نقیب اللہ کیس کے دو اہم گواہ اپنے بیان سے منحرف

اپ ڈیٹ 21 جولائ 2020

ای میل

نقیب اللہ محسود کو ایس ایس پی راؤ انوار اور ان کی ٹیم کی جانب سے عثمان خاصخیلی گوٹھ میں جعلی مقابلے میں مار دیا گیا تھا — فائل فوٹو: فیس بک
نقیب اللہ محسود کو ایس ایس پی راؤ انوار اور ان کی ٹیم کی جانب سے عثمان خاصخیلی گوٹھ میں جعلی مقابلے میں مار دیا گیا تھا — فائل فوٹو: فیس بک

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نقیب اللہ کیس میں پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے دو گواہان اپنے بیان سے منحرف ہو گئے۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت کے موقع پر راؤ انوار سمیت دیگر ملزمان کو پیش کیا گیا۔

مزید پڑھیں: نقیب اللہ قتل کیس: 5 ملزمان کی ضمانت مسترد

سماعت کے دوران سابق ان کاؤنٹر اسپیشلسٹ راؤ انوار کے خلاف دو اہم گواہ پولیس اہلکار شہزاد جہانگیر اور رانا آصف اپنے بیان سے منحرف ہو گئے۔

گواہوں نے عدالت میں بیان دیا کہ سابق ایس ایس پی کے خلاف بیان زبردستی لیا گیا تھا۔

گواہ رانا آصف نے کہا کہ یہ واقعہ ان کے علم میں نہیں جبکہ دوسرے گواہ شہزادہ جہانگیر نے بھی دعویٰ کیا کہ ان سے بیان زبردستی لیا گیا اور ان کے سابقہ بیان میں کوئی صداقت نہیں۔

وکیل مدعی مقدمہ صلاح الدین پنہور ایڈووکیٹ نے کہا کہ سابق ایس ایس پی راؤ انوار کے دباؤ میں آکر بیان تبدیل کیا اور ہم گواہوں کے بیانات تبدیل کرانے کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نقیب اللہ قتل کیس میں راؤ انوار پر فرد جرم عائد

عدالت نے آئندہ سماعت پر دیگر گواہوں کو بھی طلب کر لیا۔

سماعت کے بعد عدالت کے باہر گفتگو کرتے ہوئے صلاح الدین پنہور نے کہا کہ منحرف ہونے والے یہ دونوں گواہ پولیس والے ہیں، جب یہ تین لوگوں کو شیر آغا ہوٹل سے گرفتار کر کے لائے تو اس وقت رانا آصف سچل ٹاؤن چوکی پر موجود تھا۔

انہوں نے کہا کہ رانا آصف نے دیکھا کہ یہ تینوں لڑکے وہاں موجود تھے اور اس کا باقاعدہ بیان ریکارڈ کیا گیا، اتنے عرصے سب ٹھیک رہا اور اب اچانک وہ اپنے بیان سے منحرف ہو گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ رانا آصف نے بیان دیا تھا کہ میں اس دن چوکی پر آیا تو یہ تین لڑکے وہاں موجود تھے اور اکبر ملاح نے انہیں حراست میں رکھا ہوا تھا اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سچل چوکی پر یہ موجود تھے لیکن آج اس نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان انتقال کرگئے

مدعی کے وکیل نے کہا کہ شہزادہ جہانگیر واقعے کے روز شاہ فیصل چوکی پر تھے، وہ یہ تو تسلیم کر رہا ہے کہ یہ حادثہ رونما ہوا لیکن جو حقائق اس نے بیان کیے تھے، وہ اپنے بیان سے منحرف ہو گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں ابتدا سے ہی گواہوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے لہٰذا ہم چاہ رہے ہیں کہ گواہوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور اس سلسلے میں کئی پٹیشن بھی فائل کر چکے ہیں۔

صلاح الدین پنہور نے کہا کہ جس کے ریکارڈ میں 555 قتل ہوں اس کے آگے کھڑے ہونا کوئی عام بات نہیں ہے اور جو آج عدالت میں ہوا وہ کوئی عام بات نہیں ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گواہوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

نقیب اللہ کا قتل

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والا نقیب اللہ محسود ان 4 مشتبہ افراد میں شامل تھا، جنہیں جنوری 2018 میں کراچی میں سابق انکاؤنٹر اسپیشلسٹ ایس ایس پی راؤ انوار اور ان کی ٹیم کی جانب سے عثمان خاصخیلی گوٹھ میں 'جعلی مقابلے' میں مار دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نقیب اللہ کا قتل ماورائے عدالت قرار

راؤ انوار کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ مارے گئے افراد کا تعلق کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) سے تھا لیکن اس کالعدم تنظیم کے جنوبی وزیرستان چیپٹر کے ترجمان نے راؤ انوار کے اس دعوے کو 'بے بنیاد' قرار دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ نقیب اللہ کا ان کی کالعدم تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ نقیب اللہ کے اہل خانہ نے بھی سابق ایس ایس پی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے 27 سالہ بیٹے کا کسی عسکری تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

نقیب اللہ جن کا شناختی کارڈ پر نام نسیم اللہ تھا ان کے بارے میں ایک رشتے دار نے ڈان کو بتایا تھا کہ نقیب دکان کا مالک تھا اور اسے ماڈلنگ کا بہت شوق تھا۔

اس تمام معاملے پر عدالت عظمیٰ کے اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے ازخود نوٹس بھی لیا گیا تھا جبکہ جنوری 2019 میں کراچی میں انسداد دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ اور دیگر 3 لوگوں کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے پولیس انکاؤنٹر میں مارے گئے چاروں افراد کے خلاف درج مقدمات کو خارج کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: ’نقیب اللہ کا قتل راؤ انوار کے اعلان کے 2 گھنٹے بعد کیا گیا‘

بعد ازاں مارچ میں اے ٹی سی نے جعلی انکاؤنٹر میں نقیب اللہ قتل کیس میں راؤ انوار اور 17 ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی۔

تاہم اس کیس میں راؤ انوار سمیت سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس قمر ضمانت پر ہیں جبکہ دیگر آٹھ ملزمان اس کیس میں جیل میں ہیں، اس کے علاوہ سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت اور شعیب شیخ اس کیس میں مفرور ہیں۔