ہسپتالوں سے بستروں کا کیا گیا وعدہ 90 فیصد پورا کردیا، اسد عمر

اپ ڈیٹ 16 جولائ 2020

ای میل

وفاقی وزیر ترقی اسد عمر نے جولائی کے آخر تک ہسپتالوں کو 2 ہزار بستر فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا—فائل فوٹو:اے ایف پی
وفاقی وزیر ترقی اسد عمر نے جولائی کے آخر تک ہسپتالوں کو 2 ہزار بستر فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا—فائل فوٹو:اے ایف پی

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ہسپتالوں کے لیے وعدہ کیے گئے آکسیجن کی سہولت سے لیس 2 ہزار بستروں میں سے ایک ہزار 825 (90 فیصد سے زائد) ملک بھر کے ہسپتالوں میں فراہم کردیے گئے ہیں جبکہ کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے مختص باقی بستر جلد مہیا کردیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ جون میں کورونا وائرس کے کیسز میں اچانک اضافے اور ہسپتالوں میں آکسیجن کی سہولیات سے لیس بستروں کی کمی کے بعد وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے وعدہ کیا تھا کہ حکومت بستروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے جولائی کے آخر تک ہسپتالوں کو 2 ہزار بستر فراہم کرے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ مدنظر رہے کہ ملک میں کورونا کے باعث صورتحال اس قدر خراب ہوگئی تھی کہ ایک ڈاکٹر کو وینٹی لیٹر یا آکسیجن والے بستر کی ضرورت کے پیش نظر ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال ہی منتقل کیا جارہا تھا کہ وہ دم توڑ گئے تھے۔

گزشتہ روز ملتان کی نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر، وزیر اعظم عمران خان کے کالج کے ساتھی ایک آرتھوپیڈک سرجن اور کراچی میں ایک سینئر ڈاکٹر کو ملا کر مجموعی طور پر 3 ڈاکٹرز کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگئے۔

مزید پڑھیں: کورونا وبا: پاکستان میں 2152 نئے کیسز، صحتیاب افراد کی تعداد میں 2 ہزار 154 کا اضافہ

ادھر وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا جن میں چند روز قبل ہی وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ عید کے دوران کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں دوبارہ تیزی کے خدشے پیش نظر اسے صحت کی گائیڈ لائنز اور احتیاطی تدابیر کے نفاذ کے ساتھ سختی سے کنٹرول کیا جائے گا۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پاکستان میں صحت کے رضاکار مثالی خدمات انجام دے رہے ہیں اور نئے کیسز کی تعداد میں کمی فرض شناس صحت کے رضاکاروں کی ہی وجہ سے ہے۔

ٹوئٹر پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے رضاکاروں کے تحفظ کے لیے پاکستان کے اقدامات کو سراہا جارہا ہے اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ محدود وسائل کے باوجود حکومت نے صحت کی دیکھ بھال کرنے والے رضاکاروں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ سے زائد صحت کے رضاکاروں کو ذاتی حفاظتی کٹس (پی پی ایز) کے مناسب استعمال پر خصوصی تربیت دی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وی کیئر پروگرام کے تحت چاروں صوبوں، وفاقی دارالحکومت، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں پہلے ہی 60 ہزار سے زائد ہیلتھ پروفیشنلز کی تربیت کی جاچکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے پیاروں اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، عیدالاضحیٰ کے موقع کے لیے اعلان کردہ سرکاری گائیڈ لائنز پر عمل کیا جائے، لوگوں کو چاہیے کہ وہ عید کی نماز کے دوران ماسک کا استعمال کریں اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے آپس میں 6 فٹ کا فاصلہ رکھیں'۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں ایس او پیز کے تحت مویشی منڈیوں کی اجازت، بچوں کے داخلے پر پابندی

ایک علیحدہ ٹوئٹ میں وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر، جو کورونا وائرس پر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کے اجلاس کی صدارت بھی کرتے ہیں انہوں نے اعلان کیا کہ ملک بھر کے ہسپتالوں میں 90 فیصد سے زیادہ (ایک ہزار 825) بستر فراہم کردیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'ان میں سے اسلام آباد میں 550 بستر، پنجاب میں 480، سندھ میں 125، خیبر پختونخوا میں 390، بلوچستان میں 150، گلگت بلتستان میں 40 اور آزاد جموں و کشمیر میں 90 بستر مہیا کیے گئے ہیں'۔

علاوہ ازیں وزارت قومی صحت سروسز (این ایچ ایس) کے ترجمان ساجد شاہ نے ڈان کو بتایا کہ حکومت جلد ہی تمام 2 ہزار بستروں کی فراہمی کا کام مکمل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا 'ہم باقی 175 آکسیجن والے بستر 31 جولائی کے بجائے اس سے پہلے ہی فراہم کردیں گے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیسز کی تعداد میں کمی کی وجہ سے ملک بھر کے ہسپتالوں میں خالی بستروں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے تاہم بستروں کو کسی تکلیف دہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مہیا کیا جارہا ہے۔

وزیر اعظم کا 2 ڈاکٹروں کی وفات پر اظہار تعزیت

دریں اثنا وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس سے 2 سینئر ڈاکٹروں کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا، جن میں سے ایک ان کے ایچی سن کالج کے ساتھی بھی رہے تھے۔

انہوں نے ٹوئٹ کی کہ 'میری تعزیت اور دعائیں نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر مصطفی کمال پاشا اور ندیم ممتاز کے اہل خانہ کے ساتھ ہے، دونوں ہی کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کرگئے، ندیم ممتاز اور میں 9 سال تک ایچی سن میں ایک ساتھ رہے تھے'۔