حکومت کا ملک بھر میں 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 09 جولائ 2020

ای میل

شفقت محمود– فائل فوٹو: ڈان نیوز
شفقت محمود– فائل فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں 15 ستمبر سے اسکول، کالجز اور جامعات سمیت تمام تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں شفقت محمود نے بتایا کہ بین الصوبائی وزرائے تعلیم کی کانفرنس میں پیش کی گئی سفارشات کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) میں پیش کیا گیا جس میں معمولی ردو بدل کے بعد کئی اہم فیصلے کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ 15 جولائی سے کوئی تعلیمی ادارہ نہیں کھولا جائے گا لیکن 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے جس میں اسکولز، کالجز اور جامعات وغیرہ شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ تعلیمی ادارے کھولنے میں 2 ماہ کا وقت ہے اس لیے اگست کے پہلے ہفتے اور ستمبر کے پہلے ہفتے میں صحت کے اشاریوں اور صورتحال کو دیکھتے ہوئے فیصلے کا جائزہ لیں گے اور مزید مشاورت کی جائے گی۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ اگست کے اختتام یا ستمبر کے اوائل تک صحت کے معاملات ٹھیک نہ ہوئے تو پھر تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ مؤخر کردیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کیلئے اقدامات کی ہدایت

انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے کھولنے کے لیے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) تشکیل دیے جائیں گے جس کے لیے متعدد تجاویز موصول ہوئی ہیں جن پر غور کیا جائے گا۔

وزیر تعلیم نے بتایا کہ ہم نے ایس او پیز کے سلسلے میں صوبوں سے تجاویز مانگی ہیں۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی سلسلہ بحال کرنے سے قبل اس 2 ماہ کے عرصے میں تعلیمی اداروں کو انتظامی دفاتر کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے وہ اپنے ٹائم ٹیبل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اساتذہ کو طلب، ایس اوپیز کی پریکٹس اور صفائی ستھرائی جیسے امور کی انجام دہی کرسکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومتیں اس سلسلے میں اپنے سرکاری اسکولز اور اداروں کا فیصلہ کرسکتی ہیں تاہم وفاق کی جانب سے انتظامی امور کی انجام دہی کی اجازت دے دی گئی ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ پی ایچ ڈی کے ایسے طلبہ جن کی تعدا خاصی کم ہے اور انہیں ریسرچ ورک کے لیے لیبارٹریز تک رسائی درکار ہے ان کے لیے یونیورسٹیز کو ایس او پیز کے تحت انہیں بلانے کی اجازت دے دی گئی ہے اور انہیں کب بلانا ہے، کس طرح بلانا ہے اس کا فیصلہ جامعات خود کریں گی۔

مزید پڑھیں: وفاقی حکومت کا ملک بھر کے تمام تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند رکھنے کا فیصلہ

وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ جامعات میں وبا کے دوران آن لائن تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا جس میں ان طلبہ کے لیے بہت مشکلات پیدا ہوئیں جو ایسے علاقوں میں رہائش پذیر تھے جہاں انٹرنیٹ دستیاب نہیں تھا یا اس کی سہولت بہتر نہیں تھی۔

چنانچہ ان طالبعلموں کو درپیش تعلیمی نقصان کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جامعات کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ عید کے بعد ان علاقوں کے طلبہ کو 30 فیصد گنجائش کے ساتھ ہاسٹلز میں بلا سکتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ طلبہ جنہیں ہاسٹلز میں بلایا جائے گا یا جنہیں لیبارٹریز میں آنے کی اجازت دی جائے اور وہ اساتذہ جنہیں انتطامیہ اسکول کھولنے سے قبل بلائے گی ان سب کا طبی معائنہ مثلاً درجہ حرارت چیک کرنا وغیرہ لازم ہوگا۔

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے ایس او پیز وفاقی وزارت تعلیم تشکیل دے گی اور صوبوں کو اپنے مقامی حالات کے مطابق ایس او پیز بنانے کی اجازت دی جائے گی جن کا اطلاق تمام تعلیمی اداروں پر ہوگا جبکہ صوبائی حکومتیں اس کی نگرانی کریں گی اور اگر عمل نہ ہوا تو اس ادارے کو بند کردیا جائے گا۔

پیشہ ورانہ، داخلہ امتحانات لینے کی اجازت

وفاقی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ 13 مارچ کو تعلیمی ادارے بند ہونے کے ساتھ پروفیشنلز ایسوسی ایشنز، میڈیکل کالجز، داخلہ ٹیسٹ اور مدارس کے امتحانات بھی ملتوی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: نویں، گیارہویں کے تمام طلبہ کو اگلی جماعت میں پروموٹ کرنے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ پروفیشنلز ایسوسی ایشن کی جانب سے خاصہ زور دیا گیا کہ امتحانات کی اجازت دی جائے اس لیے جامعات کو داخلہ ٹیسٹ کی ضرورت ہے لہٰذا اب ہم اس پابندی میں نرمی کررہے ہیں۔

وزیر تعلیم نے اعلان کیا کہ جو ادارے امتحان لینا چاہیں مثلاً مدارس اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس، میڈیکل، اور قانون جیسی پیشہ ورانہ تعلیم کے اداروں کو جولائی کے دوسرے ہفتے سے امتحانات لینے کی اجازت ہوگی جس کا دورانیہ 2 سے 3 روز سے زیادہ نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ جامعات کو داخلہ ٹیسٹس 2 سے 3 روز پر محیط کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ طلبہ کا ہجوم نہ ہو اور اس سلسلے میں خصوصی ایس او پیز پر عملدرآمد کروایا جائے گا۔

امتحانات کے حوالے سے ایس او پیز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ طلبہ کے درمیان 6 فٹ کا فاصلہ رکھا جائے، ماسکس پہننا لازم، جہاں ممکن ہو کھلے مقام پر انتظام کیا جائے اور الگ الگ امتحان لیا جائے تا کہ انفکیشن کا خطرہ کم ہو، تاہم اگر ایس او پیز پر عمل نہیں کیا جائے گا تو اس امتحان کو روک دیا جائے گا۔

فنی تربیت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ ادارے جو آن جاب تربیت دیتے ہیں مثلا فیکٹریز وغیرہ، ان میں فنی تربیت کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ فیکٹریز پہلے ہی کھول دی گئی ہیں لیکن جن اداروں میں کلاس رومز میں تربیت دی جاتی ہیں ان پر تعلیمی اداروں والے اقدامات لاگو ہوں گے۔

مزید پڑھیں: ممکن ہے اسکول 6 سے 8 ماہ تک نہ کھلیں، وزیر تعلیم سندھ

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سب سے پہلے تعلیمی اداروں کو 31 مئی تک کے لیے بند کر کے تمام امتحانات ملتوی کردیے گئے تھے۔

بعدازاں وائرس کی صورتحال خراب ہونے پر تعلیمی اداروں کی بندش کی مدت میں 15جولائی تک توسیع اور نویں سے بارہویں جماعت کے طلبہ کو پروموٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ ملک میں 9 جولائی کی سہ پہر تک 2 لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخٰص ہوچکی تھی جبکہ 5 ہزار کے قریب اموات رپورٹ ہوئی تھیں۔