وزیراعلیٰ سندھ کی شام 5 بجے سے دکانیں بند کرنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 27 مارچ 2020

ای میل

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ—اسکرین شاٹ
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ—اسکرین شاٹ

وزیراعلیٰ سندھ نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس کو صوبے میں لاک ڈاؤن مزید سخت کرنے کا کہتے ہوئے شام 5 بجے دکانیں بند کرنے کی ہدایت کردی۔

اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان عبدالرشید چنا نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی ہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں اب رات 8 بجے کے بجائے شام 5 بجے دکانیں بند کی جائیں۔

ان ہدایات کے بعد اب دکانیں شام 5 بجے سے صبح 8 بجے تک بند رہیں گی۔

ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ نے فیصلہ کیا کہ اس بندش کے باوجود میڈیکل اسٹورز 24 گھنٹے کھلے رہیں گے۔

خیال رہے کہ اس وقت صوبے میں لاک ڈاؤن کے باوجود اشیائے خور و نوش کی دکانیں صبح 8 سے رات 8 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت تھی۔

قبل ازیں صوبے کے چیف ایگزیکٹو مراد علی شاہ کی زیر صدارت لاک ڈاؤن سے متعلق ایک اجلاس ہوا، جس میں وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرہ پیچوہو، چیف سیکریٹری ممتاز شاہ، ڈی جی رینجرزسندھ میجر جنرل عمر احمد بخاری، آئی جی پولیس مشتاق مہر، سیکریٹری داخلہ عثمان چاچڑ، کور فائیو کے برگیڈیئر سمیع و دیگر نے شرکت کی۔

کورونا وائرس کے 10 فیصد کیسز مقامی طور پر منتقلی کے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اجلاس کے دوران یہ تھی بتایا کہ صوبے میں کورونا وائرس کے کیسز 10 فیصد مقامی طور پر منتقلی کے ہیں جسے انہوں نے خطرناک ٹرینڈ قرار دیا۔

انہوں نے زور دیا کہ مقامی طور پر منتقلی کے کیسز کو روکنے کے لیے مزید اختیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے نشاندہی کی کہ لاڑکانہ اور سکھر میں موجود متاثرہ افراد، جو زائرین ہیں، کے علاوہ صوبے میں 168 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 102 مقامی طور پر منتقلی کے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ وائرس کی مقامی طور پر منتقلی اب بھی جاری ہے، اس لیے ہمیں مکمل لاک ڈاؤن کرنا ہوگا، بصورت دیگر ہم اس پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام ہوجائیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ لوگوں کو ‘اس معاملے کی سنگینی کو سمجھنا ہوگا’۔

لاک ڈاؤن کو مزید مؤثر کرنا ہوگا، مراد علی شاہ

اجلاس میں لاک ڈاؤن کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ لاک ڈاؤن کو مزید مؤثر کرنا ہے، لوگ ابھی تک شہر میں گھوم رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں 2 ڈاکٹرز میں کورونا کی تشخیص، ملک میں متاثرین 1286ہوگئے

انہوں نے کہا کہ ہم نے خوشی سے نہیں بلکہ تکلیف سے مساجد میں جماعت کو بہت محدود کروایا ہے، میں نے خود گھر میں جمعے کی نماز مسجد سے پیش امام کی آنے والی آواز سے ادا کی۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ مذکورہ فیصلہ عوام کی صحت کے پیش نظر علما کی مشاورت سے کیا گیا۔

دوران گفتگو انہوں نے عوام سے درخواست کی کہ وہ لاک ڈاؤن اور سندھ حکومت کے فیصلوں کا احترام کریں کیونکہ لوگوں کا تعاون عوام کی صحت کا ضامن ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ میں ابھی تک 440 کورونا کیسز ہیں، جس میں 151 سکھر فیز ون، 114 سکھر فیز ٹو اور 7 لاڑکانہ میں رکھے گئے زائرین شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں عوام سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں، خاندان اور صوبے اور ملک کے عوام کی صحت کی خاطر لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کریں، ساتھ ہی پولیس کو لاک ڈاؤن سخت کرنے کی ہدایت کردی۔

خیال رہے کہ ملک میں سب سے پہلے سندھ میں کورونا وائرس کا کیس سامنے آتے ہی صوبائی حکومت کافی متحرک ہوئی تھی اور دیگر صوبوں اور علاقوں کے مقابلے میں بہت سے اقدام پہلے اٹھائے تھے۔

اس اقدام اٹھانے کا مقصد کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم سے کم کرنا اور عوام کا تحفظ تھا۔

اسی سلسلے میں صوبائی حکومت نے سب سے پہلے تعلیمی ادارے بند کیے بعد ازاں جزوی لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔

جس کے کچھ دن بعد ہی صوبے میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے تمام کاروباری مراکز، شاپنگ مالز، سنیما، نجی و سرکاری دفاتر، تفریحی مقامات، پارکس وغیرہ پر پابندی عائد کردی۔

تاہم ان پابندیوں کے باوجود بھی عوام کی کافی تعداد گھروں سے باہر نظر آئی، جس کو دیکھتے ہوئے سندھ حکومت نے ایک مرتبہ پھر رات 8 سے صبح 8 تک لاک ڈاؤن کو مزید سخت کرنے کی ہدایت کی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ و بلوچستان کی طرز پر پنجاب میں بھی نماز کے اجتماعات پر پابندی

ان نئی ہدایات میں رات 8 بجے کے بعد سوائے میڈیکل اسٹورز کے ان دکانوں کو بھی بند کرنے کے احکامات شامل تھے جو صبح کے اوقات میں کھلے ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے سب سے زیادہ سندھ متاثر ہے جہاں مزید نئے کیسز سامنے آنے سے تعداد 440 تک پہنچ چکی ہے۔

ان افراد میں ایک بڑی تعداد ایران سے آنے والے زائرین کی ہے تاہم 164 کیسز ایسے ہیں جو صرف کراچی میں ریکارڈ ہوئے ہیں۔

کراچی میں سامنے آنے والے ان کیسز میں سے 141 کیسز ایسے ہیں جو مقامی سطح پر کورونا وائرس کے منتقل ہونے سے ہوئے ہیں۔