ڈینیئل پرل قتل کیس: سندھ حکومت نے فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

اپ ڈیٹ 29 اپريل 2020

ای میل

درخواست کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے میں سقم ہیں  — فائل فوٹو / ڈان
درخواست کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے میں سقم ہیں — فائل فوٹو / ڈان

سندھ حکومت نے صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس کا سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔

پراسیکیوٹر جنرل سندھ کی جانب سے دائر کی گئی تین درخواستوں میں سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے اور ملزمان کی سزائیں بحال کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے میں سقم ہیں، ہائی کورٹ نے اخباری تراشوں پر انحصار کیا اور ملزمان کو ریلیف دیا حالانکہ اخباری تراشوں میں ملزم احمد عمر شیخ کا جرم کا اعتراف ظاہر ہوتا ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ نے ملزمان کا کالعدم تنظیموں سے تعلق کا بھی جائزہ نہیں لیا جبکہ ملزمان کا ماضی داغدار ہونے کا جائزہ بھی نہیں لیا گیا۔

یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے 2 اپریل کو امریکی صحافی ڈینیل پرل کے اغوا کے بعد قتل کے مقدمے میں 4 ملزمان کی دائر کردہ اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور کرلیں جبکہ عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔

صوبائی دارالحکومت میں عدالت عالیہ کے جسٹس محمد کریم خان آغا کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے، دلائل سننے کے بعد ملزمان کی 18 سال سے زیر التوا اور حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیلوں پر سماعت کی تھی اور گزشتہ ماہ فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈینیل پرل قتل کیس میں رہا ہونے والے ملزمان 3 ماہ کیلئے زیرحراست

بینچ نے اپنے فیصلے میں 3 ملزمان کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا جبکہ مجرم احمد عمر سعید شیخ المعروف عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ڈینیل پرل کے اغوا کے بعد قتل کیے جانے کے کیس میں 4 ملزمان کی سزا ختم کیے جانے کی مذمت کی تھی۔

اس حوالے سے جاری بیان میں عدالت کے فیصلے کو ’ہر جگہ دہشت گردی سے متاثر ہونے والے افراد کی توہین‘ قرار دیا گیا تھا۔

میڈیا کی نگرانی کرنے والی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے بھی ڈینیل پرل کیس میں عدالت کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں صحافیوں کے خلاف تشدد کے جرائم سے معافی کی علامت کے طور پر قائم رہے گا۔

محکمہ داخلہ سندھ نے 3 اپریل کو کیس سے رہا ہونے والے ملزمان کو مزید 3 ماہ کے لیے دوبارہ حراست میں لے لیا تھا۔

سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) نے سندھ حکومت کو خط لکھا تھا جس میں ملزمان کی رہائی سے نقصِ امن کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے 4 اپریل کو کہا تھا کہ سندھ حکومت نے ڈینیل پرل قتل کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اب یہ متعلقہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ وہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہیں یا کالعدم قرار دیتے ہیں۔

ڈینیل پرل قتل کیس

یاد رہے کہ وال اسٹریٹ جرنل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیل پرل کو جنوری 2002 میں کراچی میں اس وقت اغوا کر کے قتل کردیا گیا تھا جب وہ مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے ایک مضمون پر کام کررہے تھے۔

جس پر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

بعد ازاں حیدرآباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے شیخ عمر اور دیگر ملزمان کو اغوا اور قتل کا مرتکب ہونے پر سزا ملنے کے بعد ملزمان نے 2002 میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

مزید پڑھیں: امریکا کی ڈینیل پرل قتل کیس کے فیصلے پر تنقید

ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے، دلائل سننے کے بعد ملزمان کی 18 سال سے زیر التوا اور حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیلوں پر سماعت کی تھی اور گزشتہ ماہ فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

عدالت میں ملزمان کے وکلا رائے بشیر اور خواجہ نوید احمد نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ استغاثہ ان کے موکل کے خلاف کیس ثابت کرنے میں بری طرح ناکام ہوا اور استغاثہ کے زیادہ تر گواہ پولیس اہلکار تھے جن کی گواہی پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔

ملزمان کے وکلا کا مزید کہنا تھا کہ اپیل کنندہ نسیم اور عادل شیخ پر ای میلز اور میسیجز کے ساتھ لیپ ٹاپ کمپیوٹر کی برآمدگی زبردستی ظاہر کی گئی جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے ان کے اعترافی بیانات میں بھی جھول ہیں اور وہ رضاکارانہ طور پر نہیں دیے گئے۔

وکلا کا مزید کہنا تھا کہ مدعی نسیم سے 11 فروری 2002 کو لیپ ٹاپ کمپیوٹر کی برآمدگی ظاہر کی گئی جبکہ کمپیوٹر ماہر رونلڈ جوزف نے کہا تھا کہ انہیں 4 فروری کو کمپیوٹر ویریفکیشن کے لیے دیا گیا تھا جس کے بعد 6 روز تک انہوں نے لیپ ٹاپ کا جائزہ لیا تھا۔

وکلا کا کہنا تھا کہ اس قسم کے ثبوتوں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا جبکہ عدالت سے استدعا کی تھی کہ ملزمان کی سزا کالعدم قرار دی جائے۔