پی آئی اے کا برطانیہ کیلئے پروازیں بحال کرنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 30 جولائ 2020

ای میل

یکم جولائی کو برطانیہ نے اپنے 3 ایئرپورٹس سے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا ۔—فائل فوٹو:ڈان
یکم جولائی کو برطانیہ نے اپنے 3 ایئرپورٹس سے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا ۔—فائل فوٹو:ڈان

قومی ایئر لائن (پی آئی اے) نے برطانیہ کے لیے اپنی پروازیں بحال کرنے کا اعلان کردیا۔

پی آئی اے حکام نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ 'قومی ایئر لائن کی پروازیں برطانیہ کے لیے دوبارہ شروع ہورہی ہیں'۔

مزید پڑھیں: ملائیشیا نے لائسنس مستند ہونے کی تصدیق پر پاکستانی پائلٹس کو بحال کردیا

علاوہ ازیں ٹوئٹ میں کہا گیا کہ 'اب پی آئی اے کے مسافر برطانیہ کے 3 مقامات کے لیے براہ راست سفر کرسکیں گے'۔

خیال رہے کہ یکم جولائی کو برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے 3 ایئرپورٹس سے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔

برطانوی اتھارٹی کے ترجمان نے بتایا تھا کہ 'برمنگھم، لندن ہیتھرو اور مانچسٹر ایئرپورٹس سے پی آئی اے کی پروازیں فوری طور پر معطل کی جاتی ہیں'۔

خیال رہے کہ برطانیہ کے مذکورہ تینوں ایئرپورٹس ایئرلائن کی بڑی منازل ہیں۔

مزید پڑھیں: ملائیشیا نے سی اے اے سے لائسنس کی تصدیق کے منتظر پاکستانی پائلٹس کو معطل کردیا

برطانیہ کی جانب سے یہ اعلان یورپی یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) کے آئندہ 6 ماہ تک پی آئی اے کے آپریشن معطل کرنے کے فیصلے کے بعد کیا گیا تھا۔

بعدازاں پی آئی اے کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اس کا اطلاق یکم جولائی 2020 کو رات بجے سے ہوگا اور کہا تھا کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جاسکے گی۔

قومی ایئرلائن کا کہنا تھا کہ یورپی یونین ایئرسیفٹی ایجنسی کے اس فیصلے کے نتیجے میں پی آئی اے یورپ کی تمام پروازیں عارضی مدت کے لیے منسوخ کررہا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے یورپی یونین کی فضائی سیفٹی کے ادارے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ان کے خدشات کو دور کرنے کے لیے اصلاحی اقدامات کررہا ہے۔

مزید پڑھیں: پائلٹس کے لائسنس جعلی یا مشکوک؟ اصل معاملہ آخر ہے کیا؟

واضح رہے کہ 23 جولائی کو ملائیشیا کی سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے ایم) نے کہا تھا کہ پاکستانی لائسنس رکھنے اور مقامی ایئر لائنز میں ملازمت کرنے والے تمام 18 پائلٹس کے لائسنس مستند ہونے کی تصدیق کردی گئی ہے۔

سی اے اے ایم کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) نے ملائیشیا میں ملازمت کرنے والے تمام پائلٹس کے لائسنس کے مستند ہونے کی تصدیق کی۔

پائلٹس کے 'مشکوک' لائسنسز کا معاملہ

خیال رہے کہ 24 جون کو قومی اسمبلی میں کراچی مسافر طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ 860 پائلٹس میں سے 262 ایسے پائے گئے جن کی جگہ کسی اور نے امتحان دیا تھا۔

جس کے بعد پاکستان نے 26 جون کو امتحان میں مبینہ طور پر جعل سازی پر پائلٹس کے لائسنسز کو 'مشکوک' قرار دیتے ہوئے انہیں گراؤنڈ کردیا تھا۔

وزیر ہوابازی غلام سرورخان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 'جن پائلٹس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ 262 ہیں، پی آئی اے میں 141، ایئربلیو کے 9، 10 سرین، سابق شاہین کے 17 اور دیگر 85 ہیں'۔

جس کے بعد پی آئی اے کی انتظامیہ نے اپنے 150 پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے (کام کرنے سے روکنے) کا فیصلہ کیا تھا۔

بعدازاں 29 جون کو وینتام کی ایوی ایشن اتھارٹی نے عالمی ریگولیٹرز کی جانب سے پائلٹس کے ’مشکوک لائسنس‘ رکھنے کی تشویش پرمقامی ایئرلائنز کے لیے تمام پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا تھا۔

جس کے بعد 30 جون کو یورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے یورپی ممالک کے فضائی آپریشن کا اجازت نامہ 6 ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کردیا تھا جس پر 3 جولائی سے اطلاق ہوگا۔

اسی روز اقوام متحدہ کے ڈپارٹمنٹ آف سیفٹی اینڈ سیکیورٹی (یو این ڈی ایس ایس) نے پاکستانی ایئرلائن کو اپنی 'تجویز کردہ فہرست' سے ہٹا دیا تھا۔

جس کے بعد یکم جولائی کو برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے 3 ایئرپورٹس سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی پروازوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا جبکہ متحدہ عرب امارت نے بھی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے مختلف فضائی کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس اور انجنیئرز کے کوائف کی تصدیق کی درخواست کی تھی۔