بونیر میں غیرت کے نام پر بیٹے اور بہو قتل

اپ ڈیٹ 26 ستمبر 2020

ای میل

پولیس نے ملزم کی تلاش شروع کردی ہے—فائل فوٹو: کری ایٹو کامنز
پولیس نے ملزم کی تلاش شروع کردی ہے—فائل فوٹو: کری ایٹو کامنز

بونیر: صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے ڈگر کے گاؤں نوائے کلے میں ایک شخص نے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض ویڈیو وائرل ہونے پر اپنے 18 سالہ بیٹے اور 17 سالہ بہو کو قتل کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال ڈگر منتقل کردیا، جہاں بعد ازاں لاشوں کو رشتے داروں کے حوالے کردیا گیا۔

ادھر لڑکی کی والدہ نے ڈگر پولیس کو بتایا کہ 2 بھائیوں سمیت خاندان کے متعدد لوگ ان کی بیٹی اور داماد کے قتل میں ملوث ہیں۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا: غیرت کے نام پر جوڑے کا قتل

علاوہ ازیں پولیس نے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرکے ملزم کی گرفتاری کےلیے چھاپے مارنا شروع کردیے۔

دوسری جانب پولیس حکام نے اہل خانہ کے افراد اور گاؤں والوں کے حوالے سے کہا کہ ملزم کو شام میں نماز کے بعد مسجد میں کسی نے ان کے بیٹے اور بہو کی 'قابل اعتراض ویڈیو' کے بارے میں بتایا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں مرد گھر گیا اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ مشاورت کے بعد یہ انتہائی قدم اٹھایا۔

خیال رہے کہ ملک میں غیرت کے نام پر قتل کے مختلف واقعات رونما ہوچکے ہیں اور گزشتہ دونوں پنجاب کے ضلع سرگودھا میں چک 104-ایس بی میں ایک کمسن لڑکے نے 'غیرت' کے نام پر اپنی پھوپی کو مبینہ طور پر فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک ماہ کے دوران غیرت کے نام پر قتل کے 3 واقعات رونما ہوئے تھے

کراچی کے علاقے جمشید کوارٹرز میں 'غیرت کے نام' پر 25 سالہ نوجوان کو ان کے بھائی کے سامنے گولی مار دی تھی جبکہ اس سے قبل 8 اگست کو کلفٹن میں بھائی نے 'غیرت کے نام' پر اپنی بہن کو قتل کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب: کمسن لڑکے نے 'غیرت کے نام پر' پھوپھی کا قتل کردیا

قبل ازیں کراچی کے علاقے منگھوپیر غازی گوٹھ میں یکم اگست کو ایک شہری نے غیرت کے نام پر اپنی بہن اور رشتے دار کو قتل کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ حال ہی میں غیرت کے نام پر قتل پر سپریم کورٹ کی جانب سے یہ ریمارکس بھی سامنے آئے تھے کہ غیرت کے نام پر قتل کبھی بھی قابل احترام عمل نہیں تھا، اس طرح کے قتل کو غیرت کے نام پر قتل کا درجہ نہیں دیا جانا چاہیے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس پر افسوس کا اظہار کیا تھا کہ خواتین کے خلاف جرائم کی حوصلہ شکنی کے لیے کافی کام نہیں کیا جارہا ہے، پاکستانی معاشرہ انتہا پسندی اور تشدد کی لپیٹ میں آچکا ہے۔