ڈینیئل پرل کیس: حکومت سندھ کو درخواست کے ساتھ مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ جون 02 2020

ای میل

جسٹس منظور عالم نے یہ ریمارکس دیے کہ حکومت کو شواہد کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا کہ ڈینیئل پرل کو اغوا کیا گیا—فائل فوٹو: ڈان
جسٹس منظور عالم نے یہ ریمارکس دیے کہ حکومت کو شواہد کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا کہ ڈینیئل پرل کو اغوا کیا گیا—فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے حکومت سندھ کو ڈینیئل پرل کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست کے ساتھ تمام تر شواہد پر مشتمل مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

عدالت میں ڈینیئل پرل قتل کیس سے عمر شیخ اور دیگر 3 ملزمان کی بریت کے خلاف حکومت سندھ کی دائر کردہ 3 جبکہ مقتول صحافی کے والدین کی دائر کردہ 2 درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ڈینیئل پرل کے والدین روتھ اور جوڈے پرل کی نمائندگی کرنے والے وکیل فیصل صدیقی کو بھی ہر پہلو سے کیس کی ہسٹری کا مکمل ریکارڈ تیار کرنے کی ہدایت کی۔

جسٹس منظور عالم نے سندھ حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکیل فاروق ایچ نائیک اور پراسیکیوٹر جنرل سندھ ڈاکٹر فیاض شاہ کو تمام دستاویزات کے ساتھ پیپر بک مکمل کرنے کی ہدایت کی جس میں کئی دستاویزات موجود نہیں تھیں۔

جسٹس منظور عالم نے یہ ریمارکس دیے کہ حکومت کو شواہد کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا کہ ڈینیئل پرل کو اغوا کیا گیا، اغوا سے متعلق سازش تیار کی گئی اور ملزم نے اسے قتل کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈینیئل پرل کیس کی جلد سماعت کیلئے سندھ حکومت کی سپریم کورٹ میں درخواست

خیال رہے 2 اپریل کو سندھ ہائی کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد قتل کے مقدمے میں 4 ملزمان کی سزا کے خلاف دائر کردہ اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور جبکہ عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔

مذکور فیصلے کو حکومت سندھ نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس کے لیے پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے تین درخواستیں دائر کی تھی جن میں سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے اور ملزمان کی سزائیں بحال کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

دورانِ سماعت عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ فیصلہ معطل کرنے کے لیے دائر کردہ درخواست میں غیر متعلقہ دفعات کا حوالہ دیا گیا۔

مزید پڑھیں: ڈینیئل پرل قتل کیس: سندھ حکومت نے فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

جس پر سندھ حکومت نے ٹرائل کورٹ کا ریکارڈ جمع کروانے کے لیے سپریم کورٹ سے مہلت طلب کی چنانچہ سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی۔

اب اس کیس کی سماعت عدالتی چھٹیوں کے بعد ہونے کی توقع ہے جو عموماً اکتوبر کے پہلے ہفتے تک اختتام پذیر ہوتی ہیں۔

ڈینیئل پرل قتل کیس

یاد رہے کہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کراچی میں مذہبی انتہا پسندی پر تحقیق کررہے تھے جب انہیں جنوری 2002 میں اغوا کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

سال 2002 میں امریکی قونصل خانے کو بھجوائی گئی ڈینیئل پرل کو ذبح کرنے کی گرافک ویڈیو کے بعد عمر شیخ اور دیگر ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ڈینیئل پرل قتل کیس میں رہا ہونے والے ملزمان 3 ماہ کیلئے زیرحراست

بعد ازاں حیدرآباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے شیخ عمر اور دیگر ملزمان کو اغوا اور قتل کا مرتکب ہونے پر سزا ملنے کے بعد ملزمان نے 2002 میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے، دلائل سننے کے بعد ملزمان کی 18 سال سے زیر التوا اور حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیلوں پر سماعت کی تھی اور مارچ میں فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے 2 اپریل کو سنایا گیا۔

عدالت نے مقدمے میں نامزد 4 ملزمان کی سزا کے خلاف دائر کردہ اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور جبکہ عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔

فیصلے کے خلاف سندھ حکومت کی درخواست

واضح رہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ وال اسٹریٹ جنرل کے صحافی کی قتل کی ویڈیو کی ایک سرکاری عہدیدار (پی ٹی وی کے ایک ماہر) سے تصدیق کروائی گئی تھی جبکہ اسے کبھی چیلنج نہیں کیا گیا۔

چنانچہ جمع شدہ ثبوتوں اور خاص کر ملزم اور شریک ملزمان کے اعترافی بیانات کے تناظر میں ہائی کورٹ کی جانب سے سزا میں تبدیلی اور بریت پائیدار نہیں اور اسے کالعدم ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں: ڈینیئل پرل کیس: عمر شیخ کی سزائے موت 7 سال قید میں تبدیل، 3 ملزمان رہا

اسی طرح فطری اور آزاد شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تاوان کا مطالبہ ملزم نے ہی کیا تھا اور ڈاکیومینٹری ثبوت سے یہ بات ثابت بھی ہوئی چنانچہ سزا میں تبدیلی اور بریت غیر قانونی ہے۔

اپیل میں کہا گیا تھا کہ ملزم ایسا کوئی مواد پیش نہیں کرسکا جو پروسیکیوشن کے ثبوتوں کے خلاف شک پیدا کرتا بلکہ شریک ملزمان نے ریمانڈ کے دوران ٹرائل جج کے سامنے اپنا جرم قبول کیا۔

عدالت عظمیٰ میں دائر اپیل میں کہا گیا تھا کہ ہائی کورٹ اس کیس کے سنگین عوامل سمجھنے میں ناکام رہی جبکہ ملزم اور شریک ملزمان کی بریت اور سزائے موت میں تبدیلی کا فیصلہ انصاف کا قتل اور عدالت عظمیٰ کے طے کردہ اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔