پنجاب میں نجی اسکولوں کو فیسوں میں 20 فیصد کمی کی ہدایت

اپ ڈیٹ 01 اپريل 2020

ای میل

پنجاب کے وزیر تعلیم مراد راس نے صوبے کے تمام نجی اسکولوں کو حالیہ بندش کو گرمیوں کی چھٹی قرار دیے جانے پر فیسوں میں 20 فیصد کمی کرنے کی ہدایت دے دی - فائل فوٹو:رائٹرز
پنجاب کے وزیر تعلیم مراد راس نے صوبے کے تمام نجی اسکولوں کو حالیہ بندش کو گرمیوں کی چھٹی قرار دیے جانے پر فیسوں میں 20 فیصد کمی کرنے کی ہدایت دے دی - فائل فوٹو:رائٹرز

لاہور: پنجاب کے وزیر تعلیم مراد راس نے صوبے کے تمام نجی اسکولوں کو کورونا وائرس کے باعث حالیہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسکولوں کی بندش کو گرمیوں کی تعطیلات قرار دیے جانے پر فیسوں میں 20 فیصد کمی کرنے کی ہدایت دے دی۔

قبل ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے مراد راس کی سربراہی میں دو رکنی ٹیم تشکیل دی تھی جس میں پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت بھی شامل تھے جس کا کام نجی اسکولوں کے مالکان سے ملاقات کرکے ان سے کورونا وائرس وبا کے دوران اسکول کی بندش پر فیس سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق منگل کے روز دونوں وزرا نے نجی اسکول کے مالکان سے ملاقات کی جس میں اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے سیکریٹری شہریار سلطان، ضلعی محکمہ تعلیم کے پرویز اختر اور نجی اسکولوں کے مالکان نے شرکت کی تھی۔

وزرا نے کہا کہ حکومت نے تمام اسکولوں کو کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بند کیا تھا تاہم بعد ازاں اسے گرمیوں کی تعطیلات قرار دے دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نجی اسکولوں کو اپریل اور مئی کی اپنی فیسوں میں سے 20 فیصد کم کرنا چاہیے تاکہ والدین کی تشویش کو دور کیا جاسکے۔

انہوں نے اسکول مالکان کو اس بات کی بھی یقین دہانی کرانے کا کہا ہے کہ کوئی بھی ٹیچر لاک ڈاؤن کے دوران نوکری سے نہیں نکالا جائے گا۔

حکومت نجی اسکولوں کی فیسوں کے معاملے پر توجہ اس لیے دے رہی تھی کیونکہ اکثر اسکول لاک ڈاؤن کے نتیجے میں بند کیے جانے کے باوجود والدین کو اپنے بچوں کی ماہانہ ٹیوشن فیس ادا کرنے کی تاکید کر رہے تھے تاکہ ان کے عملی اخراجات پورے کیے جاسکیں۔

متعدد اسکول انتظامیہ کی جانب سے والدین کو متنبہ کیا جارہا ہے کہ وہ فیس ادا کریں یا ان کے بچوں کو نظرثانی پیکج کی شکل میں کوئی تعلیمی تعاون حاصل نہیں ہوگا اور انہیں مستقبل میں بھی کلاسوں میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

والدین ایکشن کمیٹی (پی اے سی) کے ممبران نے کہا کہ اسکول پہلے ہی فیس پر عدالت کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کر رہے ہیں اور فیسوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ان کے بچوں کو رزلٹ کارڈز جاری نہیں کیے گئے ہیں۔

ایک رکن نے کہا کہ ‘ہمیں انتباہ کیا جارہا ہے کہ اگر ہم فیس ادا کرنے میں ناکام ہوگئے تو ہمارے بچوں کو اگلی کلاس میں ترقی نہیں دی جائے گی‘۔