ایس او پیز کو نظر انداز کیا تو لاک ڈاؤن کو سخت کردیں گے، شبلی فراز

اپ ڈیٹ 03 جون 2020

ای میل

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف غیر اعلانیہ طور پر خود کو پارٹی کا سربراہ  قرار دے چکے ہیں — فوٹو: ڈان نیوز
انہوں نے کہا کہ شہباز شریف غیر اعلانیہ طور پر خود کو پارٹی کا سربراہ قرار دے چکے ہیں — فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ ’حکومت نے ایس او پیز متعارف کرانے کے بعد مراحلہ وار اور محدود پیمانے پر معاشی سرگرمیوں کا آغاز کیا لیکن لوگوں نے ایس او پیز کو نظر انداز کیا جس کے بعد ہم مجبور ہوجائیں گے لاک ڈاؤن کو سخت کردیں'۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ کورونا وائرس سے عالمی معیشت کو نقصان پہنچا، ترقی پذیر ممالک بھی اس وبا سے نبرد آزما نہیں ہوسکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 75 فیصد لوگ چھوٹے اور بڑے کاروبار پر انحصار کرتے ہیں اور باقی ماندہ یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں ایسے میں ملک کی معیشت کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

مزیدپڑھیں: نئے نوول کورونا وائرس کے 80 فیصد مریض اس سے بے خبر رہتے ہیں

شبلی فراز نے کہا کہ بدحال معیشت مثبت اشاریوں کی جانب گامزن ہوئی تو کورونا وائرس سے معاشی اصلاحات کو شدید جھٹکا لگا۔

انہوں نے زور دیا کہ ہم نے معیشت کو مرحلہ وار کھولا لیکن لوگوں کی اکثریت نے ایس او پیز پر عملدر آمد نہیں کیا جبکہ صرف احتیاطی تدابیر سے وائرس سے بچ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس دن بدن تشویشناک صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے اور گزشتہ روز ریکارڈ کیسز کے بعد آج بھی مزید نئے کیسز اور اموات کی تصدیق کی گئی۔

آج سامنے آنے والے نئے اعداد و شمار کے مطابق اب تک ملک بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز 82 ہزار 287 ہوگئے ہیں جبکہ اموات کی تعداد 1717 تک پہنچ گئی ہے۔

’ابھی نواز شریف زندہ ہیں‘

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) منقسم ہوچکی ہے، لندن سے (نواز شریف) کی تصویر وائرل کرنے کا مقصد یہاں کے لوگوں کو بتانا ہے کہ ’ابھی نواز شریف زندہ ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف ’غیر اعلانیہ طور پر خود کو پارٹی کا سربراہ‘ قرار دے چکے ہیں۔

شبلی فراز نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) شہباز شریف کو گرفتار کرنے پہنچی تو وہ فرار ہوجاتے ہیں، اگلے روز عدالت میں نمودار ہو کر حکم امتناع حاصل کرلیتے ہیں اور پھر احاطہ عدالت سے اس طرح باہر نکلتے ہیں جیسے ’کشمیر فتح‘ کرلیا ہو۔

مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ نے نیب کو 17 جون تک شہباز شریف کو گرفتار کرنے سے روک دیا

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما چاہتے ہیں کہ ’معیشت برباد ہوجائے، مسلم لیگ (ن) کے رہنما خیر خواہ نہیں ہیں، ان کے بچے دوسرے ممالک میں ہوتے ہیں، ان کا اسٹیک یہاں نہیں ہے، مال بنانے آتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں‘۔

شبلی فراز نے الزام لگایا کہ ’شہباز شریف چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف احتساب کا عمل رک جائے‘ جبکہ وزیراعظم عمران خان آئے ہی احتساب کے نصب العین کے ساتھ اور اسی وجہ سے چینی بحران پر مشتمل کمیشن رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی تاکہ بلا امیتاز ملک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی ہوسکے۔

حالیہ پیش رفت کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی عبوری درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) کو انہیں 17 جون تک گرفتار کرنے سے روک دیا۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: نیب ٹیم کا شہباز شریف کی گرفتاری کیلئے رہائش گاہ پر چھاپہ

خیال رہے کہ 2 روز قبل شہباز شریف نے عبوری ضمانت کے لیے درخواست دائر کی تھی جسے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاسم علی خان نے درخواست آج (3 جون کو) سماعت کے لیے مقرر کردی تھی۔

یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر مارچ میں لندن سے وطن واپس آئے تھے جس کے بعد سے نیب نے متعدد مرتبہ طلب کرلیا تھا۔

قبل ازیں 17 اور 22 اپریل کو شہباز شریف نے کورونا وائرس کے باعث صحت کو وجہ بناتے ہوئے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ نیب نے انہیں طبی ہدایات کے مطابق تمام تر احتیاطی تدابیر اپنانے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

شہباز شریف نے اپنے وکیل کے توسط سے مطلوبہ دستاویز قومی احتساب بیورو میں جمع کروادیے تھے تاہم نیب نے ان دستاویزات اور شواہد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے انہیں ذاتی طور پر سوالات کا جواب دینے کے لیے پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔

پاکستان میں 27 برس بعد ٹڈی دل کا حملہ

وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ دوسرا بڑا مسئلہ ٹڈی دل کا ہے، جس کے سدباب کے لیے لوکسٹ کنٹرول سینٹر قائم کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 27 برس بعد ٹڈی دل کا اتنا بڑا حملہ ہوا اور اس دوران ملک میں اس کے خلاف وسائل کی کمی رہی۔

شبلی فراز نے کہا کہ جنوری کے مہینے سے احتیاطی تدابیر کرلی تھیں لیکن موسمیاتی تبدیلی اور ایران میں اقتصادی پابندی سمیت دیگر امور کی وجہ سے ٹڈی دل کی روک تھام کے لیے انتظامات میں تاخیر ہوئی۔

مزید پڑھیں: ٹڈی دل کے حملوں سے پاکستان میں غذائی تحفظ کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن (ایف اے او) نے حالیہ رپورٹ میں پاکستان سمیت متعدد خطے کے ممالک میں ٹڈی دل کے حملوں سے غذائی تحفظ کے بحران کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’پاکستان میں 38 فیصد علاقہ (بلوچستان میں 60 فیصد، سندھ میں 25 فیصد اور پنجاب میں 15 فیصد) ٹڈیوں کی افزائش گاہیں ہیں جبکہ اگر انہیں ان کی افزائش کی جگہ تک روکا نہیں گیا تو پورا ملک اس کے حملے کے خطرے میں ہوگا‘۔