پاکستان میں ایڈز سے اموات میں اضافہ

اپ ڈیٹ 08 جولائ 2020
اقوام متحدہ کے ایڈز کنٹرول پروگرام کا کہنا ہے کہ دیر سے تشخیص اور علاج کی ناقص صورتحال سے اموات اور مزید پھیلاؤ کو روکنے کے مواقع ضائع ہوجاتے ہیں۔ فائل فوٹو:ڈان
اقوام متحدہ کے ایڈز کنٹرول پروگرام کا کہنا ہے کہ دیر سے تشخیص اور علاج کی ناقص صورتحال سے اموات اور مزید پھیلاؤ کو روکنے کے مواقع ضائع ہوجاتے ہیں۔ فائل فوٹو:ڈان

اسلام آباد: اقوام متحدہ کے ایڈز کنٹرول پروگرام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایڈز سے ہونے والی اموات میں اضافہ ہورہا ہے کیونکہ دیر سے تشخیص اور علاج کی ناقص صورتحال سے اموات اور مزید پھیلاؤ کو روکنے کے مواقع ضائع ہوجاتے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق منگل کو شائع ہونے والے 'گلوبل ایڈز اپ ڈیٹ 2020' کے مطابق یو این ایڈز کا کہنا ہے کہ کمبوڈیا، میانمار، تھائی لینڈ اور ویتنام میں ایچ آئی وی کے انفیکشن میں کمی واقع ہوئی ہے تاہم پاکستان اور فلپائن میں انفیکشن میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

آسٹریلیا، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ میں کامیاب ٹیسٹنگ اور علاج کے پروگرامز کی وجہ سے 2010 کے بعد سے ایڈز سے ہوئی اموات میں 29 فیصد کمی آئی ہے اور انہوں نے 90-90-90 کے اہداف حاصل کرلیے تاہم پاکستان، افغانستان اور فلپائن میں ایڈز سے وابستہ اموات کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

'سیزنگ دی مومنٹ' نامی رپورٹ میں کہا گیا کہ نیڈل سرنج پروگرام کی پاکستان، انڈونیشیا، ملائیشیا اور تھائی لیڈ میں کوریج بہت مختصر ہے اور پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، نیپال، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ میں اوپی آئیڈ سبسٹی ٹیوشن تھراپی سروسز یا تو دستیاب نہیں ہے یا پھر اس کی کوریج صرف 10 فیصد یا اس سے بھی کم ہے۔

مزید پڑھیں: صرف ادویات سے ایڈز سے نجات پانے والا دنیا کا پہلا مریض

رپورٹ کے مطابق اہم آبادی اور ان کے شراکت داروں میں ایک اندازے کے مطابق 98 فیصد نئے ایچ آئی وی انفیکشن ہوئے ہیں اور 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں ایک چوتھائی سے زیادہ نئے ایچ آئی وی متاثرہ ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے والے مردوں میں نئے انفیکشن کی بڑھتی ہوئی تعداد بڑی تشویش ہے۔

ساتھ ہی یہ مشاہدہ بھی کیا گیا کہ ایچ آئی وی کے ساتھ رہنے والی تقریباً نصف آبادی ان میں وائرس کی موجودگی سے لاعلم ہےتاہم کسی کی مدد سے کی گئی ٹیسٹنگ یا خود کی گئی ٹیسٹنگ سے تشخیص کی شرح میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

رپورٹ میں وضاحت کی گئی کہ ایچ آئی وی کے نئے انفیکشن میں سست روی کے ساتھ ساتھ ایڈز پر رد عمل کو روکنے والے قوانین اور پالیسیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی بدنامی اور امتیازی سلوک میں کمی بھی دیکھی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ممالک کی ایک چھوٹی سی اقلیت میں نیڈل سرنج پروگراموں کی اعلیٰ کوریج اور اوپی آئیڈ متبادل تھراپی کی اعتدال پسند کوریج دونوں ہیں۔

شواہد سے ایچ آئی وی ٹرانسمیشن سے منسلک مییتھیم فیتامین دوائیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی نشاندہی ہوتی ہے جبکہ یہاں نقصان کو کم کرنے والی خدمات کی ضرورت ہے جو ادویات کے استعمال میں بدلتے ہوئے رجحانات پر رد عمل ظاہر کریں۔

ادھر سول سوسائٹی کی تنظیمیں ایچ آئی وی سے بچاؤ کے پروگراموں میں وسیع پیمانے پر شامل ہیں تاہم کمیونٹی کے زیرقیادت یہ خدمات مناسب پیمانے پر دستیاب نہیں ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ عالمی سطح پر پیشرفت قابل تعریف رہی ہے تاہم انتہائی غیر مساوی ہے اور 2020 کے لیے طے شدہ عالمی ایچ آئی وی اہداف حاصل نہیں کیے جاسکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ایچ آئی وی سے مکمل نجات پانے والا دوسرا مریض

اس میں خبردار کیا گیا کہ اگر ہم عمل کرنے میں ناکام رہے تو حاصل کیا گیا فائدہ بھی ضائع ہوسکتا ہے اور پیشرفت مزید رک سکتی ہے۔

ساتھ ہی یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ممالک کے لیے کام کرنا اور باقی لاکھوں افراد تک پہنچنا کتنا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ ایچ آئی وی کے نئے انفیکشن کی روک تھام میں دنیا بہت پیچھے ہے، تقریباً 17 لاکھ افراد نئے وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جو عالمی ہدف سے تین گنا زیادہ ہے۔

تاہم مشرقی اور جنوبی افریقہ میں اس میں بہتری آئی ہے جہاں 2010 کے بعد سے ایچ آئی وی کے نئے انفیکشن میں 38 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

تاہم مشرقی یورپ اور وسطی ایشیا میں صورتحال بالکل برعکس ہے جہاں 2010 کے بعد سے ایچ آئی وی کے نئے انفیکشنز میں حیرت انگیز 72 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اس کے علاوہ لاطینی امریکا میں بھی 21 فیصد اور مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں 22 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

تاہم یہاں عمل قابل ذکر ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا نے ایڈز کے ردعمل کو سنجیدگی سے متاثر کیا ہے اور اس سے مزید خلل پڑ سکتا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں