اپوزیشن سے نیب مسودے پر رائے مانگی ہے، شاہ محمود قریشی

اپ ڈیٹ 28 جولائ 2020

ای میل

شاہ محمود قریشی کی زیرصدارت پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا—فائل/فوٹو:اے پی
شاہ محمود قریشی کی زیرصدارت پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا—فائل/فوٹو:اے پی

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت چاہتی ہے کہ اپوزیشن فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ایکشن پلان سے متعلق قانون سازی کو قومی احتساب آرڈیننس سے منسلک نہ کرے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایف اے ٹی ایف سے متعلق اقوامِ متحدہ (سیکیورٹی کونسل) بل 2020، انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020 اور قومی احتساب آرڈیننس وزیر خارجہ کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی امور میں زیر غور آئے۔

کمیٹی میں موجود ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ دونوں بل ایک ساتھ ہی منظور کیے جائیں تاہم حکومت کی خواہش ہے کہ قومی احتساب آرڈیننس کو ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی سے نہ منسلک کیا جائے۔

خیال رہے کہ قومی احتساب آرڈیننس میں مجوزہ ترامیم تقریباً وہی ہیں جو گزشتہ برس دسمبر میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کی گئی تھیں تاہم چیئرمین نیب کے عہدے کی مدت میں اضافے سے متعلق ایک ’متنازع‘ شق شامل کی گئی تھی جسے کمیٹی رکن کے مطابق واپس لے لیا گیا۔

یہ بھی پڑیھں: ایف اے ٹی ایف قانون سازی میں تاخیر مشکلات کا سبب بن سکتی ہے، وزیر خارجہ

دوسری جانب حکومتی اراکین کا کہنا تھا کہ اب تک نیب چیئرمین کے عہدے کی مدت میں توسیع کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا لکن ایک حکومتی رکن نے کہا کہ ابھی یہ دعویٰ کرنا قبل از وقت ہے اور یہ فیصلہ ابھی نہیں ہوا کہ چیئرمین نیب کے عہدے کی مدت میں توسیع کی جائے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپوازیشن کو کہا ہے کہ قومی احتساب آرڈیننس کو ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی سے منسلک نہ کیا جائے کیوں کہ یہ قومی مفاد سے متعلق ہے۔

ان کے مطابق ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی 3 اگست سے پہلے کرنا لازمی ہے جبکہ احتساب آرڈیننس میں ترمیم بعد میں کسی بھی وقت باہمی سمجھوتے سے کی جاسکتی ہے۔

اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق مسودے پر پارلیمانی کمیٹی میں بحث کی گئی اور مجوزہ مسودہ اپوزیشن کو فراہم کردیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت اسلام آباد میں پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں حکومت کی جانب سے وزیر قانون فروغ نسیم، شیریں مزاری، حماد اظہر، شفقت محمود، اسد عمر، بیرسٹر سیف اور شہزاد اکبر شریک ہوئے۔

مزید پڑھیں:چیئرمین نیب میں شرم و حیا ہے تو استعفیٰ دے کر گھر جائیں، بلاول بھٹو

اپوزیشن کی جانب سے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے اراکین پارلیمنٹ شیری رحمٰن، راجا پرویز اشرف، نوید قمر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے جاوید عباسی اور ایاز صادق بھی اجلاس میں شریک تھے۔

پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں نیب کے مجوزہ مسودے پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن کو مسودہ فراہم کر دیا گیا ہے تاہم اپوزیشن کو مشاورت کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن سے نیب مسودے پر رائے مانگی ہے اور جاننا چاہتے ہیں کہ اپوزیشن اس حوالے سے کیا چاہتی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ اپوزیشن اور ہماری سوچ میں کتنی خلیج ہے اور اس کو کیسے عبور کرنا ہے۔

خیال رہے کہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس کل شام 6 بجے دوبارہ ہوگا۔

بابر اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک قومی مسئلہ ہے اور ہم اس مسئلے پر اتفاق رائے چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے قانون میں بہتری کے لیے اپوزیشن سے گفتگو کی لیکن تاحال کسی مسودے پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:نیب اور حکومت مل کر اس ادارے کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیں، شاہد خاقان عباسی

بابر اعوان نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ ابھی گفتگو جاری ہے، وزیراعظم عمران خان اداروں کی بہتری کے لیے گنجائش نکالنے کو تیار ہیں اور اداروں میں بہتری لائی جا سکتی ہے لیکن ادارے ختم نہیں کیے جا سکتے۔

سینیٹر شیری رحمٰن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق اہم بل میں ترامیم لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی اصل شرائط کو بھی دیکھ رہے ہیں اور حکومت کے ساتھ نیب پر بھی بات چیت چل رہی ہے۔

پی پی پی سینیٹر نے کہا کہ حکومت کے مسودے میں خامیاں موجود ہیں جبکہ زیر التوا قانون سازی پر بھی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر بات پر آئین، قانون اور بنیادی حقوق کو ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی ضمانت کے فیصلے میں نیب کے کردار پر اٹھائے گئے سوالات کے بعد اپوزیشن نے ادارے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ سعد رفیق کے کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اس لیے تاریخی حیثیت رکھتا ہے کہ احتساب کا جو تماشا لگا ہوا ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے کہا کہ سعد رفیق کا کیس ایک واضح مثال ہے کہ کس طرح حکومت، حکومتی ادارے آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کو پامال کرتے ہیں، ہراساں کرتے ہیں، غیرقانونی حراست میں لیتے ہیں اور آزادی سے محروم کرتے ہیں اور آئین میں دیے گئے انسانی وقار کو پامال کرتے ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے نیب کے طرز عمل کے بارے میں جو باتیں لکھی ہیں وہ اتنی ٹھوس ہیں کہ آج نیب اور حکومت مل کر اس ادارے کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیں کیونکہ سپریم کورٹ یہ لکھ دیا ہے کہ یہ کیس قانون سے لاتعلقی ہے کہ نہ قانونی، اخلاقی اور آئینی قدروں اور 15 ماہ میں سعد رفیق کا کوئی تعلق ثابت نہیں کیا جاسکا۔

مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ نیب کے ذریعے سیاسی انجینیئرنگ کی کوشش کی جارہی ہے، نیب کے ذریعے ان لوگوں کو ڈرانے اور خوفزدہ کرنے اور ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے جو اپنے نظریے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

مزید پڑٖھیں: پیراگون ہاؤسنگ کیس: سپریم کورٹ نے خواجہ برادران کی ضمانت منظور کرلی

خواجہ سعد رفیق نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب کے ادارے کا اصولی طور پر کوئی جواز نہیں ہے، پارلیمنٹ کو احتساب کا نیا ادارہ بنانا چاہیے جبکہ پارلیمنٹ اور تمام سیاسی جماعتوں پر لازم ہےکہ اس معاملے پر قانون سازی کریں۔

دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں نیب کے بارے میں جو کہا ہے اس کے بعد نیب کے رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا اور چیئرمین نیب میں اگر کوئی شرم اور حیا ہے تو استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ نیب کو سیاسی انجینئرنگ کے لیے اور سیاسی مخالفین کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن اب سپریم کورٹ بھی یہی بات کہہ رہی ہے، سپریم کورٹ کے حکم میں نیب، اسٹیبلشمنٹ اور کٹھ پتلی سیاسی جماعتوں کا احتساب کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کو بند کردیا جائے، اس غیر آئینی، غیر جمہوری ادارے کے دروازوں کو تالا لگادیا جائے۔

بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ اس فیصلے کے بعد کیا اس ادارے کی موجودگی آئینی ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کا ہمیشہ سے مؤقف ہے کہ نیب آرڈیننس ایک آمر کا بنایا ہوا کالا قانون ہے جسے سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ہم اس معاملے کو یہاں نہیں چھوڑ سکتے، پارلیمان اور جمہوری جماعتوں کو اس پر فوری ایکشن لینا چاہیے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا تھا کہ پہلا قدم ہمارا یہ ہونا چاہیے کہ نیب کو فوری طور پر بند کردیں اور تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈز مل کر سب کے احتساب کے لیے ایسی قانون سازی کریں جس میں سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے تاکہ حقیقت میں کرپشن کا خاتمہ ہو۔