ٹک ٹاک اور وی چیٹ پر امریکی پابندیاں : چین کا ردعمل سامنے آگیا

اپ ڈیٹ 19 ستمبر 2020

ای میل

— رائٹرز فوٹو
— رائٹرز فوٹو

امریکا کی جانب سے 20 ستمبر سے اپنی سرزمین میں ٹک ٹاک ڈاؤن لوڈ کرنے پر پابندی لگانے پر اب چین کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔

چین نے اس پر اپنے ردعمل میں امریکا پر توہین آمیز رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ وہ جوابی اقدامات کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا ’ٹک ٹاک‘ کا معاہدہ مسترد کرنے کا عندیہ

چین کی وزارت تجارت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 'چین امریکا پر زور دیتا ہے کہ وہ اس طرح کے رویے سے گریز کرے، اپنے غلط اقدامات کو روکے اور بین اقوالامی قوانین کی منصفانہ اور شفاف عملداری کو یقینی بنائے'۔

بیان میں کہا گیا 'اگر امریکا کی جانب سے اس راستے پر آگے بڑھنے پر اصرار کیا گیا تو چین کی جانب سے ضروری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ چینی کمپنیوں کے قانونی حقوق اور مفادات کو یقینی بنایا جاسکے'۔

18 ستمبر کو امریکا کے کامرس سیکریٹری ولبرس روز نے فاکس نیوز بزنس سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکی حکومت نے صدر کی ہدایات کے بعد دونوں چینی ایپس پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

کامرس سیکریٹری کے مطابق 18 ستمبر کو ایک خصوصی نوٹی فکیشن جاری کیا جائے گا، جس میں واضح کیا جائے گا کہ 20 ستمبر سے امریکا بھر میں وی چیٹ پر پابندی ہوگی اور اسے کوئی ڈاؤن لوڈ بھی نہیں کر سکے گا۔

کامرس سیکریٹری نے واضح کیا کہ امریکی حکومت صدر کے احکامات کے تناظر میں قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات اٹھا رہی ہے۔

اسی رپورٹ کے حوالے سے رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ امریکی حکومت نے وی چیٹ کو 20 ستمبر سے جب کہ ٹک ٹاک کو 12 نومبر سے بند کرنے کا اعلان کیا، تاہم اسے بھی 20 ستمبر سے کوئی ڈاؤن لوڈ نہیں کرسکے گا۔

واضح رہے کہ اگست میں امریکی صدر نے اپنے 2 مختلف ایگزیکٹو آرڈرز میں وی چیٹ اور ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا کہا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات میں ٹک ٹاک کو تجویز دی گئی تھی کہ وہ اپنے امریکی شیئرز 45 دن میں کسی امریکی کمپنی کو فروخت کردے، دوسری صورت میں اسے بند کردیا جائے گا۔

اسی طرح وی چیٹ کو بھی بتایا گیا تھا کہ وہ بھی اپنے امریکی اثاثے کسی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کو 45 دن میں فروخت کردے، دوسری صورت میں اسے بھی بند کردیا جائے گا۔

ٹک ٹاک کو 15 ستمبر 2020 کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی تاہم بعد ازاں 16 اگست کو ٹرمپ انتظامیہ نے مذکورہ مدت میں مزید 45 دن کا اضافہ کردیا تھا یعنی 12 نومبر تک۔

اگرچہ ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کے حوالے سے چینی کمپنی اور اوریکل کے درمیان شراکت داری کا معاہدہ ہوا ہے مگر امریکی حکومت نے تاحال اس کی منظوری نہیں دی ہے۔

مذکورہ معاہدے کے تحت ’ٹک ٹاک‘ اور ’اوریکل‘ پارٹنرشپ بنیاد پر امریکی صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ پر کام کریں گے۔

کمپنیوں نے مذکورہ معاہدے کے دستاویزات 17 ستمبر کو امریکی کامرس ڈیپارٹمنٹ کو بھجوائے تھے۔

مزید پڑھیں : اوریکل سے معاہدہ : ٹک ٹاک کی ایک الگ کمپنی کی تشکیل کا امکان

دونوں کمپنیوں کی جانب سے کامرس ڈیپارٹمنٹ کو دستاویزات بھجوائے جانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ٹک ٹاک او اوریکل کے درمیان ہونے والے معاہدے کے دستاویزات پر دسخط نہیں کریں گے۔

ایک روز قبل ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ’ٹک ٹاک‘ اور ’اوریکل‘ کے درمیان طے ہونے والے معاہدے کی کسی بھی چیز پر دستخط کرنے کے لیے تیار نہیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے معاملات کو 100 فیصد خالص ہونا چاہیے اور وہ دونوں کمپنیوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر دستخظ کرنے سے قبل اسے دیکھیں گے۔

امریکی پابندیوں کو دیکھتے ہوئے دیگر ایپس نے ٹک ٹاک کی جگہ لینے کی جدوجہد شروع کردی ہے۔

انسٹاگرام اور یوٹیوب کی جانب سے ریلز اور یوٹیوب شارٹس کی شکل میں ٹک ٹاک کی نقل پر مبنی فیچرز کو متعارف کرایا ہے۔

مگر ابھی ٹک ٹاک کے پاس کافی وقت ہے اور 12 نومبر سے قبل دوبارہ امریکا میں پلے اسٹور اور ایپل ایپ اسٹور کا حصہ بن سکتی ہے جس کا انحصار معاہدے کی منظوری پر ہوگا۔