ملک میں کورونا وائرس کے اثرات: وزیراعظم نے ریلیف پیکج کا اعلان کردیا

اپ ڈیٹ مارچ 24 2020

ای میل

وزیراعظم عمران خان کی سینئر صحافیوں سے ملاقات—تصویر: ڈان نیوز
وزیراعظم عمران خان کی سینئر صحافیوں سے ملاقات—تصویر: ڈان نیوز

وزیراعظم عمران خان نے ملک میں عالمی وبا کورونا وائرس کے پھیلنے کے نتیجے میں معاشی سرگرمیوں میں آنے والے تعطل اور اس کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے عوام اور مختلف شعبوں کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کردیا۔


ریلیف پیکج کے اہم انکات:
  • مزدور طبقے کے لیے 200ارب روپے مختص
  • ایکسپورٹ اور انڈسٹری کیلئے 100 ارب مختص
  • غریب خاندانوں کیلئے 150ارب روپے مختص، 3ہزار روپے فی گھرانہ دینے کا اعلان
  • پناہ گاہوں میں توسیع کی جائے گی۔
  • یوٹیلٹی اسٹورز کیلئے 50ارب روپے کا پیکج
  • گندم کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے 280ارب کا پیکج
  • پیٹرولیم مصنوعات میں فی لیٹر 15روپے کمی کا اعلان
  • بجلی/گیس کے بل 3ماہ کی اقساط میں ادا کرنے کا ریلیف
  • میڈیکل ورکرز کیلئے 50ارب روپے مختص
  • اشیائے خورونوش پر ٹیکسز میں کمی
  • ایمرجنسی صورتحال کیلئے 100ارب روپے مختص
  • نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ کیلئے 25ارب روپے مختص

وزیر اعظم نے منگل کو سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ خطرہ آج ہمیں کورونا سے نہیں بلکہ کورونا سے خوف میں آ کر غلط فیصلے کرنے سے ہے کیونکہ ہم جو بھی فیصلہ کرتے ہیں اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: موجودہ حالات میں سیاست گناہ ہے، حکومت کی مدد کیلئے کردار ادا کرنا ہو گا، شہباز شریف

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے ملک کے حالات دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم جو فیصلہ کریں گے کہیں اس کے منفی اثرات معاشرے میں کورونا سے زیادہ تباہی تو نہیں مچا دیں گے۔

' لاک ڈاؤن کی آخری قسم کرفیو ہے'

انہوں نے کہا کہ جب ہم نے نیشنل سیکیورٹی کا اجلاس کیا تھا اور اس وقت محض کورونا کے 21 کیس تھے، لاک ڈاؤن تو اسی دن سے شروع ہو گیا تھا، اسکول، کالج بند کر دیے گئے اور لوگوں کے غیر ضروری اجتماع پر پابندی لگا دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کی آخری قسم کرفیو ہے، کرفیو لگانے کے جو ہمارے معاشرے پر اثرات پڑیں گے ہم اس کو سوچ بھی نہیں سکتے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے فیصلے ایک چھوٹی سی ایلیٹ طبقے کو دیکھ کر لیے جاتے ہیں، ہمارے تعلیمی اور عدالتی نظام کا بھی یہی حال ہے، کورونا وائرس کے پیش نظر بھی لاک ڈاؤن کو لے کر عمومی سوچ یہی ہے لیکن مکمل کرفیو لگانے سے نقصان امیر کو نہیں بلکہ کچی بستیوں میں رہنے والے غریبوں کو ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے غریبوں کے بارے میں سوچنا ہے کہ وہ ان حالات میں کہاں سے اپنے گھر کا چولہا جلائیں گے، اگر ہمارے معاشی حالات اٹلی اور چین جیسے ہوتے تو کرفیو لگانا آسان ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: پنجاب، سندھ، گلگت میں مزید کیسز، ملک میں 916 متاثرین ہوگئے

عمران خان نے کہا کہ اگر ہم کرفیو لگاتے ہیں تو کیا ہم نے سوچا ہے کہ ہسپتال کام کیسے کریں گے، اس میں سپلائی کیسے آئے گی، اسٹاف کیسے کام کرے گا، ڈاکٹر اور نرس کے علاوہ پورا اسٹاف ہے جس کے بارے میں سوچنا ہے۔

مزدور طبقے کیلئے 200 ارب روپے کا ریلیف پیکج

انہوں نے ریلیف پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مزدور طبقے کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے ہیں اور اس کے علاوہ ہم صوبوں سے مشاورت کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر بے روزگار ہونے والے مزدوروں کے لیے کاروباری برادری سے بھی بات کر رہے ہیں کہ وہ صنعت بند ہونے کی صورت میں انہیں نوکریوں سے فارغ نہ کریں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت برآمدات کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہے اور ان کے لیے ہم نے دو فیصلے کیے ہیں جس کے تحت انہیں فوری طور پر 100ارب کے ٹیکس ری فنڈ کر دیے جائیں گے تاکہ ان کے پاس فوری طور پر رقم میسر ہو تاکہ یہ اپنے مزدوروں پر بھی خرچ کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں ضرورت کے مطابق اشیائے خورونوش کے ذخائر موجود ہیں، خسرو بختیار

انہوں نے کہا کہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعت کے لیے ساتھ ساتھ زراعت کے لیے 100 ارب روپے رکھے ہیں اور ان کے قرض پر سود کی ادائیگی مؤخر کر دی ہے جبکہ ان کو رعایتی قرض بھی دیا جائے گا اور اس کے علاوہ کسانوں کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے بھی ہم نے رقم مقرر کردی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب سے زیادہ مشکل حالات میں زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے 4 مہینے کے لیے 150 ارب روپے رکھ رہے ہیں جس کے تحت ان خاندانوں کو 3 ہزار روپے ماہوار دیے جائیں گے اور ہماری کوشش ہو گی کہ اس میں صوبے بھی ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں تاکہ ہم ان کی مزید مدد کر سکیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہم پناہ گاہوں میں توسیع کریں گے کیونکہ موجودہ پناہ گاہوں میں بہت رش ہے اور ہم بہت زیادہ احتیاط کے ساتھ ان کی مکمل چیکنگ کر کے دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بیروزگاری کو دیکھتے ہوئے پناہ گاہوں میں توسیع کریں گے تاکہ لوگ وہاں آ کر کھانا کھا سکیں اور رہ سکیں لیکن اس بات کا خیال رکھا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس سے ان کی مکمل چیکنگ کے بعد اندر آنے دیا جائے۔

مزید پڑھیں: ایران سے کتنے پاکستانی واپس آنا چاہتے ہیں، مکمل ڈیٹا فراہم کریں، لاہور ہائی کورٹ

وزیر اعظم نے یوٹیلیٹی اسٹورز کے لیے بھی 50 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا تاکہ یوٹیلٹی اسٹور میں مستقل چیزیں رہیں اور عام آدمی اس سے کھانے پینے کی چیزیں خرید سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گندم کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے 280 ارب روپے رکھے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے کسانوں کے ہاتھ میں پیسہ آئے گا اور کم از کم ہمارے دیہی علاقوں میں حالات بہتر رہیں گے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے کی کمی

عمران خان نے پیٹرول، ڈیزل، لائٹ ڈیزل، کیروسین کی قیمتوں میں بھی 15روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سے حکومت پر 75 ارب روپے کا اثر پڑے گا۔

وزیر اعظم نے بجلی اور گیس کے بلوں کے صارفین کے لیے بھی ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے 75فیصد صارفین کا 300یونٹ کا بل آتا ہے اور ان کے لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ تین مہینے کی قسطوں میں بل دے سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: پنجاب، سندھ، گلگت میں مزید کیسز، ملک میں 916 متاثرین ہوگئے

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح 81 فیصد گیس کے صارفین جن کا بل 2 ہزار روپے مہینہ سے کم آتا ہے، ان کو بھی تین مہینے کی قسطوں میں بل ادا کرنے کی سہولت میسر ہو گی۔

دیگر ریلیف پیکجز

عمران خان نے 50 ارب روپے میڈیکل ورکرز کے لیے مختص کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ان کے لیے آلات لینے کے لیے اور ان کو طبی سہولیات کی فراہمی میں بھی مدد کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کھانے پینے کی چیزیں مثلاً دال، چاول اور گھی وغیرہ پر ٹیکسز ختم کر دیے ہیں یا انتہائی کم دیے ہیں تاکہ ان کی قیمت نیچے آئے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے الگ سے 100 ارب روپے مختص کیے ہیں تاکہ اس لاک ڈاؤن کے دوران ایمرجنسی کی صورت میں اس کو استعمال کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: اسلام آباد ہائی کورٹ کا 408 قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کا حکم

انہوں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے لیے بھی 25 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا جسے کٹس لینے سمیت دیگر طبی سازوسامان کی خریداری کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نے تعمیرات کی صنعت کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کیا اور نوید سناتے ہوئے کہا کہ ہم تعمیرات کی صنعت کے لیے آئندہ 3-4 دن میں ایک پیکج کا اعلان کر رہے ہیں اور یہ ایسا پیکج ہو گا جس کا پاکستان کی تاریخ میں آج تک اعلان نہیں کیا گیا کیونکہ اس صنعت سے ہمارے ہاں بیروزگاری کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی اور دییگر صنعتوں کو بھی فائدہ ہو گا۔

'چین میں پھنسے طلبہ کے والدین کا دباؤ تھا'

ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ چین میں جب وائرس پھیلا تو ہم پر وہاں پھنسے ہوئے طلبہ کے والدین کا بہت دباؤ تھا کہ ان کے بچوں کو پاکستان آنے کی اجازت دی جائے اور اس موقع پر چین کے صدر سے میں نے خود بات کی تو انہوں نے مجھے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

ان کا کہنا تھا کہ چین میں اس وائرس سے نمٹنے کے لیے بہترین انتظامات کیے گئے لیکن ایران میں کوئی انتظامات نہیں کیے گئے جس کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں ایک بھی کیس چین سے نہیں آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس نہ چین جیسے وسائل تھے اور نہ وہ وائرس کو اس طرح سے کنٹرول کر سکے اور وہاں سے پاکستانی آ کر تفتان بارڈر پر آ کر بیٹھ گئے، ہم نے کوشش کی کہ وہ قرنطینہ میں رہیں لیکن کیونکہ ایران کے لیے خود مسئلے تھے اس لیے انہوں نے بھیج دیا جس سے ہمارے لیے مسئلہ ہو گیا، اب ہم کیا کرتے، کیا انہیں نہیں لیتے۔

وزیر اعظم نے کرفیو نہ لگانے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جب ٹرانسپورٹ بند کرتے ہیں تو مسائل آتے ہیں، یہ کوئی ٹوئنٹی 20 کا میچ نہیں، یہ ایک دو مہینے کا گیم نہیں، ہو سکتا ہے 6 مہینے چلے، یہ صورتحال ابھی سامنے آ رہی ہے، ہمیں نہیں پتہ کہ جو قدم آج اٹھا رہے ہیں وہ صحیح ہے یا نہیں، یہ وقت بتائے گا۔

'اس وقت کرفیو کی ضرورت نہیں'

وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت کرفیو کی ضرورت نہیں کیونکہ اگر ہم بالفرض کرفیو لگاتے تو اس میں دن میں ایک گھنٹے کے لیے لوگوں کو گھروں سے نکل کر سامنا لینے کی اجازت ہوتی ہے اور ایسی صورت میں لوگ قطاروں میں کھڑے ہو کر سامان لیں گے تو ہمارے کرفیو کا مقصد فوت ہو جائے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کسی بھی غیرمتوقع صورتحال سے بچنے کے لیے میں دو کام کروں گا جس میں سے پہلا یہ ہے کہ رضاکاروں کی فورس تیار کی جائے تاکہ وہ غریبوں کی بستیوں میں جا کر سامان تقسیم کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے فنڈز دینے کی درخواست کروں گا کیونکہ اگر خدانخواستہ یہ صورتحال طوالت اختیار کرتی ہے تو ہمیں فنڈز کی ضرورت پڑے گی۔

اس موقع پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا کہ ہمیں کورونا وائرس کے سبب وینٹی لیٹرز کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے اور چین نے بھی انتہائی کوشش کے باوجود ہمیں صرف ترجیحی بنیادوں پر وینٹی لیٹرز دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کل پہلی کھیپ چین سے موصول ہو جائے گی جو 10 لاکھ ماسک پر مشتمل ہو گی اور اس کے بعد مزید کھیپ موصول ہو گی جس میں 50 ہزار لوگوں کے لیے ٹیسٹ کٹس بھی دستیاب ہوں گی۔

محمد افضل کا کہنا تھا کہ ہمیں جمعہ کو ووہان سے سب سے بڑی کھیپ 5 ٹن کی موصول ہو گی جس میں 17-18 وینٹی لیٹرز بھی شامل ہوں گے۔

بعد ازاں وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکیورٹی خسرو بختیار نے کہا کہ ہم 80 فیصد بیرون ملک سے حاصل کرتے ہیں اور ابھی ہمارے پاس دالوں کا دو ماہ کا اسٹاک موجود ہے اور 5 اپریل کو مزید اسٹاک پہنچنے والا ہے جبکہ عالمی سطح پر گھی کی قیمت کم ہونے سے دالوں کی قیمت میں کمی متوقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس گھی کا بھی دو ماہ کا اسٹاک موجود ہے جبکہ پیاز، آلو اور ٹماٹر بھی وافر مقدار میں موجود ہے اور مزید فصل آنے سے ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور اجناس کی قلت نہیں پو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ گندم 42 لاکھ ٹن کے قریب عمومی طور پر حکومت کے پاس موجود ہوتی ہے لیکن وہ بھی ہم نے 82 لاکھ ٹن تک طلب کر لی ہے جس سے ہمارئے پاس وافر ذخیرہ میسر ہو گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کے پی جانے والی اجناس کی مانیٹرنگ ہو رہی ہے، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں صورتحال کو جانچ لیا ہے جبکہ یہ سپلائی کیسے کرنی ہے اس کے لیے کام کیا جاچکا ہے۔