انگلینڈ کو ہوم گراؤنڈ پر ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں 4وکٹوں سے شکست

اپ ڈیٹ 20 جولائ 2020

ای میل

ویسٹ انڈیز کی کامیابی کے بعد انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس اپنے ہم منصب کو مبارکباد دے رہے ہیں— فوٹو: اے پی
ویسٹ انڈیز کی کامیابی کے بعد انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس اپنے ہم منصب کو مبارکباد دے رہے ہیں— فوٹو: اے پی

ویسٹ انڈیز نے کورونا وائرس کے سبب 4ماہ کے تعطل کے بعد ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کو دلچسپ مقابلے کے بعد 4 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔

انگلینڈ کے قائم مقام کپتان بین اسٹوکس نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا جو درست ثابت نہیں ہوا اور 204 رنز پر پوری ٹیم ڈھیر ہو گئی۔

مزید پڑھیں: انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کی پوزیشن مستحکم

انگلینڈ کی جانب سے اسٹوکس 43 اور جوز بٹلر 35رنز بنا کر نمایاں بلے باز رہے، ویسٹ انڈیز کے جیسن ہولڈر نے 6 اور شینن گیبریئل نے 4 وکٹیں حاصل کیں۔

جواب میں ویسٹ انڈیز نے اپنی پہلی اننگز میں 318رنز بنائے، کریگ بریتھ ویٹ 65، شین ڈاؤرچ 61 اور روسٹن چیز 47رنز بنائے۔

ویسٹ انڈیز نے پہلی اننگز میں 114 رنز کی برتری حاصل کی، انگلینڈ کی جانب سے اسٹوکس نے 4 اور جیمز اینڈرسن نے 3وکٹیں حاصل کیں۔

انگلینڈ نے دوسری اننگز میں ابتدائی بلے بازوں کی ذمے دارانہ بیٹنگ کی بدولت خسارہ ختم کرتے ہوئے اپنی پوزیشن مستحکم کر لی تھی لیکن شینن گیبریئل کے عمدہ اسپیل کے باعث 252رنز پر 4وکٹیں بنانے والی انگلینڈ کی پوری ٹیم 313 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں: مائیکل ہولڈنگ نسلی تعصب پر بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے

انگلینڈ کی جانب سے دوسری اننگز میں زیک کرالی نے 76، ڈوم سبلی نے 50، بین اسٹوکس 46 اور رورے برنز 42رنز بنا کر کامیاب بلے باز رہے۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے شینن گیبریئل نے دوسری اننگز میں بھی عمدہ باؤلنگ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں لیں۔

ابتدائی اننگز کے خسارے کے سبب انگلینڈ نے ویسٹ انڈیز کو فتح کے لیے 200رنز کا ہدف دیا لیکن اس کے تعاقب میں مہمان ٹیم کی اننگز کا آغاز تباہ کن تھا۔

7رنز پر کریگ بریتھ ویٹ پویلین لوٹ گئے جبکہ اسی اسکور پر شمر بروکس کی اننگز بھی تمام ہوئی جبکہ اس دوران جون کیمبل بھی ریٹائرڈ ہرٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔

اسکور 27 رنز تک پہنچا تو جوفرا آرچر نے شے ہوپ کو بھی پویلین لوٹا دیا جس کے بعد ویسٹ انڈین ٹیم تین وکٹیں گنوا بیٹھی تھی۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس پر 'الزام تراشی' کا شکار ہوا، نوواک جوکووچ

اس موقع پر روسٹن چیز کا ساتھ دینے جرمین بلیک وڈ آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے ٹیم کی سنچری مکمل کرائی لیکن اسی مرحلے پر جوفرا آرچر نے اپنی ٹیم کو اہم کامیابی دلاتے ہوئے 37رنز بنانے والے روسٹن چیز کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔

دوسرے اینڈ سے بلیک وُڈ ڈٹے رہے اور ان کا ساتھ دینے شین ڈاؤرچ آئے، دونوں کھلاڑیوں نے 68رنز کی شراکت قائم کر کے اپنی ٹیم کا فتح کے قریب پہنچا دیا، 168 کے مجموعی اسکور پر 20رنز بنانے والے ڈاؤرچ کی اننگز بھی اختتام کو پہنچی۔

بلیک وڈ نے 95 رنز کی شاندار اننگز کھیلی لیکن فتح سے چند قدم کی دوری پر ان کی ہمت جواب دے گئی اور اسٹوکس نے انہیں بھی پویلین لوٹا کر اپنی ٹیم کو چھٹی کامیابی دلائی۔

یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ 2020 ملتوی کرنے کا اعلان، ایونٹ 2021 میں ہوگا

تاہم تب تک بہت دیر ہو چکی تھی اور ویسٹ انڈیز نے باآسانی ہدف حاصل کر کے میچ میں 4وکٹوں سے فتح حاصل کر لی۔

میچ میں عمدہ باؤلنگ اور 9وکٹیں لینے پر گیبریئل کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اس میچ میں فتح کی بدولت ویسٹ انڈیز نے سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی ہے اور سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ 16جولائی سے مانچسٹر میں کھیلا جائے گا۔