ڈونلڈ ٹرمپ کا ’ٹک ٹاک‘ کا معاہدہ مسترد کرنے کا عندیہ

اپ ڈیٹ 18 ستمبر 2020

ای میل

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق معاہدے کی کسی بھی چیز پر دستخط کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں — فائل فوٹو: اے ایف پی
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق معاہدے کی کسی بھی چیز پر دستخط کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں — فائل فوٹو: اے ایف پی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ’ٹک ٹاک‘ کا امریکی کمپنی ’اوریکل‘ سے طے پانے والے مجوزہ معاہدے کو مسترد کرنے کا عندیہ دے دیا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ ’ٹک ٹاک‘ اور ’اوریکل‘ کے درمیان طے ہونے والے معاہدے کی کسی بھی چیز پر دستخط کرنے کے لیے تیار نہیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے معاملات کو 100 فیصد خالص ہونا چاہیے اور وہ دونوں کمپنیوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر دستخظ کرنے سے قبل اسے دیکھیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ انہیں 18 ستمبر تک ’ٹک ٹاک‘ اور ’اوریکل‘ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے دستاویزات مل جائیں گی۔

اسی حوالے سے برطانوی اخبار دی گارجین نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے دونوں کمپنیوں سے معاہدے طے پاجانے کی کوئی رقم نہیں مانگی تھی۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ ’ٹک ٹاک‘ اور’اوریکل‘ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو دیکھ رہے ہیں اور اس سے مکمل طور پر مطمئن ہونے تک قبول نہیں کریں گے اور ابھی وہ معاہدے کی کسی چیز پر دستخط کرنے کو تیار نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’ٹک ٹاک‘ امریکا میں ’اوریکل‘ کے ساتھ کام کرنے پر رضامند

سی این بی سی کے مطابق ’ٹک ٹاک‘ اور ’اوریکل‘ نے اپنے معاہدے کے دستاویزات امریکی ٹریزری ڈپارٹمنٹ کو بھجوادیے ہیں جو کاغذات کا جائزہ لینے کے بعد انہیں صدر کو بھجوا دے گا۔

دی گارجین نے بتایاکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ٹک ٹاک‘ اور ’اوریکل‘ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو مسترد کرنے کا عندیہ اس وقت دیا ہے جب کہ کم از کم 6 امریکی سینیٹرز نے انہیں اپیل کی تھی کہ وہ مذکورہ معاہدے کو مسترد کردیں۔

سنیٹرز نے امریکی صدر کو بتایا کہ مذکورہ معاہدے کے تحت زیادہ اختیارات اب بھی ٹک ٹاک کے پاس ہی ہوں گے، جس وجہ سے امریکی صارفین کے ڈیٹا کا تحفظ یقینی نہیں ہوسکتا۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ 18 ستمبر کی شب تک ’ٹک ٹاک‘ اور ’اوریکل‘ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے حوالے سے اہم بیان دیں گے۔

’ٹک ٹاک‘ اور ’اوریکل‘ کے درمیان 14 ستمبر کو معاہدے طے پاگیا تھا، جس کے تحت دونوں کمپنیاں امریکا میں مل کر کام کریں گی۔

’ٹک ٹاک‘ اور ’اوریکل‘ کے درمیان اس وقت پارٹنرشپ کا معاہدہ طے پاگیا تھا جب 13 ستمبر کو مائیکرو سافٹ نے اعلان کیا تھا کہ ٹک ٹاک نے ان کی پیش کش مسترد کردی۔

’ٹک ٹاک‘ اور ’اوریکل‘ پارٹنرشپ بنیاد پر امریکی صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ پر کام کریں گے۔

یعنی ’اوریکل‘ صرف امریکا میں ’ٹک ٹاک‘ کے صارفین کے ڈیٹا کے معاملات کو پارٹنرشپ بنیادوں پر دیکھے گا، تاہم فی الحال اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

مزید پڑھیں: اوریکل سے معاہدہ : ٹک ٹاک کی ایک الگ کمپنی کی تشکیل کا امکان

دونوں کمپنیوں میں طے پاجانے والے معاہدے کی منظوری، جہاں امریکی صدر سے لینا لازمی ہے، وہیں چینی حکومت سے بھی اس معاہدے کی منظوری لینا ہوگی۔

’ٹک ٹاک‘ اور ’اوریکل‘ میں معاہدہ طے پاجانے کے بعد ایک روز قبل ہی خبر سامنے آئی تھی کہ ممکنہ طور پر دونوں کمپنیاں امریکا میں ٹک ٹاک کے انتظامات چلانے کے لیے ایک نئی کمپنی بنائیں گی۔

نئی کمپنی کے انتظامات کے زیادہ تر اختیارات ٹک ٹاک کے پاس ہی ہوں گے تاہم اوریکل نئی کمپنی میں امریکی صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔

خیال رہے کہ ٹک ٹاک پر قومی سلامتی کے الزامات کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے اگست میں اپنے امریکی اثاثے کسی امریکی کمپنی کو فروخت کرنے کا کہا تھا، دوسری صورت میں شیئرنگ ایپ پر پابندی لگانے کی دھمکی دی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ 6 اگست کو ایگزیکٹو آرڈر جاری کرتے ہوئے ٹک ٹاک کو آئندہ 45 دن میں اپنے امریکی اثاثے کسی دوسری امریکی کمپنی کو فروخت کرنے کی مہلت دی تھی۔

صدارتی حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ اگر چینی ایپلی کیشنز کو آئندہ 45 دن میں کسی امریکی کمپنی کو فروخت نہیں کیا گیا تو ان پر امریکا میں پابندی لگادی جائے گی۔

ٹک ٹاک کو 15 ستمبر 2020 کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی تاہم بعد ازاں 16 اگست کو ٹرمپ انتظامیہ نے مذکورہ مدت میں مزید 45 دن کا اضافہ کردیا تھا۔

ٹک ٹاک نے امریکی صدر کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امریکی صارفین کا ڈیٹا چین کو فراہم نہیں کرتی اور بعد ازاں ایپلی کیشن انتظامیہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کے خلاف امریکی عدالت سے بھی رجوع کیا تھا۔

ٹک ٹاک نے عدالت میں دائر درخواست میں کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 6 اگست کے ایگزیکٹو آرڈر کو چیلنج کرتے ہوئے کہا گیا کہ 'بغیر کسی شواہد کے اتنا سخت فیصلہ کیا گیا اور وہ بھی مناسب طریقہ کار کے بغیر'۔