پاکستان کا بین الافغان مذاکرات میں 'بگاڑ پیدا کرنے والوں' کو شکست دینے کا عزم

اپ ڈیٹ 11 ستمبر 2020

ای میل

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان یقین رکھتا ہے کہ دونوں ممالک امن اور ترقی کے مستحق ہیں—فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان یقین رکھتا ہے کہ دونوں ممالک امن اور ترقی کے مستحق ہیں—فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان

اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کے تعاون سے بین الافغان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرنے والے 'اسپوائلرز' کو شکست دینے کا عزم کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں کہا کہ 'پاکستان۔افغانستان سرحد کے دونوں اطراف پرتشدد واقعات میں افسوسناک اضافے کا مقصد افغان امن عمل کو پٹڑی سے اتارنا ہے'۔

اپنے پیغام میں ان کا مزید کہنا تھا کہ 'پاکستان یقین رکھتا ہے کہ دونوں ممالک امن اور ترقی کے مستحق ہیں، ہم مل کر بگاڑ پیدا کرنے والوں کو شکست دیں گے'۔

اس عزم کا اظہار ایسے وقت کیا گیا کہ جب افغان حکومت کی جانب سے 6 'خطرناک' طالبان قیدیوں کی رہائی کے بعد بین الافغان امن عمل اپنے انعقاد کے مزید قریب آگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: طالبان کا وفد بین الافغان مذاکرات کیلئے قطر پہنچ گیا

رہا ہونے والے قیدی بعدازاں قطر روانہ ہوگئے جہاں وہ نومبر کے اوآخر تک زیر نگرانی رہیں گے۔

دوسری جانب کابل کی مذاکراتی ٹیم کا بات چیت کے لیے جمعے کو دوحہ روانہ ہونے کا امکان ہے۔

طالبان کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے بھی رات گئے ایک ٹوئٹ کے ذریعے گروپ کے مذاکرات کے لیے تیار ہونے کا اعلان کیا۔

اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ 'اسلامی امارات افغانستان، امریکا کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے کے مطابق بین الافغان مذاکرات کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کرتی ہے'۔

طالبان ترجمان نے ایک دوسری ٹوئٹ میں بتایا کہ مذاکرات کا آغاز 12 ستمبر سے ہوگا۔

مزید پڑھیں: بین الافغان مذاکرات کے لیے باضابطہ ایجنڈا طے نہیں کیا گیا

تاہم بات چیت سے قبل افغانستان میں پر تشدد واقعات میں اضافے نے امن عمل کے تمام بین الاقوامی حامیوں کو پریشان کردیا ہے، خاص طور پر طالبان کے زیر انتظام علاقوں میں پرتشدد کارروائیوں میں واضح اضافہ دیکھا گیا جبکہ کابل میں ٹارگٹ کلنگ بڑھ گئی ہے۔

بدھ کے روز افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح کے قافلے پر حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک جبکہ 15 زخمی ہوگئے تھے۔

طالبان نے ان حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے لیکن افغان حکومت کو طالبان کے انکار پر شبہ ہے اور اس کا ماننا ہے کہ ان حملوں میں شورش سے وابستہ گروہوں کا ہاتھ ہے۔

کچھ کا کہنا ہے کہ پر تشدد کارروائیوں میں اضافے کی منصوبہ بندی طالبان نے مذاکرات کی میز میں زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی سفیر کی امن مذاکرات سے قبل ملا برادر، عبدالحکیم حقانی سے ملاقات

پاکستان کا اصرار ہے کہ پرتشدد کارروائیاں 'بگاڑ پیدا کرنے والوں' کا کام ہے جو امن عمل کی کامیابی نہیں چاہتے اور دونوں ملکوں میں حملے کررہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے امن عمل میں سہولت کاری فراہم کی اور فروری میں امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے میں متحرک رہا جس سے بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار، عیدالاضحٰی پر جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی پر جمود ٹوٹا۔

دوسری جانب دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے بھی پاکستان کی جانب سے افغان امن عمل کی مسلسل حمایت کے عزم کو دہرایا۔