پنجاب میں کووِڈ 19 کے مریضوں کے علاج کیلئے دوا منظور

اپ ڈیٹ مئ 28 2020

ای میل

دوا کی ایک خوراک (انجیکشن) کی قیمت 60 ہزار روپے ہے —تصویر: شٹر اسٹاک
دوا کی ایک خوراک (انجیکشن) کی قیمت 60 ہزار روپے ہے —تصویر: شٹر اسٹاک

لاہور: حکومت پنجاب نے صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں کووِڈ 19 کے باعث اموات میں اچانک اضافے کو دیکھتے ہوئے اس سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے لیے ایکٹیمرا (Actemra) نامی زندگی بچانے والی دوا کے استعمال کی منظوری دے دی۔

400 ملی گرام کی انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی یہ دوا ان مریضوں کو تجویز کی جائے گی جنہیں پھیپھڑوں کی پیچیدگیاں لاحق ہوں اور خون میں آئی ایل-6 کی سطح غیر معمولی ہو، خیال رہے کہ آئی ایل-6 ایک ایسا کیمیکل ہے جو سوزش کا سبب بنتا ہے۔

اس حوالے سے ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ ’دوا کی ایک خوراک (انجیکشن) کی قیمت 60 ہزار روپے ہے جو انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں زندگی کی تشوشیناک حالت میں داخل مریضوں کو 2 مرتبہ دی جائے گی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ فیصلہ وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وبا: پاکستان میں کیسز کی تعداد 60 ہزار سے زائد، اموات 1239 ہوگئیں

ساتھ ہی محکمہ صحت نے لاہور میں سرکاری تربیتی ہسپتالوں کو اس دوا کی 20 خوراکیں خریدنے کی اجازت بھی دے دی۔

اجلاس میں میڈیکل یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز، میڈیکل کالجز کے پرنسپل، حکومت کے کورونا ایڈوائزری گروپ (سی ای اے جی) کے اراکین، ماہر امراض سانس اور میڈیسن کے پروفیسرز بھی موجود تھے۔

لاہور کے میو ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر اسد اسلم خان نے اس دوا کے آئی سی یو میں زیر علاج تشویشناک مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کے حوالے سے ایک تحقیق پیش کی۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے ہسپتال میں ڈاکٹروں نے کورونا وائرس کے ان مریضوں کو یہ دوا تجویز کی جن کے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا یا انہیں شدید نمونیا تھا جس کے نتیجے میں صحتیابی کی شرح 80 سے 90 فیصد رہی۔

مزید پڑھیں: ایبٹ آباد: ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ڈاکٹرز سمیت عملے کے 28 ارکان میں کورونا کی تصدیق

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جن مریضوں پر یہ دوا استعمال کی گئی ان میں شاہدرہ ٹیچنگ ہسپتال کے ایسوسی ایٹ پروفیسر برائے میڈیسن اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے پرسنل اسٹاف آفیسر شامل تھے۔

دونوں مریض میو ہسپتال میں زیر علاج تھے اور دوا کا اثر اتنا ہوا کہ نہ صرف وہ صحتیاب ہوئے بلکہ آئی سی یو سے بھی نکل گئے۔

دوا کی توثیق

دوسری جانب میڈیکل اداروں کے سربراہان نے بھی ایکٹیمرا کے استعمال کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ہسپتالوں میں اسے کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

اجلاس میں ماہرین صحت کو بتایاگیا کہ نمونیا کا شکار کووِڈ مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے جس سے پنجاب میں اموات کی شرح بڑھ رہی ہے۔

اجلاس کے دوران صوبے میں آئی سی یو کی سہولت کی توسیع کا ایک اور اہم فیصلہ بھی کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس سے متاثر افراد بھی دوبارہ اس کا شکار نہیں ہوتے، تحقیق

صوبے میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں متوقع اضافے کے پیشِ نظر ٹیچنگ ہسپتالوں کے سربراہان کو آئی سی یو اور ہائی ڈپینڈینسی یونٹس میں بستروں کی گنجائش میں اضافہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اس کے علاوہ انہیں وینٹی لیٹرز کی تعداد میں 31 مئی تک 200 اور آئندہ ماہ کے اختتام تک 400 کا اضافہ کرنے کا بھی کہا گیا۔


یہ خبر 28 مئی 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔