افغانستان: طالبان کے حملے میں افغان فوج کے 13 اہلکار ہلاک

اپ ڈیٹ 01 مئ 2020

ای میل

—فائل/فوٹو:اےایف پی
—فائل/فوٹو:اےایف پی

افغانستان کے شمالی صوبے بلخ میں ایک جھڑپ کے دوران طالبان نے افغان فوج کے 13 سپاہیوں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق صوبائی کونسلرز سخی لالا اور محمد امین دار صوفی کا کہنا تھا کہ طالبان نے رات کے اندھیرے میں بلخ کے ضلع زارے میں حملے کیا۔

نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صوبہ پکتیا میں تصادم کے دوران جوابی فائرنگ میں افغان سیکیورٹی فورسز نے طالبان کے کم ازکم 2 جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان نے افغان سیکیورٹی فورسز کے مزید 40 اہلکاروں کو رہا کردیا

رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان کے جنگجوؤں کے ایک گروپ نے صوبائی دارالحکومت گردیز کے علاقے میں افغان فوج پر حملہ کیا تھا اور جوابی فائرنگ میں دو جنگجو مارے گئے۔

خیال رہے کہ افغان حکومت اور طالبان کی جانب سے ایک دوسرے کے قیدیوں کی رہائی کے باوجود شمالی افغانستان میں طالبان کے حملوں میں تیزی آئی ہے۔

دونوں فریقین امریکا کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کے تحت قیدیوں کو رہا کررہے ہیں۔

طالبان نے دو روز قبل شمالی صوبے سمنگن میں کم ازکم مقامی فورسز کے کم ازکم 9 اہلکاروں کو ہلاک کردیا تھا۔

اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ طالبان اور امریکا کے درمیان معاہدے پر دستخط کے بعد طالبان نے غیر ملکی فورسز پر حملے روک دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان بیرونی افواج کے مقابلے میں افغان فورسز کے خلاف حملوں میں اضافہ کردیا ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی نے گزشتہ روز ہی طالبان پر زور دیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان میں جنگ بندی قبول کریں جس کو طالبان نے مسترد کردیا تھا۔

مزید پڑھیں:افغانستان میں کشیدگی میں اضافہ، امن عمل خطرات سے دوچار

واضح رہے کہ طالبان نے گزشتہ روز بھی 40 افغان سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو رہا کردیا تھا۔

طالبان کے قطر کے دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں 40 قیدیوں کی رہائی کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ امارت اسلامی افغانستان نے آج دوپہر صوبہ قندوز میں کابل انتظامیہ کے 40 فوجیوں کو رہا کردیا ہے۔

سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ اسلامی امارات قیدیوں کی رہائی کا عمل تیز تر کرنا چاہ رہا ہے تاکہ کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر قیدیوں کی جانوں کو بچایا جا سکے۔

دوسری جانب افغانستان کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل نے کہا تھا کہ شدت پسند امریکا سے کیے گئے معاہدے کے تحت امن کے قیام، شہریوں کی حفاظت اور پرتشدد واقعات میں کمی میں ناکام ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 29 فروری سے 19 اپریل تک طالبان کے حملوں میں 337 شہری ہلاک، 452 زخمی اور 164 کو اغوا کر لیا گیا اور طالبان کو امن کے قیام کے اپنے دعوؤں سے قبل ان اقدامات کو ضرور دیکھ لینا چاہیے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کابل انتظامیہ کے فوجی اور ان کے غیر ملکی معاونین ہیں جو لوگوں کو مار رہے ہیں، گھروں پر بمباری اور راکٹ حملے کر رہے ہیں۔

رواں ہفتے کے اوائل میں افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے طالبان اور دیگر شدت پسند گروپوں کو 2020 کی پہلی سہ ماہی میں 150 بچوں سمیت 533 شہریوں کی ہلاکت میں سے 52 فیصد کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:افغان حکومت نے مزید 100 طالبان قیدی رہا کردیے، مجموعی تعداد 300 ہوگئی

یاد رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدہ ہوا تھا جس میں طے پایا تھا کہ افغان حکومت طالبان کے 5 ہزار قیدیوں کو رہا کرے گی جس کے بدلے میں طالبان حکومت کے ایک ہزار قیدی رہا کریں گے۔

امریکا نے معاہدے کے تحت وعدہ کیا تھا کہ اگلے سال جولائی تک امریکی اور دیگر غیر ملکی افواج کا افغانستان سے انخلا ہوگا جبکہ طالبان کی جانب سے سیکیورٹی کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔