ڈینیئل پرل قتل کیس میں رہا ہونے والے ملزمان 3 ماہ کیلئے زیرحراست

اپ ڈیٹ 03 اپريل 2020

ای میل

وال اسٹریٹ جرنل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کو جنوری 2002 میں کراچی میں اغوا کے بعد قتل کیا گیا تھا—فائل فوٹو: ڈان
وال اسٹریٹ جرنل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کو جنوری 2002 میں کراچی میں اغوا کے بعد قتل کیا گیا تھا—فائل فوٹو: ڈان

محکمہ داخلہ سندھ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد قتل کے مقدمے سے رہا ہونے والے ملزمان کو مزید 3 ماہ کے لیے دوبارہ حراست میں لے لیا۔

سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) نے سندھ حکومت کو خط لکھا تھا جس میں ملزمان کی رہائی سے نقصِ امن کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

خیال رہے گزشتہ روز سندھ ہائی کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد قتل کے مقدمے میں 4 ملزمان کی دائر کردہ اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور کرلیں جبکہ عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔

ڈی آئی جی کے خط کے جواب میں صوبائی محکمہ داخلہ سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ڈینیئل پرل قتل کیس کے ملزم احمد عمر شیخ اور شریک ملزمان فہد نسیم، سید سلمان ثاقب اور شیخ محمد عادل اپیلیں سندھ ہائی کورٹ نے منظور کی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈینیئل پرل کیس: عمر شیخ کی سزائے موت 7 سال قید میں تبدیل، 3 ملزمان رہا

نوٹیفکیشن کے مطابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل سی آئی اے نے آگاہ کیا تھا کہ مذکورہ ملزمان کی رہائی سے امن و عامہ کی صورتحال سنگین ہوسکتی ہے اور تجویز دی تھی کہ ملزمان کو مزید 3 ماہ تک قید رکھا جائے۔

چنانچہ گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے کیس کی نوعیت اور ڈی آئی جی کی درخواست کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ گرفتار ملزمان کی رہائی سے عوام کے تحظ کی صورتحال خراب ہونے کا اندیشہ ہے کیوں کہ وہ ملکی مفاد کے خلاف کام کرسکتے ہیں۔

لہٰذا گورنر سندھ نے ویسٹ پاکستان پبلک آرڈیننس 1960 کے تحت اختیارات کا استعمال کرتےہوئے ملزمان کی دوبارہ گرفتاری اور گرفتاری کی تاریخ سے 3 ماہ تک کے لیے زیر حراست رکھنے کا حکم دیا۔

محکمہ داخلہ کے اعلامیہ کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کراچی سینٹرل جیل کے سینئر سپرنٹنڈٹ کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔

ڈینیئل پرل قتل کیس

یاد رہے کہ وال اسٹریٹ جرنل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کو جنوری 2002 میں کراچی میں اس وقت اغوا کر کے قتل کردیا گیا تھا جب وہ مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے ایک مضمون پر کام کررہے تھے۔

مزید پڑھیں: امریکا کی ڈینیئل پرل قتل کیس کے فیصلے پر تنقید

جس پر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

بعد ازاں حیدرآباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے شیخ عمر اور دیگر ملزمان کو اغوا اور قتل کا مرتکب ہونے پر سزا ملنے کے بعد ملزمان نے 2002 میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے، دلائل سننے کے بعد ملزمان کی 18 سال سے زیر التوا اور حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیلوں پر سماعت کی تھی اور گزشتہ ماہ فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

عدالت میں ملزمان کے وکلا رائے بشیر اور خواجہ نوید احمد نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ استغاثہ ان کے موکل کے خلاف کیس ثابت کرنے میں بری طرح ناکام ہوا اور استغاثہ کے زیادہ تر گواہ پولیس اہلکار تھے جن کی گواہی پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔

ملزمان کے وکلا کا مزید کہنا تھا کہ اپیل کنندہ نسیم اور عادل شیخ پر ای میلز اور میسیجز کے ساتھ لیپ ٹاپ کمپیوٹر کی برآمدگی زبردستی ظاہر کی گئی جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے ان کے اعترافی بیانات میں بھی جھول ہیں اور وہ رضاکارانہ طور پر نہیں دیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈینئیل پرل کے قاتلوں کو رہا کروانے کا منصوبہ ناکام

وکلا کا مزید کہنا تھا کہ مدعی نسیم سے 11 فروری 2002 کو لیپ ٹاپ کمپیوٹر کی برآمدگی ظاہر کی گئی جبکہ کمپیوٹر ماہر رونلڈ جوزف نے کہا تھا کہ انہیں 4 فروری کو کمپیوٹر ویریفکیشن کے لیے دیا گیا تھا جس کے بعد 6 روز تک انہوں نے لیپ ٹاپ کا جائزہ لیا تھا۔

وکلا کا کہنا تھا کہ اس قسم کے ثبوتوں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا جبکہ عدالت سے استدعا کی تھی کہ ملزمان کی سزا کالعدم قرار دی جائے۔

لہٰذا 2 اپریل کو سندھ ہائی کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد قتل کے مقدمے میں 4 ملزمان کی دائر کردہ اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور کرلیں تھیں جبکہ مرکزی ملزم عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔

بینچ نے اپنے فیصلے میں 3 ملزمان کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا جبکہ مجرم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کیا تھا۔

مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ کیونکہ پچھلے 18 سالوں سے جیل میں تھے لہٰذا ان کی 7 سال کی سزا پورے وقت سے شمار کی گئی تھی اور اس وجہ سے ان کی رہائی بھی متوقع تھی۔