طورخم پر 6 ماہ بعد پولیو ویکسینیشن کا دوبارہ آغاز

11 ستمبر 2020

ای میل

پولیو ایک انتہائی معتدی مرض ہے جو زیادہ تر 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو اپنا شکار بناتا ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی
پولیو ایک انتہائی معتدی مرض ہے جو زیادہ تر 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو اپنا شکار بناتا ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی

خیبر: طورخم سرحد پر کورونا وائرس کی وجہ سے 6 ماہ سے تعطل کا شکار پولیو ویکسیشن کا دوبارہ آغاز ہوگیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق صحت کے حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے تقریباً ایک سال بعد افغان ہم منصبوں کے ساتھ 'روبرو' ملاقات کی اور دونوں پڑوسی ممالک کے سرحدی علاقے سے پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرنے کے طریقوں اور ذرائع پر تبادلہ خیال کیا۔

اس حوالے سے پاکستان کے صحت عہدیدار ڈاکٹر امتیاز علی نے ڈان کو بتایا کہ دونوں ممالک کے تکنیکی ایڈوائزری گروپس کو بین الاقوامی پروٹوکولز کے تحت ہر 6 ماہ میں اجلاس منعقد کرنا ہوتا ہے لیکن اس مرتبہ سرحد پار سے کورونا وائرس کی منتقلی کو روکنے کی وجہ سے سرحد بند ہونے کے باعث ملاقات میں تاخیر ہوئی۔

مزید پڑھیں: ملک میں پولیو وائرس کا ایک اور کیس سامنے آگیا

تاہم ان کا کہنا تھا کہ صحت کے حکام پولیو وائرس کو کنٹرول کرنے سے متعلق کوئی بھی پیش رفت کا تبادلہ خیال کرنے کے لیے ویڈیو کانفرنسز کے ذریعے تقریباً ہر ماہ ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ 'ہم افغانستان کے مشرقے حصے (صوبہ ننگرہار) اور پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا کی مستقل نگرانی کرتے ہیں اور پولیو کی لعنت کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کی مدد اور معاونت کی کوشش کرتے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر ہر ہفتے کو سرحد عبور کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ پیدل چلنے والوں کو پولیو کی ویسکین دی جائے گی۔

ڈاکٹر امتیاز کا کہنا تھا کہ مکمل طور پر ویکیسنیشن کا دوبارہ آغاز ویزا کی پابندیاں اٹھنے اور دونوں اطراف سے عام لوگوں کی سرحد عبور کرنے کی نقل و حرکت شروع ہونے پر ہوگا۔

خیال رہے کہ پولیو ایک انتہائی معتدی مرض ہے جو زیادہ تر 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو اپنا شکار بناتا ہے، یہ اعصابی نظام پر اثر انداز ہو کر معذوری بلکہ موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

پولیو کا اب تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوا البتہ ویکسینیشن بچوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں 5 روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز

ہر مرتبہ جب ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں تو وائرس سے اس کی حفاظت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

بار بار حفاظتی ٹیکوں نے لاکھوں بچوں کو پولیو سے محفوظ کردیا ہے اور دنیا بھر میں تقریباً تمام ممالک پولیو فری ہوچکے ہیں۔

تاہم دنیا میں صرف 2 ممالک پاکستان اور افغانستان ایسے ہیں جہاں پولیو کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔

جس کے باعث عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پولیو سے متعلق سفری پابندیاں پاکستان پر برقرار ہیں جس کی وجہ سے 2014 سے ہر شخص کے لیے بیرون ملک سفر کے لیے پولیو ویکسینیشن سرٹیفکیٹ ضروری ہے۔