افغان حکومت کا 600 'انتہائی خطرناک' طالبان قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار

اپ ڈیٹ 09 جولائ 2020

ای میل

طالبان نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ قیدیوں کے خلاف جھوٹے فوجداری مقدمات تشکیل دے رہی ہے۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
طالبان نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ قیدیوں کے خلاف جھوٹے فوجداری مقدمات تشکیل دے رہی ہے۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

کابل: افغان حکام کا کہنا ہے کہ وہ امن معاہدے کی شرائط کے تحت قیدیوں کے تبادلے کے پابند ہونے کے باوجود 'انتہائی خطرناک' سمجھے جانے والے سیکڑوں طالبان قیدیوں کو رہا نہیں کریں گے۔

علاوہ ازیں تشدد نے جنگ زدہ ملک کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے جہاں خودکش بمبار نے صوبہ قندھار میں گورنر کی رہائش گاہ اور پولیس ہیڈ کوارٹرز کے قریب 3سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے تحت 5 ہزار طالبان قیدیوں کے تبادلے کا وعدہ کیا گیا تھا جس کے بدلے میں طالبان نے ایک ہزار افغان سیکیورٹی فورسز کے قیدیوں کو رہا کرنا تھا۔

تاہم قومی سلامتی کونسل (این ایس سی) کے ترجمان جاوید فیصل کا کہنا تھا کہ جن 600 طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا کہا گیا ہے ان کے خلاف ابھی بھی 'سنگین فوجداری مقدمات' چل رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: طالبان کے حملوں سے افغان امن عمل کو خطرات لاحق ہیں، اشرف غنی

ایک اور سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان افراد میں قتل، ہائی وے ڈکیتی اور یہاں تک کہ بچہ بازی کے ملزمان کے ساتھ ساتھ سیکڑوں غیر ملکی جنگجو بھی شامل ہیں۔

عہدیدار نے بتایا کہ 'انہیں رہا کرنا بہت خطرناک ہے'۔

دوسری جانب طالبان نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ قیدیوں کے خلاف جھوٹے فوجداری مقدمات تشکیل دے رہی ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ 'اگر وہ اس سلسلے میں مزید مسائل پیدا کرتے رہے تو پھر اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ معاملات بہتر طریقے سے حل ہوں'۔

تاہم قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل نے زور دیا کہ حکومت مذاکرات کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم امن کے لیے تیار ہیں اور معاہدے کے مطابق باقی قیدیوں کو رہا کریں گے، بس ان قیدیوں کو نہیں جن کے خلاف عدالتوں میں سنگین فوجداری مقدمات ہیں'۔

مزید برآں دونوں فریقین نے قیدیوں کا تبادلہ مکمل ہونے کے بعد افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے براہ راست بات چیت کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

خیال رہے کہ حکومت پہلے ہی 4 ہزار سے زائد طالبان قیدیوں کو رہا کر چکی ہے جبکہ جنگجوؤں نے اپنی رہائی کا تقریباً دو تہائی مکمل کیا ہے۔

رواں ہفتے کے آغاز میں ایک اعلیٰ افغان عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ حکام پر منحصر ہے کہ کس کو رہا کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان کے حملے میں افغان فوج کے 13 اہلکار ہلاک

صدر اشرف غنی کے ترجمان صدیق صدیقی نے کہا کہ 'ہمیں یہ توقع نہیں کہ طالبان ہمیں بتائیں کہ کون سے قیدیوں کو رہا کیا جائے'۔

خودکش حملہ

ادھر طالبان کے ایک خودکش بمبار نے قندھار میں صوبائی گورنر کی رہائش گاہ اور پولیس ہیڈ کوارٹرز کی جانب جانے والے راستے پر بارود سے بھری گاڑی کو دھماکے سے اڑادیا جس کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد ہلاک ہوگئے۔

گورنر کے ترجمان بحیر احمد احمدی کا کہنا تھا کہ 'صبح 4 بجے کے قریب ایک خود کش حملہ آور افغان سکیورٹی فورس کے ٹرک کو لے کر اپنے ہدف کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اس پر فائرنگ کی گئی جس کی وجہ سے اس نے اپنے ہدف پر پہنچنے سے قبل ہی پولیس ہیڈ کوارٹرز اور گورنر کے رہائشی کمپلیکس کے نزدیک خود کو دھماکے سے اڑالیا'۔

انہوں نے بتایا کہ قندھار کے ضلع شاہ ولی کوٹ میں ہونے والے اس حملے میں سیکیورٹی فورسز کے 3 اہلکار ہلاک اور 14زخمی ہوئے جن میں عام شہری بھی شامل ہیں جبکہ پولیس ہیڈ کوارٹرز اور گورنر کےرہائشی کمپلیکس کے احاطے کو شدید نقصان پہنچا۔

مزید پڑھیں: روس، طالبان نے امریکی اخبار کا دعویٰ مسترد کردیا

علاوہ ازیں طالبان نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ پولیس ہیڈ کوارٹرز کو جگنجوؤں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے لیے ایک فوجی مرکز کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ حملوں کی بحالی عدم اعتماد کو بڑھا رہی ہے جس طرح سے افغان حکومت اور طالبان امن مذاکرات میں داخل ہونے لگے ہیں اور جب امریکا فروری میں ہونے والے معاہدے کے تحت اپنے فوجیوں کے انخلا پر عمل کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ مشرقی صوبے ننگرہار کے گورنر کے ترجمان کے مطابق کار بم دھماکے میں ایک مقامی پولیس کمانڈر اور 3 دیگر افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے۔

تاہم اس حملے کی ذمہ داری اب تک کسی نے قبول نہیں کی۔

علاوہ ازیں منگل کے روز کابل میں ایک دھماکے میں دو عام شہری زخمی ہوئے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے بتایا کہ انہوں نے دارالحکومت اور اس کے اطراف میں بڑے حملے ناکام بنائے۔

واضح رہے کہ قیدیوں کی رہائی کے بارے میں اختلاف رائے، قطری دارالحکومت دوحہ میں مکمل امن مذاکرات کے آغاز کی آخری رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔