صحافی مطیع اللہ جان کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہوں، خواجہ آصف

اپ ڈیٹ 21 جولائ 2020

ای میل

خواجہ آصف کے مطابق مطیع اللہ جان کو پولیس کی تحویل میں لیا گیا ہے —فوٹو: ڈان نیوز
خواجہ آصف کے مطابق مطیع اللہ جان کو پولیس کی تحویل میں لیا گیا ہے —فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اپنی جماعت کی جانب سے صحافی مطیع اللہ جان کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہوں۔

اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کی درخواست ضمانت سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ میں جانے والے اور انصاف کے طلب گار اس کیس کا حوالہ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے موجودہ نظام کے خلاف جنگ میں جو مشکلات برداشت کیں لیکن پیچھے نہیں ہٹے اور آج بھی ایک چٹان کی طرح اپنے نظریے، قائد اور جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مزید پڑھیں: صحافی مطیع اللہ جان اسلام آباد سے لاپتا

خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ایک ایسے عمل کا آغاز ہے جو اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ آنے والے وقت میں انصاف کا بول بالا ہوگا اور حکمران جب اپنی ذاتی انا اور اغراض و مقاصد کے لیے قانون اور اداروں کا استعمال کرتے ہیں تو کسی نہ کسی دن انصاف کا بول بالا ہوتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ میں اپنی جماعت کی جانب سے صحافی مطیع اللہ جان کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہوں، مطیع اللہ جان کو پولیس نے تحویل میں لیا گیا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اس وقت میڈیا جو کردار ادا کررہا ہے اور حکومت کے خلاف میڈیا میں جو آوازیں اٹھ رہی ہیں اور 2 سال میں کایا پلٹی ہے کہ ایسی ایسی آوازیں جو حکومت کی حمایت کرتی تھیں، آج وہ ان کے سب سے بڑے ناقد بن گئے ہیں۔

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ مطیع اللہ جان نے میڈیا اور صحافت کی آزادی کے لیے پہلے بھی بات کی اور آج بھی بات کی اور میرا خیال ہے کہ کل (بروز بدھ) سپریم کورٹ میں توہین عدالت کے مقدمے میں ان کی پیشی بھی تھی۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ایسے موقع پر انہیں تحویل میں لینا، ان کی آواز کو، صحافت کی آواز کو خاموش کرنے کی ایک کوشش ہے جو ناکام ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہم بحیثیت پارٹی، اسمبلی کے اندر اور باہر آزادی اظہار رائے کی حمایت کریں گے کہ اس ملک میں ہر شخص کو جو بھی ضابطہ اخلاق ہے اس کے مطابق تقریر و تحریر کی آزادی ہونی چاہیے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے خواجہ آصف نے مزید کہا کہ کوئی صحافی یا سیاسی کارکن، حکومت کے خلاف کچھ کہتا ہے اور اسے اس طریقے سے نشانہ بنایا جائے گا تو ہم بھی ان کی آواز کے ساتھ آواز ملائیں گے اور احتجاج کے تمام آپشنز استعمال کریں گے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ جس طرح صحافت کا گلا گھونٹا جارہا ہے اس کی ایک مثال میر شکیل الرحمٰن کی نظر بندی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پجھلے 2 سال میں اور اس سے پہلے بھی صحافیوں کو سچ بولنے سے روکنے پر جس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے وہ ایک مہذب معاشرے میں نہیں ہوتے۔

مسلم لیگ(ن) کے رہنما نے کہا یہ وقت ہے کہ ہم آئین میں درج آزادی اظہار رائے کے حق سے متعلق ذمہ داری کو پورا کریں گے، ہم نے حلف اٹھایا ہے اور اس ذمہ داری کو پورا کریں گے۔

نیب اور حکومت مل کر اس ادارے کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیں، شاہد خاقان عباسی

ان کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سعد رفیق کے کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اس لیے تاریخی حیثیت رکھتا ہے کہ احتساب کا جو تماشا لگا ہوا ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

—فوٹو: ڈان نیوز
—فوٹو: ڈان نیوز

انہوں نے کہا کہ فیصلے میں کہا گیا کہ اقتدار کی ہوس، اداروں پر قبضے نے حکمرانوں کو مجبور کردیا کہ وہ آئین و قانون کو پامال کریں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عدالت نے کہا کہ سعد رفیق کا کیس ایک واضح مثال ہے کہ کس طرح حکومت، حکومتی ادارے آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کو پامال کرتے ہیں، ہراساں کرتے ہیں، غیرقانونی حراست میں لیتے ہیں اور آزادی سے محروم کرتے ہیں اور آئین میں دیے گئے انسانی وقار کو پامال کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پیراگون سٹی کیس: ’نیب ملک و قوم کی خدمت کے بجائے اسے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہا ہے‘

سابق وزیراعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نیب کے طرز عمل کے بارے میں جو باتیں لکھی ہیں وہ اتنی ٹھوس ہیں کہ آج نیب اور حکومت مل کر اس ادارے کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیں کیونکہ سپریم کورٹ یہ لکھ دیا ہے کہ یہ کیس قانون سے لاتعلقی ہے کہ نہ قانونی، اخلاقی اور آئینی قدروں اور 15 ماہ میں سعد رفیق کا کوئی تعلق ثابت نہیں کیا جاسکا۔

انہوں نے سعد رفیق کی ضمانت سے متعلق سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ اس کیس کا نہیں ہے، ہر کیس میں یہی حالت ہے، نیب کے خلاف کھڑے ہوئے، بہت آسان تھا کہ ہم سر جھکالیتے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ' ہمارا ان سے کوئی مطالبہ نہیں ہے اگر یہ فیصلہ پڑھ سکتے ہیں تو پڑھ لیں اور چلو بھر پانی میں ڈوب مریں، یہ ہمارے ملک کی حقیقت ہے جو سپریم کورٹ نے عیاں کی ہے'۔

حکومت، پاکستان کو جمہوری نہی بلکہ پھینٹا کریسی بناناچاہتی ہے، احسن اقبال

ان کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مؤقف کی تائید کی ہے جو پاکستان مسلم لیگ (ن) پچھلے 2 سال سے دوہرا رہی ہے کہ نیب کے ذریعے سیاسی انجینیئرنگ کی کوشش کی جارہی ہے، نیب کے ذریعے ان لوگوں کو ڈرانے اور خوفزدہ کرنے اور ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے جو اپنے نظریے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

—فوٹو: ڈان نیوز
—فوٹو: ڈان نیوز

احسن اقبال نے کہا کہ 'پاکستان کی تاریخ نے یہ دیکھا ہے کہ پرویز مشرف کے دور میں لوگ جھک گئے، نیب کے آگے سجدہ ریز ہوگئے لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کے یہ سپاہی جنہیں اس دھرتی سے، امنِ پاکستان سے اور جمہوریت سے پیار ہے وہ نہیں جھکے اور اسی کاررواں کے 2 سپاہیوں خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کو 16 ماہ تک قید میں رکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میں سوال کرتا ہوں کہ اس فیصلے کے بعد ان دونوں کے 16 مہینے کون لوٹائے گا کہ جن 16 مہینوں میں زبردستی اور غیر آئینی طریقے سے ان کے بچوں کو والد سے جدا کیا گیا اور جو کردار کشی کی گئی اس کا نقصان کون پورا کرے گا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ یہ وہ سوال ہے جو آج پاکستانی ریاست کے سامنے کھڑا ہے کہ ہم نے ایک آئینی، جمہوری ریاست بننا ہے یا نہیں۔

مزید پڑٖھیں: پیراگون ہاؤسنگ کیس: سپریم کورٹ نے خواجہ برادران کی ضمانت منظور کرلی

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ آج مطیع اللہ جان کو جس طرح گرفتار کیا گیا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ حکومت، پاکستان کو جمہوری نہیں بلکہ 'پھینٹا کریسی' بنانا چاہتی ہے کہ جو حکومت کے خلاف بولے گا اس کو 'پھینٹا' (مار) لگے گا، گرفتار کیا جائے گا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اسی طرح میر شکیل الرحمٰن کو انکوائری مکمل ہونے سے پہلے گرفتار کیا گیا، اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کو سامنے رکھا جائے تو نیب کو از خود میر شکیل کو رہا کردینا چاہیے، اس فیصلے کے بعد جیل میں گزرنے والا ان کا ہر دن غیر آئینی حراست ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح میں نے، شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسمٰعیل نے غیرقانونی حراست کاٹی لیکن ہم میں سے کسی کے حوصلوں میں کوئی کمی نہیں آئی اور نہ آئے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ اس حکومت کو اب گھر بھیجنا ملک کے آئینی تشخص کے لیے ضروری ہوگیا ہے، یہ نااہل، نالائق اور کرپٹ حکومت ہے، لوگوں کو آٹا اور چینی نہیں مل رہی، کراچی میں بجلی اور پانی نہیں ہے، بلوچستان اور فاٹا کے لوگ پریشان ہیں، پنجاب کو پسماندگی میں دھکیلتے ہوئے ہماری 10 سال کی محنت پر پانی پھیردیا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب کا کوئی جواز نہیں ہے، سعد رفیق

احسن اقبال کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعد رفیق نے کہا کہ جو منظر گزشتہ روز دیکھنے کو ملا اس کا ساڑھے 3 سال سے انتظار تھا جب 2017 میں ہماری حکومت ہونے کے باوجود نواز شریف کی حکومت کے خلاف سازش کی گئی اور ملک کے منتخب وزیراعظم کو نکالا گیا تو اس کے بعد کی کہانی سب کے سامنے ہے۔

سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان میں یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا، سپریم کورٹ کے تاریخ ساز فیصلے کے 3 حصے ہیں، پہلے حصے کا تعلق میرے اور سلمان رفیق کے کیس سے ہے جس کے بارے میں یہی جملہ کافی ہے یہ انسانیت کی تذلیل ہے، ناانصافی پر مبنی اور بے بنیاد ہے۔

—فوٹو: ڈان نیوز
—فوٹو: ڈان نیوز

انہوں نے کہا کہ فیصلے کے دوسرے حصے کا تعلق احتساب کے ادارے نیب کی کارکردگی اور تیسرا حصہ پاکستان کی بدقسمت سیاسی تاریخ سے متعلق ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعد رفیق، سلمان رفیق کی درخواست ضمانت مسترد

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کےساتھ اس ریاست میں مسلسل بدسلوکی ہوئی ہے، ہر دور میں ہم نے آمریت کا مقابلہ کیا لیکن اس بار جو ہوا اس کی نظیر نہیں ملتی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ من حیث الجماعت ہمیں چور اور ڈاکو ثابت کرنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا گیا، ہمیں انصاف دینے میں تاخیر ہوئی جس آزاد عدلیہ کے لیے ہم نے جیلیں کاٹیں انہوں نے انصاف میں تاخیر کی لیکن ان معزز ججز کی عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے آئین، قانون اور صداقت کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔

سعد رفیق نے کہا کہ یہ فیصلہ ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے حوالے دیے جائیں گے لیکن اب یہ چلن ختم ہونا چاہیے اگر ایسا چلتا رہا تو ملک کے لیے قربانی دینے والے کم ہوتے چلیں جائیں گے۔

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب کے ادارے کا اصولی طور پر کوئی جواز نہیں ہے، پارلیمنٹ کو احتساب کا نیا ادارہ بنانا چاہیے جبکہ پارلیمنٹ اور تمام سیاسی جماعتوں پر لازم ہےکہ اس معاملے پر قانون سازی کریں۔