہ ان سے حکام کو انتہا پسندوں کو روکنے میں بھی مدد ملے گی جو مذہب اور نسل کی بنیاد پر نفرت پھیلاتے ہیں۔'

جنوبی ایشیا کے امور کے لیے امریکا کی اعلیٰ سفارتکار ایلس ویلز نے بھی تین روز قبل پاکستانی حکومت کے سوشل میڈیا سے متعلق نئے قواعد و ضوابط پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ آزادی اظہار اور ڈجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے دھچکا ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں