معاشی پیکج: پیٹرولیم مصنوعات اگلے 3 ماہ میں مزید سستی ہوں گی، مشیر خزانہ

اپ ڈیٹ 25 مارچ 2020

ای میل

مشیرخزانہ نے کہا کہ بجلی اور گیس کے صارفین کو سہولت دی جائے گی—فوٹو:ڈان نیوز
مشیرخزانہ نے کہا کہ بجلی اور گیس کے صارفین کو سہولت دی جائے گی—فوٹو:ڈان نیوز

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے وزیراعظم کے اعلان کردہ معاشی پیکج کے حوالے سے کہا ہے کہ سوا کھرب روپے کے پیکج میں کم آمدنی اور کاروباری افراد کو سہولت دی جائے گی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید کم ہوں گی۔

اسلام آباد میں وزیر تجارت عبدالرزاق داؤد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہنا کہ ‘ہماری معیشت ایک اچھے انداز میں مستحکم ہورہی تھی، پچھلے 8 مہینوں میں برآمدات میں اضافہ ہوا اور بیرونی سرمایہ کاری بھی 4 ارب ڈالرز تک پہنچی’۔

انہوں نے کہا کہ 'کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب سے کم ہو کر 3 ارب رہ گیا، 4 ہزار ارب کے قرضے بھی ادا کیے گئے اور ادائیگیوں کا توازن بھی مثبت رہا'۔

مزید پڑھیں:ملک میں کورونا وائرس کے اثرات: وزیراعظم نے ریلیف پیکج کا اعلان کردیا

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ‘سرمایہ تاریخ میں اس سے پہلے کبھی بھی 8 ماہ میں اتنا جمع نہیں ہوا تھا جتنا پچھلے 8 ماہ میں کیا گیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 70 فیصد بڑھ گیا تھا، اسی سے این ایف سی کے ذریعے صوبوں کو پیسے دیے گئے اور اسٹیٹ بینک کے خزانے میں 5 ارب ڈالر اضافہ ہوا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان کی معیشت کے حوالے سے یہ تمام چیزیں مثبت خبر کے طور پر ابھر رہی تھیں، دنیا میں سراہا جارہا تھا کہ پاکستان کی معیشت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے’۔

کوروناوائرس سے معیشت کو پہنچنے والے نقصانات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘کورونا وائرس کے مسئلے سے معیشت پر برے اثرات پڑنے کا خدشہ ہے، کیونکہ وہ ممالک جہاں ہم برآمد کررہے ہیں ان کی معیشت کمزور ہورہی ہے جس سے ہماری برآمدات میں کمی آئے گی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘بیرون ملک سے ہمارے ورکر جو پیسے بھیج رہے تھے اس میں پچھلے 4 ماہ سے اضافہ ہورہا ہے جس میں کمی آسکتی ہے، اسی طرح ہمارے ملک میں اقتصادی سرگرمیاں کم ہوں گی اور ٹیکس بھی کم ہوگا’۔

'کمزور طبقے کے لیے 200 ارب کا پیکج'

حکومت کی پالیسی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘وزئراعظم نے جو پروگرام پیش کیا تھا وہ سوا کھرب کا پیکج ہے اور اس کے بنیادی نکات میں مزدور اس موقع پر اپنی روزگار کھو دیں گے، اس کے متاثرین کے لیے ہم 200 ارب روپ رکھ رہے ہیں جو کاروباری برادری اور صوبائی حکومتوں سے مشاورت سے دیا جائے گا’۔

یہ بھی پڑھیں:کاروباری برادری کی وفاقی حکومت سے ریلیف کے لیے لابنگ

وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ 200 ارب وفاق دے گا جبکہ صوبائی حکومتیں دینا چاہیں تو وہ الگ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘برآمد کنندگان کو ایک سو ارب روپے کا ٹیکس ریفنڈ فوری طور پر دیں گے تاکہ ان کا کام نہ رکے'۔

انہوں نے کہا کہ 'چھوٹے کاروبار اور زراعت کے شعبے کے لیے بھی ایک سو ارب روپے کا پیکیج رکھ رہے ہیں اور زراعت کے شعبے میں کوشش ہوگی کہ کھاد کی قیمت کم کی جائے اور دوسرے پہلوؤں سے بھی مدد کی جائے’۔

پیکج کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'چھوٹے کارخانے یا چھوٹے کاروبار کو بینکوں کے پاس سود میں وقفہ دیا جائے اور آسان شرائط پر انہیں قرضے دیے جائیں گے'۔

انہوں نے کہا کہ 'چوتھی چیز متاثرین اور اقتصادی طور پر کمزور ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو مالی امداد دینے جارہے ہیں، اس وقت پاکستان میں 50 لاکھ لوگوں کو امداد دی جارہی ہے اور ہم مزید 70 لاکھ لوگوں کو امداد دینے جارہے ہیں'۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ‘ان افراد کو 4 ماہ کے لیے 3 ہزار روپے ماہانہ دیے جائیں گے جس کی مجموعی رقم تقریباً 150 ارب روپے ہے اور اسی میں پناہ گاہ کے پروگرامز بھی ہیں جس کے لیے مزید فنڈ بڑھایا جائے گا’۔

مزید پڑھیں:پاکستان اسٹاک ایکسچینج: کے ایس ای 100 انڈیکس 2100 سے زائد پوائنٹس کم

ان کا کہنا تھا کہ 'یوٹیلٹی اسٹورز کو 50 ارب روپے دے رہے ہیں جس سے کھانے پینے کی اشیا سستی ملیں گی'۔

حکومتی پیکج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’82 لاکھ ٹن گندم اپنے کسانوں سے خریدنے جارہے ہیں جس کی لاگت 280 ارب روپے ہوگی جس سے کسانوں کے لیے آسانی اور دوسرے شعبوں میں طلب بڑھے گی’۔

'بجلی اور گیس صارفین کو بل میں سہولت'

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کمی کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت فوری طور 15 روپے گرانے کا فیصلہ کیا اور آنے والے 3 مہینوں میں اس میں مزید کمی کی جائے گئی مگر بڑھایا نہیں جائے گا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'گیس اور بجلی کے چھوٹے صارفین کو بل دینے میں مہلت دی جائے گی جس کے تحت 3 مہینے کی اقساط کی سہولت دی جائے گی'۔

مزیدپڑھیں:گیس کمپنیوں کو قیمتوں میں کمی، ریونیو ہدف کم کرنے کی ہدایت

عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ 'ہیلتھ ورکر کے یونیفارم اور دیگر آلات کے لیے 50 ارب روپے رکھے جارہے ہیں، کھانے کی چیزوں میں اضافی ٹیکس کو بالکل ختم کیا جارہا ہے یا زبردست کمی کی جارہی ہے'۔

این ڈی ایم اے کورونا وائرس سے نمٹنے والا ادارہ ہے جس کے لیے 25 ارب روپے دے رہے ہیں اور مزید ضرورت پڑی تو اس میں اضافہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم ایک سو ارب روپے کا اضافی فنڈ مقرر کر رہے ہیں، جس میں کاروباری برادری اور دوسرے مطالبات آئیں گے جس میں ان کی مدد کریں گے'۔

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ 'ہم ایک مانیٹری کے حوالے سے پیکج دیں گے جس میں شرح سود میں کمی کی گئی ہے اس کے علاوہ قرض دینے اور اس پر سود کی شرح کو واپس کرنے کے لیے 3 سے 6 مہینے کی مہلت دیں گے'۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے ملک میں عالمی وبا کورونا وائرس کے پھیلنے کے نتیجے میں معاشی سرگرمیوں میں آنے والے تعطل اور اس کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے عوام اور مختلف شعبوں کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کردیا تھا۔

وزیر اعظم نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سب سے زیادہ خطرہ آج ہمیں کورونا سے نہیں بلکہ کورونا سے خوف میں آ کر غلط فیصلے کرنے سے ہے کیونکہ ہم جو بھی فیصلہ کرتے ہیں اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے ملک کے حالات دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم جو فیصلہ کریں گے کہیں اس کے منفی اثرات معاشرے میں کورونا سے زیادہ تباہی تو نہیں مچا دیں گے۔

انہوں نے ریلیف پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے مزدور طبقے کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے ہیں اور اس کے علاوہ ہم صوبوں سے مشاورت کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر بے روزگار ہونے والے مزدوروں کے لیے کاروباری برادری سے بھی بات کر رہے ہیں کہ وہ صنعت بند ہونے کی صورت میں انہیں نوکریوں سے فارغ نہ کریں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت برآمدات کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہے اور ان کے لیے ہم نے دو فیصلے کیے ہیں جس کے تحت انہیں فوری طور پر 100ارب کے ٹیکس ری فنڈ کر دیے جائیں گے تاکہ ان کے پاس فوری طور پر رقم میسر ہو تاکہ یہ اپنے مزدوروں پر بھی خرچ کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعت کے لیے ساتھ ساتھ زراعت کے لیے 100 ارب روپے رکھے ہیں اور ان کے قرض پر سود کی ادائیگی مؤخر کر دی ہے جبکہ ان کو رعایتی قرض بھی دیا جائے گا اور اس کے علاوہ کسانوں کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے بھی ہم نے رقم مقرر کردی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہم سب سے زیادہ مشکل حالات میں زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے 4 مہینے کے لیے 150 ارب روپے رکھ رہے ہیں جس کے تحت ان خاندانوں کو 3 ہزار روپے ماہوار دیے جائیں گے اور ہماری کوشش ہو گی کہ اس میں صوبے بھی ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں تاکہ ہم ان کی مزید مدد کر سکیں۔

عمران خان نے کہا تھا کہ ہم پناہ گاہوں میں توسیع کریں گے کیونکہ موجودہ پناہ گاہوں میں بہت رش ہے اور ہم بہت زیادہ احتیاط کے ساتھ ان کی مکمل چیکنگ کر کے دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بیروزگاری کو دیکھتے ہوئے پناہ گاہوں میں توسیع کریں گے تاکہ لوگ وہاں آ کر کھانا کھا سکیں اور رہ سکیں لیکن اس بات کا خیال رکھا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس سے ان کی مکمل چیکنگ کے بعد اندر آنے دیا جائے۔

وزیر اعظم نے یوٹیلیٹی اسٹورز کے لیے بھی 50 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا تھا تاکہ یوٹیلٹی اسٹور میں مستقل چیزیں رہیں اور عام آدمی اس سے کھانے پینے کی چیزیں خرید سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گندم کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے 280 ارب روپے رکھے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے کسانوں کے ہاتھ میں پیسہ آئے گا اور کم از کم ہمارے دیہی علاقوں میں حالات بہتر رہیں گے۔