کورونا وائرس سے لڑنے والا بھارتی طبی عملہ مسائل سے دو چار

اپ ڈیٹ 27 مارچ 2020

ای میل

طبی عملے، ڈیلیوری ڈرائیورز اور دیگر فرنٹ لائن ورکرز کو انفیکشن کے خوف سے گھروں سے نکالا جارہا ہے — فائل فوٹو:اے ایف پی
طبی عملے، ڈیلیوری ڈرائیورز اور دیگر فرنٹ لائن ورکرز کو انفیکشن کے خوف سے گھروں سے نکالا جارہا ہے — فائل فوٹو:اے ایف پی

بھارت میں کورونا وائرس سے لڑنے والے ڈاکٹر، نرسز یا اس وبا کے دوران گھروں پر سہولیات فراہم کرنے والے ڈرائیوروں سمیت دیگر فرنٹ لائن ورکرز مسائل کا شکار ہیں اور چند کیسز میں انہیں مقامیوں کی جانب سے گھروں سے بھی بے دخل کردیا گیا۔

چند ای کامرس کمپنیوں نے اسٹاف کو ہراساں کیے جانے پر اپنی سروسز روک دی ہیں جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ہسپتال کے ملازمین کے ساتھ تشدد ایک ’بڑا مسئلہ‘ بن گیا ہے۔

حملوں کی رپورٹس اور تشدد کے واقعات پورے بھارت میں سامنے آرہے ہیں، رواں ہفتے ملک بھر میں 21 روز کے لاک ڈاؤن کے آغاز کے ساتھ اس میں مزید اضافہ ہوا ہے جبکہ ایک کیس میں پولیس پر ادویات فراہم کرنے والے ڈرائیور پر تشدد کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کورونا وائرس سے کیسے بچ سکتا ہے؟ اعداد و شمار سے جانیے

مغربی شہر صورت کی ایک ڈاکٹر سنجی بانی پانیگراہی کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے میں طویل دن گزارنے کے بعد جب وہ گھر واپس لوٹیں تو انہیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ پڑوسیوں نے اپارٹمنٹ کے دروازے پر روکا اور کام جاری رکھنے پر ’نتائج بھگتنے‘ کی دھمکیاں دیں۔

36 سالہ ڈاکٹر نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ وہی لوگ ہیں جو ماضی میں جب انہیں کوئی مسئلہ ہوتا تھا تو مجھ سے رابطہ کرتے تھے اور میں ان کی مدد کرتی تھی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عوام میں خوف پایا جاتا ہے، مجھے سمجھ نہیں آتا مگر یہ ایسا ہے جیسے کوئی اچانک اچھوت ہوگیا ہے‘۔

رواں ہفتے آل انڈیا میڈیکل سائنسز کے ڈاکٹروں نے حکومت سے صحت رضاکاروں کو ان کے مالک مکانوں اور سوسائٹیز کی جانب سے گھروں سے نکالے جانے پر مدد کی اپیل کی۔

ایک خط میں ان کا کہنا تھا کہ ’کئی ڈاکٹر اپنے سامان کے ساتھ سڑکوں پر آگئے ہیں اور ان کے پاس ملک بھر میں کہیں بھی جانے کے لیے جگہ نہیں ہے‘۔

نریندر مودی نے تمام بھارتیوں کو صحت ورکرز کے ساتھ پرائے جیسا سلوک کرنے سے منع کیا اور کہا کہ وائرس سے لڑنے والے ’خدا کے جیسے‘ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آج یہی لوگ اپنی جان خطرے میں ڈال کر مرنے والوں کو بچا رہے ہیں‘۔

جھوٹی خبریں اور خوف

جھوٹی خبروں اور افواہوں کے اس ماحول میں صرف صحت ورکرز ہی خوفزدہ آبادی کے سخت رویے کا سامنا نہیں کر رہے۔

ایئرلائن اور ایئرپورٹ اسٹاف جو بیرون ملک پھنسے بھارتیوں کو نکالنے کا کام کر رہے ہیں اور مرکزی کارگو ڈیلیور کرنے والوں کو بھی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

بھارتی پرواز ایئر انڈیا اور انڈیگو نے اپنے اسٹاف کو موصول ہونے والی دھمکیوں کی مذمت کی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کورونا وائرس کے پہلے مریض کی آپ بیتی

ایئر انڈیا کی فلائیٹ اٹینڈنٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ جب وہ امریکا کے لیے جارہی تھیں تو ان کے پڑوسیوں نے انہیں اپارٹمنٹ خالی کرنے کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ وہ ’سب کو وائرس لگادیں گی‘۔

انہوں نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’میں اس رات سو نہیں سکی تھی، مجھے خوف تھا کہ اگر میں گھر گئی بھی تو کوئی میرا دروازہ توڑ کر لوگوں کو مجھے گھر سے نکالنے کا کہے گا‘۔

ان کے شوہر کو پولیس سے مدد طلب کرنی پڑی تھی۔

فلائیٹ اٹینڈنٹ کا کہنا تھا کہ ’دیگر اتنے خوش قسمت نہیں ہوتے‘ ان کی ایک ساتھی جس نے اے ایف پی سے بات کرنے سے انکار کردیا تھا، کو اس کے گھر سے زبردستی نکال دیا گیا اور وہ اب اپنے والدین کے ساتھ رہ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جھوٹی خبریں اور واٹس ایپ پیغامات کے ساتھ یہ لوگ جانتے ہی نہیں کہ ہو کیا رہا ہے اور خوف انہیں اس طرح کا رویہ اپنانے پر مجبور کرتا ہے‘۔

انڈین کمرشل پائلٹس ایسوسی ایشن کی جنرل سیکریٹری پراوین کیرتھی نے بتایا کہ انہیں ایئرلائن عملے کی جانب سے 50 سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایئرلائن کے ملازمین کو سیکیورٹی گارڈز ان کی اپنی رہائش گاہ میں جانے سے روک رہے ہیں‘۔

بھارت کی ای کامرس کمپنی فلپ کارٹ نے رواں ہفتے اپنی سروسز عارضی طور پر معطل کردیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ گھروں پر سامان پہنچانے کی سروسز اس وقت بحال کریں گے جب پولیس انہیں ضمانت دے گی۔