پائلٹس کو جاری کردہ تمام لائسنس درست ہیں، سی اے اے

اپ ڈیٹ 16 جولائ 2020

ای میل

سی اے اے کو مختلف سول ایوی ایشنز کی جانب سے 104 پاکستانی پائلٹس کے نام موصول ہوئے تھے —فائل فوٹو: فیس بک سی اے اے
سی اے اے کو مختلف سول ایوی ایشنز کی جانب سے 104 پاکستانی پائلٹس کے نام موصول ہوئے تھے —فائل فوٹو: فیس بک سی اے اے

کراچی: بظاہر وزیر ہوا بازی کے اس الزام کے برعکس کہ 40 فیصد پاکستانی پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے کہا ہے کہ اس کے جاری کردہ تمام کمرشل/ایئرلائنز ٹرانسپورٹ پائلٹس لائسنسز درست اور حقیقی ہیں۔

سی اے اے کے ڈائریکٹر جنرل حسن ناصر جامی نے 13 جولائی کو عمان کے اعلیٰ عہدیدار کو ارسال کردہ خط میں لکھا کہ ’یہ بات واضح کرنا اہم ہے کہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے جاری کردہ سی پی ایل /اے ٹی پی ایل پائلٹ لائسنسز حقیقی اور درست ہیں‘۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی پائلٹ لائسنس جعلی نہیں ہے بلکہ اس معاملے کو غلط سمجھا گیا اور میڈیا/سوشل میڈیا میں غلط طور پر اجاگر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سی اے اے نے قطر، عمان میں کام کرنے والے 55 پائلٹس کے لائسنس کلیئر کردیے

سلطنت عمان کے قائم مقام ڈی جی سول ایوی ایشن ریگولیشن مبارک صالح الگیلانی کی جانب سے ان کے ملک میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس کے 2 جولائی اور 9 جولائی کو پاکستانی پائلٹس کے لائسنس پر تحفظات کے حوالے سے ای میل ارسال کی گئی تھی جس کے جواب میں یہ خط لکھا گیا جس کی نقل ڈان کے پاس دستیاب ہے۔

حسن ناصر جامی، جو سیکریٹری ایوی ایشن بھی ہیں، نے عمانی عہدیدار کو بتایا کہ سی اے اے کو مختلف سول ایوی ایشنز کی جانب سے 104 پاکستانی پائلٹس کے نام موصول ہوئے تھے جس میں 96 کی تصدیق/کلیئر کیا جاچکا ہے۔

سیکریٹری ایوی ایشن نے اپنے خط میں وزیر ہوا بازی کے بیان کی اہمیت، یہ کہہ کر کم کرنے کی کوشش کی کہ کچھ پائلٹس کے لائسنسز کی تصدیق کے حوالے سے ’کچھ خدشات‘ کا اظہار کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: پائلٹس کے مشکوک لائسنس: سول ایوی ایشن کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وفاقی حکومت نے فوری طور پر اس کا نوٹس لیا اور فرانزیک اسکروٹنی کے ذریعے تمام لائسنس یافتہ پائلٹس کی اسناد کی تصدیق کا عمل شروع کیا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس عمل کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کمپیوٹر کے ذریعے ہونے والے امتحان کے حوالے سے کچھ تضادات موجود تھے جو لائسنس کے عمل کا ایک حصہ ہے اور اس عمل کو مکمل نہ کرنے والے پائلٹس کو کلیئرنس ہونے تک ’مشتبہ‘ کیٹیگری میں شامل کردیا گیا تھا۔

ڈی جی سی اے اے نے کہا کہ انہیں پرواز اڑانے سے روک دیا گیا اور انہیں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا موقع دینے کے بعد باضابطہ کارروائی کے لیے گراؤنڈ کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پائلٹس کے مشتبہ لائسنس کا معاملہ صرف پی آئی اے سے منسلک نہیں‘

خط میں مزید کہا گیا کہ ’اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ صرف ان پائلٹس اور فضائی عملے کے ارکان کو پرواز کی اجازت دی گئی جن کے قابلیت، اسناد درست تھیں‘۔

پالپا کے مؤقف کی تائید

دوسری جانب پاکستان ایئرلائنز پائلٹ ایسوسی ایشن (پالپا) نے کہا کہ سی اے اے کے خط میں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ پاکستان میں کسی پائلٹ کا اے ٹی پی ایل لائسنس مشتبہ یا جعلی نہیں تو یہ ہمارے مؤقف کی تائید ہے۔

پالپا سیکریٹری عمران ناریجو نے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ’اس پورے معاملے نے دنیا بھر میں قوم، اس کی ایئرلائن اور اس کے پائلٹس کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لائسنس کے معاملے کو وزیر ہوا بازی، پی آئی اے انتظامیہ اور سی اے اے نے غلط طریقے سے سنبھالا جو قومی ایئرلائن کے پائلٹس کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔

دوسری جانب امریکا نے بھی پی آئی اے کو امریکا کے لیے چارٹر پروازیں اڑانے کی اجازت واپس لے لی۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی فیڈرل ایوی ایشن انتظامیہ نے پائلٹس کے سرٹیفکیٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی ایئر سیفٹی ریٹنگ کو بھی کم کردیا۔

پائلٹس کے 'مشکوک' لائسنسز کا معاملہ

خیال رہے کہ پائلٹس کے مشکوک یا جعلی لائسنسز کے معاملے کا آغاز 24 جون کو اس وقت ہوا جب قومی اسمبلی میں کراچی مسافر طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ 860 پائلٹس میں سے 262 ایسے پائے گئے جن کی جگہ کسی اور نے امتحان دیا تھا۔

جس کے بعد پاکستان نے 26 جون کو امتحان میں مبینہ طور پر جعل سازی پر پائلٹس کے لائسنسز کو 'مشکوک' قرار دیتے ہوئے انہیں گراؤنڈ کردیا تھا۔

غلام سرورخان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 'جن پائلٹس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ 262 ہیں، پی آئی اے میں 141، ایئربلیو کے 9، 10 سرین، سابق شاہین کے 17 اور دیگر 85 ہیں'۔

جس کے بعد پی آئی اے کی انتظامیہ نے اپنے 150 پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے (کام کرنے سے روکنے) کا فیصلہ کیا تھا۔

29 جون کو ویتنام کی ایوی ایشن اتھارٹی نے عالمی ریگولیٹرز کی جانب سے پائلٹس کے ’مشکوک لائسنس‘ رکھنے کی تشویش پر مقامی ایئرلائنز کے لیے تمام پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا تھا۔

اگلے روزیورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے یورپی ممالک کے فضائی آپریشن کا اجازت نامہ 6 ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کردیا تھا جس پر 3 جولائی سے اطلاق ہوا۔

اسی روز اقوام متحدہ کے ڈپارٹمنٹ آف سیفٹی اینڈ سیکیورٹی (یو این ڈی ایس ایس) نے پاکستانی ایئرلائن کو اپنی 'تجویز کردہ فہرست' سے ہٹا دیا تھا۔

جس کے بعد یکم جولائی کو برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے 3 ایئرپورٹس سے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا جبکہ متحدہ عرب امارت نے بھی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے مختلف فضائی کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس اور انجینئرز کے کوائف کی تصدیق کی درخواست کی تھی۔

اس کے بعد 3 جولائی کو ملائشیا کے ایوی ایشن ریگولیٹر نے پاکستانی لائسنس رکھنے والے اور مقامی ایئر لائنز میں ملازمت کرنے والے پائلٹس کو عارضی طور پر معطل کردیا تھا۔

جس کے بعد 4 جولائی کو وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد مزید 30 ’مشتبہ لائسنس' کے حامل پائلٹس کو اظہار وجوہ کے نوٹسز بھیجے جاچکے ہیں۔

7 جولائی کو یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے 32 رکن ممالک کو 'پاکستان میں جاری کردہ پائلٹ لائسنسز سے متعلق مبینہ فراڈ' کے حوالے سے خط لکھا اور ان پائلٹس کو فلائٹ آپریشن سے روکنے کی سفارش کی تھی۔

اسی روز سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 'مشکوک' لائسنسز سے متعلق انکوائریاں مکمل ہونے کے بعد پی آئی اے کے 34 پائلٹس کے کمرشل فلائنگ لائسنسز معطل کردیے تھے۔

بعدازاں 9 جولائی کو امریکا نے بھی پاکستانیوں کی واپسی کے لیے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی خصوصی پروازوں کے اجازت نامے کو منسوخ کردیا تھا۔

10 جولائی کو ایوی ایشن ڈویژن نے مختلف ممالک کی ایئرلائنز میں کام کرنے والے 95 فیصد پائلٹس کے لائسنز کلیئر کردیے تھے جبکہ باقی کی تصدیق کا عمل آئندہ ہفتے مکمل کرنے سے متعلق آگاہ کیا تھا۔