آپریٹرز صارفین کیلئے 'غیراخلاقی' مواد کو ناقابل رسائی بنائیں، پی ٹی اے

اپ ڈیٹ 25 جولائ 2020

ای میل

یوٹیوب پر پابندی پر غور سے متعلق پی ٹی اے نے اس امکان کی تصدیق یا تردید نہیں کی—فائل فوٹو:پی ٹی اے
یوٹیوب پر پابندی پر غور سے متعلق پی ٹی اے نے اس امکان کی تصدیق یا تردید نہیں کی—فائل فوٹو:پی ٹی اے

کراچی: سپریم کورٹ کی جانب سے یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 'قابل اعتراض مواد' کا نوٹس لینے کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے انٹرنیٹ آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ صارفین کو ' غیراخلاقی یا غیرقانونی' مواد تک رسائی نہ ہو۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 21 جولائی کو جاری کردہ خط میں پی ٹی اے نے کہا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ غیراخلاقی مواد کا ایک بڑا حجم کانٹینٹ ڈیلیوری نیٹ ورکس(سی ڈی اینز) کے ذریعے فراہم کیا جارہا ہے۔

خط میں کہا گیا کہ 'آپ سے گزارش ہے کہ سی ڈی این کے ذریعے صارفین تک کوئی بھی فحش / غیر اخلاقی / غیر قانونی مواد فراہم نہ کرنے کو یقینی بنایا جائے اور اس ضمن میں تعمیل سے متعلق رپورٹ اس خط کے 10روز کے اندر جمع کرائیں'۔

  پی ٹی اے نے خبردار کیا کہ اس سلسلے میں عدم تعمیل جاری رکھنے کی صورت میں ضروری ضابطہ کار کارروائی کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس

خیال رہے کہ سی ڈی این، صارف کے قریب موجود کسی مقام سے مواد پیش کرکے ویب سائٹ کی لوڈنگ کی رفتار کو بہتر بناتا ہے۔

مثال کے طور پر، اگر کوئی صارف پاکستان میں ہے اور وہ برطانیہ میں موجود ویب سائٹ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو عام طور پر منتقلی کو ہر بار جغرافیائی فاصلہ عبور کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے یہ بہت ہی سست اور مہنگا پڑ جاتا ہے لہٰذا اس سست عمل کو نظرانداز کرنے کے لیے ایک سی ڈی این پاکستان میں مقامی سرور پر ویب سائٹ کے مواد کا ایک ’کیشڈ‘ (کاپی شدہ) ورژن اسٹور کرتا ہے۔

ویب ٹریفک کا بڑا حصہ سی ڈی این کے ذریعے ہی پیش کیا جاتا ہے، جس میں فیس بک، نیٹ فلکس، یوٹیوب اور ایمیزون جیسی بڑی سائٹس سے ٹریفک شامل ہوتا ہے۔

اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ نیٹ ورک کو لازمی طور پر اس کا تقریباً ایک تہائی مواد اصل ویب سائٹ سے لانا ہوگا لیکن کنیکشن کا ایک بڑا حصہ صارف اور پلیٹ فارم کے درمیان نہیں بلکہ صارف اور سی ڈی این کے درمیان ہے، جو مواد کی دو تہائی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

تاہم پی ٹی اے نے کہا کہ غیر قانونی مواد تک رسائی کو روکنے کے لیے اتھارٹی کے ذریعے نافذ کردہ فلٹرنگ میکانزم کو سی ڈی اینز کی شمولیت کی وجہ سے نظرانداز کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 37 لاکھ سے زائد نامناسب ویڈیوز ہٹادیں، ٹک ٹاک کا دعویٰ

پی ٹی اے نے کہا کہ چونکہ سی ڈی اینز کو یا تو آپریٹرز کے نیٹ ورک میں رکھا جاتا ہے یا آپریٹرز کے ذریعے سی ڈی این کنیکٹیویٹی قائم کی جاتی ہے لہٰذا یہ آپریٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے صارفین کو کوئی قابل اعتراض مواد پیش نہ کیا جائے۔

اس کے ساتھ ہی پی ٹی اے نے نشاندہی کی کہ اتھارٹی کو غیرقانونی آن لائن مواد کو بلاک کرنے یا ہٹانے کے لیے پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) 2016 کے سیکشن 37 کے تحت بااختیار بنایا گیا ہے۔

جس کے تحت پی ٹی اے کو پاکستان کے دفاع، اسلام کے وقار، غیر مہذب اور غیر اخلاقی، جعلی/ بدنامی، چائلڈ پورنوگرافی، کسی فرد کی شائستگی، اس کے وقار، توہین عدالت، عوامی حکم ، نفرت انگیز تقریر سے متعلق ایسے کسی بھی مواد کو ہٹانے، بلاک کرنے یا اس تک رسائی محدود کرنے کا اختیار حاصل ہے جسے یہ غیر قانونی سمجھتی ہو۔  

پلیٹ فارمز کی بندش

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت خارجہ اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیا تھا۔

عدالتی بینچ کے رکن جسٹس قاضی امین نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ نجی زندگی کا حق بھی ہمیں آئین دیتا ہے، یوٹیوب پر کوئی چاچا تو کوئی ماما بن کر بیٹھ جاتا ہے، ججز کو شرمندہ کیا جاتا ہے، عدلیہ، فوج اور حکومت کے خلاف لوگوں کو اکسایا جاتا ہے۔

ساتھ ہی بینچ کے رکن جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے تھے کہ امریکا اور یورپی یونین کے خلاف مواد یوٹیوب پر ڈال کر دکھائیں، کئی ممالک میں یوٹیوب بند ہے، انہوں نے کہا کہ کئی ممالک میں سوشل میڈیا کو مقامی قوانین کے تحت کنٹرول کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی اے کا 'پب جی' پر پابندی کا فیصلہ کالعدم، عدالت کا آن لائن گیم کھولنے کا حکم

یوٹیوب پر پابندی پر غور سے متعلق سوال پر پی ٹی اے نے اس طرح کے کسی امکان کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

واضح رہے کہ جولائی تا دسمبر 2019 کے لیے گوگل کی ٹرانسپیرنسی رپورٹ کے مطابق کمپنی کو مواد ہٹانے کے لیے ارسال کی گئی مجموعی درخواستوں میں 16 فیصد بدنامی اور 11 فیصد قومی سلامتی سے متعلق تھیں جبکہ گوگل پلیٹ فارمز کو 'مذہبی جرائم' سے متعلق 93 آئٹمز رپورٹ کیے گئے تھے۔

یوٹیوب پر پابندی کے خدشات کے علاوہ سوشل میڈیا صارفین اس وقت مایوس ہوئے جب پی ٹی اے نے بیگو کو بلاک کرنے کا اعلان کیا اور ٹِک ٹاک کو آخری وارننگ جاری کی۔

اس حوالے سے پی ٹی اے نے ڈان کو بتایا کہ ' ٹک ٹاک اور بیگو اس معاملے پر اتھارٹی کے ساتھ مصروف عمل ہیں، پلیٹ فارم کو غیر اخلاقی مواد کے حوالے سے خدشات بتائے گئے ہیں اور وہ ان خدشات کو دور کرنے کے لیے موزوں طریقہ کار پر کام کر رہے ہیں'۔

  تاہم پی ٹی اے نے یہ واضح نہیں کیا کہ بیگو کو بلاک کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے گا یا نہیں اور کیا مستقبل میں ٹک ٹاک کو بھی اسی طرح کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ عدالتی احکامات کے باوجود پاکستان میں پب جی گیم پر 'تاحال پابندی' عائد ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں لائیو اسٹریمنگ ایپ 'بیگو' پر پابندی، ٹک ٹاک کو آخری نوٹس

دوسری جانب ٹک ٹاک کی جانب سے ڈان کو موصول ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ایپ انتظامیہ کی اولین ترجیح قانون کی پاسداری کے ذریعے ایپ کے اندرونی ماحول کو محفوظ اور مثبت رکھنا ہے۔

ٹک ٹاک نے کسی بھی نامناسب مواد کی بروقت شناخت اور اس پر نظرثانی کے لیے متعدد ٹیکنالوجیز اور جدید حکمت عملی کا نفاذ کر رکھا ہے تاکہ نامناسب مواد صارفین تک نہ پہنچے۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جو بھی مواد ٹک ٹاک کے ضوابط کے برعکس ہوتا ہے، اس مواد کو نہ صرف فوری طور پر ہٹادیا جاتا ہے بلکہ ایسا مواد اپ لوڈ کرنے والے افراد پر جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے۔