لاہور: نیب ٹیم کا شہباز شریف کی گرفتاری کیلئے رہائش گاہ پر چھاپہ

اپ ڈیٹ 03 جون 2020

ای میل

—فوٹو:ڈان نیوز
—فوٹو:ڈان نیوز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی گرفتاری کے لیے لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں قائم ان کی رہائش گاہ پہنچنے والی قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم وہاں سے واپس روانہ ہوگئی۔

نیب نے شہباز شریف کو آج (2 جون) آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کے کیس میں تفتیش کے لیے طلب کیا تھا تاہم وہ پیش نہیں ہوئے جس کے بعد نیب کی ٹیم پولیس کے ہمراہ ان کے گھر پہنچ گئی تھی۔

نیب کی ٹیم شہباز شریف کے گھر میں ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک موجود رہی جس کے بعد وہ شہباز شریف کی گھر میں عدم موجودگی کے باعث واپس روانہ ہوگئی۔

قائد حزب اختلاف کی گرفتاری کے لیے نیب کی ٹیم کے ان کی رہائش گاہ پہنچنے پر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنان کی بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر جمع ہوگئی تھی اور احتساب ادارے کے خلاف نعرے بازی کی۔

اس دوران پولیس اور کارکنان کے درمیان بد نظمی ہوئی جس کے باعث لیگی رہنما عمران نذیر بےہوش ہوگئے۔

یہ چینی چوری سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، مریم اورنگزیب

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ 'نیب نیازی گٹھ جوڑ سے پوری قوم واقف ہے اور پاکستان میں اس وقت سرکس لگا ہوا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'شہباز شریف نیب میں پیش ہوتے رہے ہیں جبکہ کل ہائی کورٹ میں ان کی درخواست کی سماعت ہوگی، عمران خان کے حکم پر نیب کی کارروائی ہورہی ہے، ماڈل ٹاؤن میں اس وقت کرفیو نافذ ہے اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا جارہا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک روپے کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی تو آج کیوں یہ سرکس لگایا گیا؟ یہ چینی چوری سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں اور نیب کی کارروائی سیاسی انتقام ہے تاہم مسلم لیگ (ن) کی قیادت ان ہتھکنڈوں کا مقابلہ کرے گی۔

لیگی صدر کا تحریری جواب

خیال رہے کہ شہباز شریف آج نیب کی جانب سے طلب کیے جانے پر پیش نہیں ہوئے تھے اور نیب کو تحریری جواب بھجوا دیا تھا۔

مزید پڑھیں:شہباز شریف کے جوابات سے نیب غیر مطمئن، 2 جون کو دوبارہ طلب کرلیا

انہوں نے اپنے تحریری جواب میں کہا تھا کہ نیب کے افسران مجھ سے اسکائپ پر سوال، جواب کر سکتے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ نیب کے چند افسران بھی کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں، میری عمر 69 برس ہے اور میں کینسر کا مریض ہوں۔

عبوری ضمانت کی درخواست

قبل ازیں شہباز شریف نے عبوری ضمانت کے لیے درخواست دائر کی تھی تاہم لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاسم علی خان نے درخواست اب کل کے لیے مقرر کردی ہے اور جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ اس کی سماعت کرے گا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا کہ منی لانڈرنگ کیس میں نیب کی جانب سے گرفتاری کا خدشہ ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو بدترین انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان آٹا اور چینی اسکینڈل کا سہولت کار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف نے 'مدافعت' کمزور ہونے کی وجہ سے نیب میں پیشی سے معذرت کرلی

یاد رہے کہ شہباز شریف 4 مئی کو نیب کے سامنے پیش ہوئے تھے جہاں ان سے ایک گھنٹہ 45 منٹ تک آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس سے متعلق سوالات کیے گئے تھے۔

نیب نے شہباز شریف کے جوابات کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے انہیں 2 جون کو دوبارہ طلب کرلیا تھا۔

لاہور میں شہباز شریف کی نیب میں پیشی کے حوالے سے معلومات رکھنے والے ذرائع نے بتایا تھا کہ پیشی کے دوران شہباز شریف نے ایک بار پھر نیب ٹیم کے سوالوں کے مناسب جواب نہیں دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف احتساب ادارے کے پاس موجود اپنے اثاثوں کی تفصیلات دیکھ کر حیران رہ گئے جبکہ منی لانڈرنگ سے متعلق سوالوں کے جواب دینے سے قاصر رہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے شہباز شریف سے ایک گھنٹہ 45 منٹ تک سوالات کیے تاہم وہ نیب کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔

یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر مارچ میں لندن سے وطن واپس آئے تھے جس کے بعد سے نیب نے متعدد مرتبہ طلب کرلیا تھا۔

قبل ازیں 17 اور 22 اپریل کو شہباز شریف نے کورونا وائرس کے باعث صحت کو وجہ بناتے ہوئے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ نیب نے انہیں طبی ہدایات کے مطابق تمام تر احتیاطی تدابیر اپنانے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

شہباز شریف نے اپنے وکیل کے توسط سے مطلوبہ دستاویز قومی احتساب بیورو میں جمع کروادیے تھے تاہم نیب نے ان دستاویزات اور شواہد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے انہیں ذاتی طور پر سوالات کا جواب دینے کے لیے پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔