چیئرمین افغان مصالحتی کونسل عبداللہ عبداللہ 3 روزہ دورے پر آج پاکستان آئیں گے

اپ ڈیٹ 28 ستمبر 2020

ای میل

عبداللہ عبداللہ 28 ستمبر سے 30 ستمبر تک پاکستان میں اعلیٰ سطح پر ملاقاتیں کریں گے—فائل/فوٹو:رائٹرز
عبداللہ عبداللہ 28 ستمبر سے 30 ستمبر تک پاکستان میں اعلیٰ سطح پر ملاقاتیں کریں گے—فائل/فوٹو:رائٹرز

طالبان کے ساتھ بین الافغان مذاکرات کے لیے حکومت کی افغان مصالحتی کونسل (ایچ سی این آر) کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ 3 روزہ دورے پر پیر کو پاکستان پہنچیں گے۔

ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ چوہدری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ایچ سی این آر کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ 28 سے 30 ستبمر تک تین روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچیں گے'۔

انہوں نے بتایا کہ 'ان کے ہمراہ اعلیٰ سطح کے وفد میں ایچ سی این آر کے مستقل اراکین بھی شامل ہوں گے'۔

مزید پڑھیں:وزیر اعظم کا اشرف غنی سے رابطہ، افغان امن عمل کیلئے پاکستان کی پختہ حمایت کا اعادہ

دفترخارجہ کے بیان کے مطابق 'ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اپنے دورے میں وزیراعظم اور صدر سے ملاقات کے ساتھ ساتھ چیئرمین سنیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، وزیرخاجہ اور دیگر عہدیداروں سے بھی ملیں گے'۔

بیان میں بتایا گیا کہ 'وہ انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں ایک اہم خطاب بھی کریں گے اور میڈیا سے بھی بات چیت ہوگی'۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا بحیثیت چیئرمین افغان مصالحتی کونسل کے پاکستان کا پہلا دورہ ہوگا۔

دفترخارجہ کے مطابق 'اس دورے سے افغان امن عمل، پاک-افغان دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور عوامی سطح پر تعلقات کے لیے وسیع پیمانے پر تبادلہ خیال کا موقع ملے گا'۔

ترجمان دفتر خارجہ کا بیان میں کہنا تھا کہ 'پاکستان، افغانستان سے برادرانہ تعلقات، مشترکہ طور پر جڑی ہوئی تاریخ، اعتماد ثقافت، اقدار اور رسومات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے'۔

بیان میں کہا گیا کہ 'پاکستان اپنے برادر ہمسایہ ملک افغانستان شہریوں کی خوش حالی، امن اور استحکام کے لیے تمام کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان سے مذاکرات کیلئے 'ہردم' تیار ہیں، سربراہ افغان مصالحتی کونسل

بیان میں مزید کہا گیا کہ 'ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا دورہ ہم آہنگی، بھائی چارہ اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں سود مند ہوگا'۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلسل افغانستان کے فریقین کے درمیان بین الافغان مذاکرات کے آغاز اور ملک میں دیرپا امن و استحکام کے لیے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتا اور اس حوالے سے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی پیشکش کرتا آیا ہے۔

اسی سلسلے میں گزشتہ ماہ افغان طالبان کے وفد نے ملا عبدالغنی کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے دو روز قبل ہی افغانستان کے صدر اشرف غنی سے رابطہ کرکے افغان امن عمل کے لیے ایک بار پھر پاکستان کی پختہ حمایت کا اعادہ کیا تھا۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے کہا تھا کہ ان کوششوں سے امریکا۔طالبان امن معاہدہ اور بین الافغان مذاکرات کے آغاز کی صورت میں مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

انہوں نے دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے متعلقہ فریقین کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو سراہا اور افغانستان میں جنگ بندی کے سلسلے میں تشدد میں کمی کے لیے کام کرنے والے تمام افغان فریقین کی اہمیت پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغان عوام کی جانب سے اپنے مستقبل کے لیے کیے جانے والے فیصلوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں:افغانستان: طالبان سے جھڑپوں میں سیکیورٹی فورسز کے 57 اہلکار ہلاک

بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم نے افغانستان کے دورے کی دعوت دینے پر صدر اشرف غنی کا شکریہ ادا کیا اور جلد دورہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔

طالبان اور افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیموں نے 12 ستمبر کو قطر کے دارالحکومت دوحا میں بین الافغان مذاکرات کے لیے ملاقاتیں کی تھیں۔

خیال رہے کہ 29 فروری کو امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے میں بین الافغان مذاکرات طے پائے تھے، اس وقت اس معاہدے کو 40 سال سے جاری جنگ میں امن کا بہترین موقع قرار دیا گیا تھا۔

ابتدائی طور پر یہ توقع کی جارہی تھی کہ 29 فروری کو معاہدے کے چند ہفتوں میں مذاکرات کا آغاز ہوجائے گا تاہم شروع سے ہی اس ٹائم لائن میں تاخیر کے باعث خلل پڑنا شروع ہوگیا تھا۔

امریکا کے ساتھ ہوئے طالبان کے معاہدے سے قبل ہی یہ طے کیا گیا تھا کہ افغان حکومت 5 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرے گی جبکہ طالبان بدلے میں ایک ہزار حکومتی اور عسکری اہلکاروں کو اپنی حراست سے چھوڑیں گے تاہم اس میں مسائل کا سامنا رہا اور افغان حکومت اس سے گریز کرتی نظر آئی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا بین الافغان مذاکرات میں 'بگاڑ پیدا کرنے والوں' کو شکست دینے کا عزم

مزید یہ کہ کابل میں جاری سیاسی بحران نے مذاکرات کو مزید تاخیر کا شکارکیا کیونکہ وہاں افغان صدر اشرف غنی اور ان کے حریف عبداللہ عبداللہ نے متنازع صدارتی انتخاب میں ایک دوسرے کے خلاف فتح کا اعلان کردیا تھا۔

بعد ازاں اس بحران کو ختم کرنے کے لیے اختیارات کے تبادلے کے معاہدے کے حصے کے طور پر عبداللہ عبداللہ کو امن مذاکرات کی نگرانی کرنے والی اعلیٰ کونسل برائے قومی مفاہمت کا سربراہ نامزد کردیا گیا۔

تاہم اس کے بعد طالبان کی جانب سے تشدد کم کرنے سے انکار نے مذاکرات کے آغاز میں مزید رکاوٹ ڈال دی۔

بعد ازاں دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے قیدیوں کی رہائی بھی دیکھنے میں آئی اور طالبان کے 6 قیدیوں کی آخری رکاوٹ دور ہونے کے بعد قطر کی وزارت خارجہ نے مذاکرات کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔