عالمی ادارہ صحت، چینی ماہرین کی تجاویز کے برعکس ہوم آئیسولیشن کی ہدایات

اپ ڈیٹ 10 اپريل 2020

ای میل

سینئر عہدیدار کے مطابق 5 صفحات پر مشتمل رہنما ہدایات عام مریض کی سمجھ سے بالاتر ہے—فائل فوٹو: ڈان
سینئر عہدیدار کے مطابق 5 صفحات پر مشتمل رہنما ہدایات عام مریض کی سمجھ سے بالاتر ہے—فائل فوٹو: ڈان

لاہور: وفاقی حکومت نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور پاکستان کا دورہ کرنے والے چینی ماہرین صحت کی تجاویز کے خلاف صوبوں کو جاری کردہ رہنما ہدایات میں کووِڈ 19 کے مصدقہ کیسز کو گھروں میں ہی آئیسولیٹ کرنے کی ہدایت کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق تجاویز میں کہا گیا کہ صرف تشویشناک مریضوں کا علاج ہسپتالوں میں کیا جائے اور اس بات پر زور دیا کہ معمولی علامتوں والے مریضوں کو گھر میں ہی آئیسولیٹ کیا جائے۔

محکمہ صحت کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق 5 صفحات پر مشتمل رہنما ہدایات عام مریض کی سمجھ سے بالاتر ہے جس میں زیادہ تر کم تعلیم یافتہ یا ناخواندہ ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں چینی ماہرین نے وائرس کے مصدقہ مریضوں کو گھر میں آئیسولیٹ کرنے کی تجویز کو مسترد کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس سرجیکل ماسک پر 7 دن تک زندہ رہ سکتا ہے، تحقیق

اسی طرح عالمی ادارہ صحت نے بھی وائرس سے متاثرہ افراد کو صحت کی سہولیات کے حامل مقامات پر رکھنے کی تجویز دی تھی۔

چینی وفد نے مقامی ماہرین کو بتایا تھا کہ ووہان میں بھی ڈاکٹروں نے یہی غلطی کی تھی اور وبا کے آغاز میں مصدقہ مریضوں کو گھروں میں رکھا تھا جس سے وائرس کی صورتحال بگڑی۔

دوسری جانب وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ صوبائی حکومتیں اس کی ہدایات پر من و عن عملدرآمد کریں۔

ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ مذکورہ معاملہ حکومت پنجاب کے کئی اعلیٰ سطح کے اجلاس میں زیر غور آیا اور ماہرین نے وفاقی حکومت کی ہدایات کو ’متنازع اور خطرناک‘ قرار دیا۔

انہوں نے کچھ کیسز کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گھروں میں آئیسولیشن کے دوران کچھ مریضوں نے نجی تقریبات بھی منعقد کیں اور رشتہ داروں سے ملاقات کر کے صحت مند لوگوں میں وائرس بھی منتقل کیا۔

مزید پڑھیں: نیا کورونا وائرس دل کی صحت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے؟

ماہرین نے گجرات کے ایک کیس کا حوالہ دیا جس میں بیرونِ ملک سے آنے والے وائرس کے 4 مصدقہ کیسز نے 40 سے زائد صحت مند افراد کو وائرس منتقل کیا۔

اسی طرح کے کیسز تبلیغی جماعت کے اراکین میں بھی پائے گئے جب وہ رائیونڈ سے سالانہ اجتماع کے بعد اپنے گھروں کو واپس گئے تو متعدد کیسز سامنے آئے۔

عہدیدار نے بتایا کہ حکومت پنجاب مریضوں کی گنجائش کے سلسلے میں سنجیدہ کوششیں کررہی ہے اور لاہور میں ایک ہزار بستروں پر مشتمل فیلڈ ہسپتال بھی قائم کیا گیا جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بڑے سرکاری ہسپتالوں میں بستر مختص کرنے کے ساتھ قرنطینہ مراکز بھی قائم کیے جارہے ہیں۔

خیال رہے کہ وزارت قومی صحت نے 26 مارچ کو ’ہوم آئیسولیشن ڈیورِنگ کووِڈ 19 آؤٹ بریک‘ کے عنوان سے 40 صفحات پر مشتمل رہنما ہدایات جاری کی تھیں۔

بعدازاں 2 اپریل کو اس میں تبدیلی کرتے ہوئے مصدقہ مریضوں کو گھر پر آئیسولیٹ کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کیا متعدد افراد میں کورونا وائرس کے خلاف مزاحمت پیدا ہوچکی ہے؟

عہدیدار نے بتایا کہ چینی ماہرین نے وائرس پر قابو پانے کے لیے اپنے تجربات سے آگاہ کیا اور ان کے ساتھ معمولی یا معتدل علامتوں والے مریضوں کو گھروں پر آئیسولیٹ کرنے کے معاملے پر بات چیت ہوئی جس کا تعلیم یافتہ اور متمول گھرانے مطالبہ کررہے ہیں۔

چینی ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ اگر آئیسولیشن کے حوالے سے ایس او پیز پر عمل نہ کیا گیا تو وائرس کے پھلنے کا خطرہ موجود ہے اور وائرس مزید پھیل کر اہلِ خانہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔

اس حوالے سے ڈان نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا تاہم انہوں نے فون کالز یا ٹیکسٹ میسجز کا جواب نہیں دیا۔