سی اے اے نے قطر، عمان میں کام کرنے والے 55 پائلٹس کے لائسنس کلیئر کردیے

اپ ڈیٹ 15 جولائ 2020

ای میل

سول ایوی ایشن حکام نے پھنسے ہوئے مسافروں کی واپسی کیلئے بنگلہ دیش سے خصوصی پرواز چلانے کی اجازت دے دی—تصویر: سی اے اے فیس بک
سول ایوی ایشن حکام نے پھنسے ہوئے مسافروں کی واپسی کیلئے بنگلہ دیش سے خصوصی پرواز چلانے کی اجازت دے دی—تصویر: سی اے اے فیس بک

راولپنڈی: سول ایوی ایشن اتھارٹی نے عمان اور قطر میں کام کرنے والے 57 سے میں سے 55 پائلٹس کے لائسنس کلیئر کردیے کیوں کہ ان سب کے لائسنس درست تھے اور انہوں نے انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) کے قواعد کے مطابق تربیت حاصل کر رکھی تھی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہوا بازی کا بحران پیدا ہونے کے بعد مختلف ممالک بشمول ملائیشیا، ویتنام، متحدہ عرب امارات، عمان، بحرین اور قطر کے حکام نے اس بات کی تصدیق کے لیے باضابطہ طور پاکستان سے رابطہ کیا تھا کہ کیا سی اے اے کی جانب سے جاری کردہ کمرشل پائلٹ لائسنسز(سی پی ایل)/ایئرلائن ٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنسز(اے ٹی پی ایل) درست اور حقیقی ہیں۔

کچھ ممالک نے پائلٹس کے لائسنس کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے پوچھا تھا کہ بتایا جائے کہ تمام سویلین پائلٹس کے صحیح طور پر لائسنس یافتہ ہونے اور آئی سی اے او کے قواعد کے مطابق تربیت یافتہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے گئے۔

اس سلسلے میں عمان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی سلام ایئر اور دیگر ایئرلائنز میں کام کرنے والے 18 پاکستانی پائلٹس کی فہرست بھیجی تھی تاکہ اس بات کی تصدیق کی جاسکے کہ ان کے لائسنس سول ایوی ایشن اتھارٹی سے جاری کردہ ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ 18 پاکستانی پائلٹس کے لائسنس کی دوبارہ جانچ کی گئی اور کلیئر قرار دے دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ قطر کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی پاکستانی سول ایوی ایشن سے جاری کردہ سی پی ایل/اے ٹی پی ایل کی تصدیق کے لیے 39 پاکستانی پائلٹس کی فہرست بھجوائی تھی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ان 39 میں سے 37 پائلٹس کے لائسنس کی تصدیق کرلی گئی جبکہ باقی دو کے لائسنس کی تصدیق میں کچھ وقت لگے گا۔

اس کے علاوہ کویت میں کام کرنے والے 6 اور سعودی عرب میں ملازمت کرنے والے 7 پاکستانی پائلٹس کو بھی کلیئر کردیا گیا حالانکہ دونوں ممالک کی جانب سے سی اے اے کو وہاں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس کے لائسنس کی تصدیق کی باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی تھی۔

بنگلہ دیش کیلئے خصوصی پرواز کی اجازت

اس کے ساتھ ساتھ سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے پھنسے ہوئے مسافروں اور ایک میت کی واپسی کے لیے 16 جولائی کو ڈھاکا سے لاہور اور پھر ڈھاکا کے لیے یو ایس بنگلہ ایئرلائن کی ایک خصوصی چارٹر پرواز چلانے کی اجازت دے دی۔

سی اے اے کے مطابق اس اجازت پر متعلقہ حکام کی جانب سے کووِڈ 19 کے جاں بحق مریضوں کی میتوں کی منتقلی سمیت تمام اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کے ساتھ عمل کرنا ہوگا۔

پائلٹس کے 'مشکوک' لائسنسز کا معاملہ

خیال رہے کہ پائلٹس کے مشکوک یا جعلی لائسنسز کے معاملے کا آغاز 24 جون کو اس وقت ہوا جب قومی اسمبلی میں کراچی مسافر طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ 860 پائلٹس میں سے 262 ایسے پائے گئے جن کی جگہ کسی اور نے امتحان دیا تھا۔

جس کے بعد پاکستان نے 26 جون کو امتحان میں مبینہ طور پر جعل سازی پر پائلٹس کے لائسنسز کو 'مشکوک' قرار دیتے ہوئے انہیں گراؤنڈ کردیا تھا۔

غلام سرورخان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 'جن پائلٹس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ 262 ہیں، پی آئی اے میں 141، ایئربلیو کے 9، 10 سرین، سابق شاہین کے 17 اور دیگر 85 ہیں'۔

جس کے بعد پی آئی اے کی انتظامیہ نے اپنے 150 پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے (کام کرنے سے روکنے) کا فیصلہ کیا تھا۔

29 جون کو ویتنام کی ایوی ایشن اتھارٹی نے عالمی ریگولیٹرز کی جانب سے پائلٹس کے ’مشکوک لائسنس‘ رکھنے کی تشویش پر مقامی ایئرلائنز کے لیے تمام پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا تھا۔

اگلے روزیورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے یورپی ممالک کے فضائی آپریشن کا اجازت نامہ 6 ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کردیا تھا جس پر 3 جولائی سے اطلاق ہوا۔

اسی روز اقوام متحدہ کے ڈپارٹمنٹ آف سیفٹی اینڈ سیکیورٹی (یو این ڈی ایس ایس) نے پاکستانی ایئرلائن کو اپنی 'تجویز کردہ فہرست' سے ہٹا دیا تھا۔

جس کے بعد یکم جولائی کو برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے 3 ایئرپورٹس سے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا جبکہ متحدہ عرب امارت نے بھی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے مختلف فضائی کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس اور انجینئرز کے کوائف کی تصدیق کی درخواست کی تھی۔

اس کے بعد 3 جولائی کو ملائشیا کے ایوی ایشن ریگولیٹر نے پاکستانی لائسنس رکھنے والے اور مقامی ایئر لائنز میں ملازمت کرنے والے پائلٹس کو عارضی طور پر معطل کردیا تھا۔

جس کے بعد 4 جولائی کو وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد مزید 30 ’مشتبہ لائسنس' کے حامل پائلٹس کو اظہار وجوہ کے نوٹسز بھیجے جاچکے ہیں۔

7 جولائی کو یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے 32 رکن ممالک کو 'پاکستان میں جاری کردہ پائلٹ لائسنسز سے متعلق مبینہ فراڈ' کے حوالے سے خط لکھا اور ان پائلٹس کو فلائٹ آپریشن سے روکنے کی سفارش کی تھی۔

اسی روز سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 'مشکوک' لائسنسز سے متعلق انکوائریاں مکمل ہونے کے بعد پی آئی اے کے 34 پائلٹس کے کمرشل فلائنگ لائسنسز معطل کردیے تھے۔

بعدازاں 9 جولائی کو امریکا نے بھی پاکستانیوں کی واپسی کے لیے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی خصوصی پروازوں کے اجازت نامے کو منسوخ کردیا تھا۔

10 جولائی کو ایوی ایشن ڈویژن نے مختلف ممالک کی ایئرلائنز میں کام کرنے والے 95 فیصد پائلٹس کے لائسنز کلیئر کردیے تھے جبکہ باقی کی تصدیق کا عمل آئندہ ہفتے مکمل کرنے سے متعلق آگاہ کیا تھا۔