کورونا وائرس: ترقی پذیر ممالک کی آمدن میں 22 کروڑ ڈالر کا نقصان متوقع

اپ ڈیٹ 01 اپريل 2020

ای میل

اقوا متدہ کے مطابق 55 فیصد عالمی آبادی کو معاشرتی تحفظ تک رسائی حاصل نہیں ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
اقوا متدہ کے مطابق 55 فیصد عالمی آبادی کو معاشرتی تحفظ تک رسائی حاصل نہیں ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس (کووڈ- 19) کے بڑھتے ہوئے بحران کے تناظر میں ترقی پذیر ممالک کی آمدن میں 22 کروڑ ڈالر سے زائد کے نقصان کی توقع کی جارہی ہے۔

اقوام متحدہ کے ڈیولپمنٹ پروگرام کی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ اس بحران سے ترقی پذیر ممالک کو نہ صرف قلیل مدت میں صحت کے بحران بلکہ آنے والے مہینوں اور سالوں کے دوران تباہ کن معاشرتی اور معاشی بحران کے طور پر غیر متناسب طور پر متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

مزید پڑھیں: عالمی بینک نے داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 70 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی

ایک اندازے کے مطابق 55 فیصد عالمی آبادی کو معاشرتی تحفظ تک رسائی حاصل نہیں ہے، یہ نقصان معاشروں میں پھر سے پھیل کر تعلیم، انسانی حقوق کو متاثر کرے گا اور انتہائی سنگین صورتحال میں بنیادی غذائی تحفظ اور غذا کا بھی مسئلہ ہو جائے گا۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام میں کہا گیا کہ کم سہولیات کے حامل ہسپتالوں اور صحت کے ناقص نظام پر اس کے حاوی ہونے کا امکان ہیں، اس سلسلے میں کیسز میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ کم از کم ترقی یافتہ ممالک میں 75 فیصد لوگوں کو صابن اور پانی کی سہولیات کا فقدان ہے۔

اضافی سماجی حالات جیسے کچھ شہروں میں شہری منصوبہ بندی اور زیادہ آبادی، فضلہ ضائع کرنے کی ناقص سروسز اور یہاں تک کہ صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات تک رسائی میں رکاوٹوں کی وجہ سے ٹریفک کی بھیڑ سمیت تمام معاملات کیسز میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ملک بھر کے ایئرپورٹ پر صفائی کا عمل شروع

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے منتظم اچیم اسٹینر نے کہا کہ یہ وبائی بیماری صحت کا بحران ہے لیکن صرف صحت کا بحران نہیں دنیا کے وسیع و عریض علاقوں میں وبائی مرض گہرے داغ چھوڑ دے گا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی حمایت کے بغیر ہم گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بڑے پیمانے پر ہونے والے فوائد کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور اگر زندگی میں نہیں تو کم از کم حقوق، مواقع اور وقار کے معاملے میں پوری نسل کھو گئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ساتھ کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام مختلف ملکوں کی کورونا وائرس کے خلاف تیاری، اس سے نمٹنے اور صحتیابی میں مدد کر رہا ہےاور اس کی توجہ سب سے زیادہ کمزور اور متاثر ہونے والے ملکوں پر مرکوز ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں 2071 افراد کورونا وائرس سے متاثر، اموات 27 تک پہنچ گئیں

یو این ڈی پی پہلے ہی بوسنیا اور ہرزی گووینیا، چین، جبوتی، ایل سلواڈور، اریٹیریا، ایران، کرغزستان، مداغاسکر، نائیجیریا، پیراگوئے، پاناما، سربیا، یوکرین اور ویتنام سمیت متعدد ممالک میں صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

موجودہ وسائل سے مالی اعانت اور ابتدائی 2 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی بدولت یو این ڈی پی کی زیر قیادت COVID-19 ریپڈ رسپانس سہولت پہلے ہی شروع کی جاچکی ہے، یہ سہولت فاسٹ ٹریک میکانزم کے ذریعے فراہم کی جارہی ہے تاکہ یو این ڈی پی کی ٹیموں کو ان کے قومی ردعمل کے لیے فوری طور پر امداد کی پیش کش کی جاسکے۔

یو این ڈی پی نے تخمینہ لگا ہے کہ 100ممالک کی مدد کے لیے کم از کم 50 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہو گی۔

یو این ڈی پی نے عالمی برادری کو کووڈ 19 کے فوری اثر سے ہٹ کر سوچنے کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، اس تنظیم نے تین ترجیحی کارروائیوں کی ضرورت پر زور دیا ہے جس میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں امدادی وسائل، وبا کے دوران خود ہی ردعمل دینے میں مدد اور ترقی پذیر ممالک کی معاشی تباہی کو روکنے کے لیے وسائل کا انتظام کرنا شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں نجی اسکولوں کو فیسوں میں 20 فیصد کمی کی ہدایت

فوری ردعمل کے طور پر یو این ڈی پی چین اور دیگر ایشیائی ممالک کو اپنے صحت کے نظام کو مستحکم کرنے کے لیے مدد فراہم کر رہا ہے، اس میں ان کو بہت ضروری طبی سامان کی فراہمی، بیعانہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیوں اور صحت کے کارکنوں کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا شامل ہے۔

اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام ممالک کے ساتھ مل کر کووڈ 19 کے معاشرتی اور معاشی اثرات کا جائزہ لے گا اور طویل مدتی اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے فوری طور پر بحالی کے اقدامات کرے گی۔