کورونا وائرس: آرمی چیف کا پاک فوج کو سول انتظامیہ کی امداد تیز کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 21 مارچ 2020

ای میل

وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ—فائل فوٹو: پی آئی ڈی
وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ—فائل فوٹو: پی آئی ڈی

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کو سول انتظامیہ کی امداد تیز کرنے کا حکم دے دیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس اور آرمی چیف سے ملاقات کے بعد جنرل قمر جاوید باجودہ نے امداد تیز کرنے کی ہدایت کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ انفرادی طور پر کورونا وائرس سے اپنا بچاؤ کرنا درحقیقت اجتماعی حفاظت کی بنیاد ہے اورہر انفرادی حفاظتی قدم اہمیت کا حامل ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: سندھ میں مزید 15 کیسز، ملک میں متاثرین کی تعداد 510 ہوگئی

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پہلے انفرادی طور پر ایک ذمہ دار شہری بننا ہے تاکہ اجتماعی سطح پر حکومتی اور اداروں کی کوششیں کامیاب ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ حکومت اور محکمہ صحت کی کورونا وائرس کے حوالے سے ہدایات پر عمل کرے کیونکہ ایسا کرنے سے ہی قومی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

پاک فوج کے سپہ سالار کا کہنا تھا کہ کوئی بھی خطرہ ایک ذمہ دار اور پرعزم قوم کو شکست نہیں دے سکتا جیسا کہ چین نے کر دکھایا ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ پاک فوج قومی کوشش کا حصہ ہوتے ہوئے اس ذمہ داری کو ادا کرے گی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہم کورونا وائرس سے قوم کی حفاظت کے عمل کو مقدس فریضے کے طور پر انجام دیں گے اورانفرادی نظم و ضبط اور باہمی تعاون تمام اداروں کی کوششوں کو یکجا کرے گا جبکہ اس میں ہی قومی کامیابی ہوگی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم کی زیر صدارت ہوا تھا، جس میں ملک میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا تھا۔

اس اجلاس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں کورونا وائرس کے خطرات کے باوجود ملک کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے قوم اور میڈیا سے درخواست کی تھی کہ افراتفری نہ پھیلائیں کیونکہ افراتفری اس ملک میں وہ نقصان پہنچا سکتی ہے جو کورونا بھی نہیں پہنچائے گا۔

انہوں نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا تھا کہ موجودہ صورت حال میں لفظ استعمال کیا جا رہا ہے social distancing (سماجی فاصلہ) یہ بہت ضروری ہے، اس سے بچنے کے لیے عوام کو خود منظم اور ڈسپلن ہونا پڑے گا جو ہمیں اس مشکل مرحلے سے نکالے گا۔

وزیر اعظم نے کہا تھا کہ کوئی بھی یہ نہیں بتا سکتا کہ کورونا وائرس کی اگلے ایک مہینے، دو مہینے یا 6 مہینے میں کیا صورتحال ہو گی، بہت ضروری ہے کہ ہم پورا معاشرہ مل کر اس وائرس کا سامنا کریں، کورونا وائرس سے کوئی حکومت نہیں جیت سکتی، قوم جیت سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افرا تفری نہ پھیلائیں، یہ کورونا سے زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہے، عمران خان

واضح رہے کہ گزشتہ برس کے آخر میں چین کے صوبے ہوبے کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے اس مہلک کورونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچادی ہے اور اب تک 11 ہزار سے زائد افراد اس عالمی وبا سے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

اگرچہ اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد ابھی تک چین میں سب سے زیادہ ہے لیکن اس سے اموات کی تعداد میں یورپ خاص طور اٹلی سب سے آگے نکل چکا ہے اور وہاں اس سے 4 ہزار سے زائد لوگ مرچکے ہیں۔

پاکستان میں یہ وائرس فروری کے آخر میں آیا اور اب تک ملک میں خیبرپختونخوا میں 2 اور سندھ میں ایک ہلاکت سامنے آئی ہے۔

اسی طرح اگر ملک بھر میں متاثرین کی تعداد پر نظر ڈالیں تو اب تک یہ 510 ہوگئی ہے، جس میں سندھ کے 267، پنجاب کے 96، بلوچستان کے 92، خیبرپختونخوا کے 23، اسلام آباد کے 10، گلگت بلتستان میں 22 اور ایک آزاد کشمیر کا ایک کیس ہے۔