سعودی عرب: پاکستانی پائلٹس کی اسناد کی تصدیق طلب

اپ ڈیٹ 31 جولائ 2020

ای میل

سینئر عہدیدار پی سی اے اے کے مطابق 30 پائلٹس کی اسناد کو درست قرار دیا گیا ہے بقیہ افراد کی تصدیق کا عمل جاری ہے — فائل فوٹو:اے ایف پی
سینئر عہدیدار پی سی اے اے کے مطابق 30 پائلٹس کی اسناد کو درست قرار دیا گیا ہے بقیہ افراد کی تصدیق کا عمل جاری ہے — فائل فوٹو:اے ایف پی

راولپنڈی: سعودی عرب نے ملک میں کام کرنے والے 33 پاکستانی پائلٹس اور آٹھ تکنیکی ماہرین کی اسناد کی تصدیق طلب کرلی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی سی اے اے کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے 41 پاکستانیوں کی فہرست، ان کی اسناد کی تصدیق کے لیے بھیجی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 30 پائلٹس کی اسناد کو درست قرار دیا گیا ہے بقیہ افراد کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔

اس سے قبل پی سی اے اے کو متحدہ عرب امارات، ترکی، ملائیشیا، ویتنام، بحرین، ایتھوپیا، ہانگ کانگ، عمان، قطر اور کویت سے بھی ایسی ہی درخواستیں موصول ہوچکی ہیں۔

تاہم بعد ازاں پاکستانی حکام نے ملائیشیا، ویتنام، قطر، عمان سمیت دیگر ممالک کو پائلٹس کے اسناد کی تصدیق کردی تھی جس کے بعد کئی ایئرلائنز نے پاکستانی پائلٹس کو بحال کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: پی آئی اے کا برطانیہ کیلئے پروازیں بحال کرنے کا اعلان

پی سی اے اے نے بتایا کہ جانچ اور توثیق کے عمل کے بعد انضباطی کارروائی کی نگرانی وزیر ایوی ایشن غلام سرور خان کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ 23 جولائی کو ملائیشیا کی سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے ایم) نے کہا تھا کہ پاکستانی لائسنس رکھنے اور مقامی ایئر لائنز میں ملازمت کرنے والے تمام 18 پائلٹس کے لائسنس مستند ہونے کی تصدیق کردی گئی ہے۔

سی اے اے ایم کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) نے ملائیشیا میں ملازمت کرنے والے تمام پائلٹس کے لائسنس کے مستند ہونے کی تصدیق کی۔

پائلٹس کے 'مشکوک' لائسنسز کا معاملہ

خیال رہے کہ 24 جون کو قومی اسمبلی میں کراچی مسافر طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ 860 پائلٹس میں سے 262 ایسے پائے گئے جن کی جگہ کسی اور نے امتحان دیا تھا۔

جس کے بعد پاکستان نے 26 جون کو امتحان میں مبینہ طور پر جعل سازی پر پائلٹس کے لائسنسز کو 'مشکوک' قرار دیتے ہوئے انہیں گراؤنڈ کردیا تھا۔

وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 'جن پائلٹس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ 262 ہیں، پی آئی اے میں 141، ایئربلیو کے 9، 10 سرین، سابق شاہین کے 17 اور دیگر 85 ہیں'۔

جس کے بعد پی آئی اے کی انتظامیہ نے اپنے 150 پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے (کام کرنے سے روکنے) کا فیصلہ کیا تھا۔

بعدازاں 29 جون کو وینتام کی ایوی ایشن اتھارٹی نے عالمی ریگولیٹرز کی جانب سے پائلٹس کے ’مشکوک لائسنس‘ رکھنے کی تشویش پرمقامی ایئرلائنز کے لیے تمام پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا تھا۔

جس کے بعد 30 جون کو یورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے یورپی ممالک کے فضائی آپریشن کا اجازت نامہ 6 ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کردیا تھا جس پر 3 جولائی سے اطلاق ہوگا۔

اسی روز اقوام متحدہ کے ڈپارٹمنٹ آف سیفٹی اینڈ سیکیورٹی (یو این ڈی ایس ایس) نے پاکستانی ایئرلائن کو اپنی 'تجویز کردہ فہرست' سے ہٹا دیا تھا۔

جس کے بعد یکم جولائی کو برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے 3 ایئرپورٹس سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی پروازوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا جبکہ متحدہ عرب امارت نے بھی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے مختلف فضائی کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس اور انجنیئرز کے کوائف کی تصدیق کی درخواست کی تھی۔

بعد ازاں پاکستانی حکام نے ملائیشیا، ویتنام، قطر، عمان سمیت دیگر ممالک کو پائلٹس کے اسناد کی تصدیق کردی تھی جس کے بعد کئی ایئرلائنز نے پاکستانی پائلٹس کو بحال کردیا ہے۔