افغانستان: کار بم دھماکے میں 17 افراد ہلاک، 21 زخمی

31 جولائ 2020

ای میل

بم دھماکا عیدالاضحیٰ کے تہوار کے لیے تین روزہ سیز فائر کے آغاز سے چند گھنٹے قبل ہوا — فائل فوٹو / رائٹرز
بم دھماکا عیدالاضحیٰ کے تہوار کے لیے تین روزہ سیز فائر کے آغاز سے چند گھنٹے قبل ہوا — فائل فوٹو / رائٹرز

افغانستان کے صوبے لوگر میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق پُلی عالم شہر میں دھماکا اس وقت ہوا جب شہری عیدالاضحیٰ کی مناسبت سے خریداری میں مصروف تھے۔

شہر کے ہسپتال کے سینئر ڈاکٹر صدیق اللہ نے بتایا کہ 'ہمارے ہسپتال میں 17 لاشیں اور 21 زخمیوں کو لایا گیا۔'

حکام نے کہا کہ بم دھماکا عیدالاضحیٰ کے تہوار کے لیے تین روزہ سیز فائر کے آغاز سے چند گھنٹے قبل ہوا۔

لوگر کے گورنر کے ترجمان دیدار لَوانگ نے بتایا کہ 'یہ پُرہجوم جگہ پر خودکش کار بم دھماکا تھا جو عیدالاضحیٰ کی خریداری کرنے والے ہمارے لوگوں کے درمیان ہوا۔'

یہ بھی پڑھیں: افغان حکومت، طالبان کا عید الاضحیٰ پر جنگ بندی کا اعلان

طالبان کی طرف سے تین روزہ سیز فائر کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا جب جنگ زدہ ملک میں کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔

امریکا اور طالبان کے درمیان رواں سال 29 فروری کو ہونے والے امن معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے بین الافغان مذاکرات اہم مرحلہ ہے اور طالبان اور افغان حکومت دونوں قیدیوں کے تبادلے کا مرحلہ مکمل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

طالبان نے اپنے بیان میں کار بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا۔

افغان صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد جنگجوؤں کے حملوں میں ساڑھے 3 ہزار سے زائد افغان سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: مشرقی افغانستان میں طالبان کے حملے میں 14 افغان فوجی ہلاک

اقوام متحدہ کے افغانستان میں معاون مشن نے رواں ہفتے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اس سال کے پہلے چھ ماہ میں افغان حکومتی فورسز اور طالبان کے درمیان لڑائی کے دوران لگ بھگ ایک ہزار 300 افغان شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔