عدالت نے کورونا وائرس کیخلاف حکومتی اقدامات کی تفصیلات طلب کرلیں

اپ ڈیٹ 14 مارچ 2020

ای میل

عدالت کو بتایا گیا کہ چین کے شہر ووہان میں موجود پاکستانیوں کی تعداد ایک ہزار ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
عدالت کو بتایا گیا کہ چین کے شہر ووہان میں موجود پاکستانیوں کی تعداد ایک ہزار ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت سے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور چین میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی شکایات دور کرنے کے لیے حکومتی ردِ عمل کی تفصیلات طلب کرلیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے چین میں پھنسے پاکستانیوں بالخصوص طالبعلموں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث وطن واپس لانے کے لیے دائر درخواست کی سماعت کی۔

اس سلسلے میں اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور وزارت خارجہ کے نمائندوں نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے چین کے صوبے ہوبے میں پھنسے پاکستانیوں کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے فنڈز مختص کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چین میں پھنسے پاکستانیوں کے اہل خانہ نے حکومتی وضاحت مسترد کردی

اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سیف اللہ گوندل نے کہا کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی چین کا دورہ کریں گے جبکہ دفتر خارجہ کے ڈائریکٹر نے کہا کہ اس سلسلے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

تاہم سیف اللہ گوندل کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کا مسئلہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حکومت نے یہ معاملہ قومی سلامتی کمیٹی کی سطح پر اٹھایا ہے، ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اہم فیصلے کیے جائیں گے۔

اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حکومتی نمائندوں کو ہدایت کی کہ کورونا وائرس کے حوالے سے ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے نکات اور حکومت کے کیے گئے فیصلوں کی تفصیلات عدالت میں جمع کروائی جائیں۔

دوران سماعت دفتر خارجہ کے ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ چین میں وفات پانے والا پاکستانی شخص کورونا وائرس میں مبتلا نہیں تھا۔

مزید پڑھیں: چین سے پاکستانی طلبہ کی واپسی کے معاملے پر فوکل پرسن مقرر کرنے کا حکم

اسی دوران درخواست گزار کے وکیل نیاز بروہی نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود حکومت نے ابھی تک چین میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کے مستقبل کے حوالے سے کوئی جامع پالیسی مرتب نہیں کی۔

چین میں موجود پاکستانی طالبعلموں کے والدین نے عدالت کو بتایا کہ حکومتی عہدیداروں نے چین میں پھنسے ہوئے پاکستانی طالبعلموں کو وطن واپس لانے سے صاف انکار کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہی مالی مدد کی ضرورت نہیں، وہ چاہتے ہیں کہ جتنی جلد ممکن ہو پاکسستانی طالبعلموں کو وطن واپس لایا جائے، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہ وائرس عالمی وبا بن چکا ہے حتیٰ کہ امریکا نے بھی یورپ سے اپنی پروازیں معطل کردی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ووہان میں پھنسے پاکستانی طلبہ کا حکومتِ پاکستان سے مدد کا مطالبہ

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت میں وزارت خارجہ کے نمائندوں نے بینچ کو آگاہ کیا تھا کہ 194 میں سے صرف 23 ممالک نے اپنے شہریوں کو چین سے نکالا جبکہ بنگلہ دیش نے بھی اس سلسلے میں اپنا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت اپنے متعدد شہریوں کو واپس لے آیا لیکن 80 بھارتی اب بھی چین میں موجود ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا تھا کہ چین کے شہر ووہان میں موجود پاکستانیوں کی تعداد ایک ہزار ہے جبکہ ’حکومت اس سلسلے میں طالبعلموں اور ملک کے فائدے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی‘۔


یہ خبر 14 مارچ 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔