کورونا سے متعلق سب سے زیادہ جعلی معلومات ٹرمپ کی وجہ سے پھیلیں، محققین

اپ ڈیٹ 02 اکتوبر 2020

ای میل

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ایسے ’انفوڈیمک‘ قرار دیا ہے—فوٹو: رائٹرز
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ایسے ’انفوڈیمک‘ قرار دیا ہے—فوٹو: رائٹرز

امریکا کی کارنیل یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ کورونا سے متعلق دنیا میں سب سے زیادہ جعلی معلومات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے پھیلیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق کارنیل الائنس فار سائنس کی ٹیم نے رواںسال یکم جنوری سے 26 مئی کے درمیان انگریزی زبان اور مقامی میڈیا میں شائع کردہ 38 لاکھ مضامین کا جائزہ لیا۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی مرتبہ عوام کے سامنے ماسک پہن لیا

انہوں نے امریکا، برطانیہ، بھارت، آئرلینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور دیگر افریقی اور ایشیائی ممالک کا ڈیٹا بیس استعمال کیا۔

انہوں نے 5 لاکھ 22 ہزار 472 نیوز آرٹیکل کا انتخاب کیا جو کورونا سے متعلق غلط معلومات پر مبنی تھے اور متعدد مرتبہ شائع ہوئے۔

واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جعلی معلومات کو ’انفوڈیمک‘ قرار دیا ہے۔

ان مضامین کی 11 اہم ذیلی عنوانات میں درجہ بندی کی گئی جن میں سازشی نظریات سے لے کر امریکی سائنسدان انتھونی فوکی پر حملوں تک کے شامل تھے۔

محققین کے مطابق عنوانات کی درجہ بندی میں ایک خانہ ’معجزاتی علاج‘ پر مبنی تھا اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 24 اپریل کو پریس بریفنگ میں کورونا کے خلاف جراثیم کش استعمال کرنے کے بیان سے مذکورہ خانے میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کو کورونا وائرس کی وبا کیلئے چین کا احتساب کرنا چاہیے، ٹرمپ

اسی طرح جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ملیریا کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا کلوروکوئن سے کورونا کا علاج پر زور دیا تو ’معجزاتی علاج‘ کے خانے میں مضامین کی تعداد غیر معمولی تھی۔

محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ ’امریکا کے صدر کووڈ 19 کی غلط معلومات 'انفوڈیمک' کے سب سے بڑے ڈرائیور ثابت ہوئے‘۔

اس تحقیق کی رہنمائی کرنے والی اور کارنیل الائنس کی ڈائریکٹر سارہ ایوینگا نے کہا کہ ’اگر لوگوں کو اس بیماری کے بارے میں غیر سائنسی اور غیر یقینی دعوؤں کے ذریعے گمراہ کیا گیا ہے تو وہ حقیقی رہنمائی سے کم متاثر ہوتے ہیں اور اس طرح اس وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے‘۔

اعداد و شمار کے تجزیہ کار اور شریک مصنف اردن ایڈمز نے مزید کہا کہ ’ڈیٹا اکٹھا کرنے کے عمل میں ایک دلچسپ پہلو غلط معلومات کی کوریج کی مقدار کا پتہ لگانا تھا جو عوامی تبصروں سے براہ راست منسلک تھی۔

انہوں نے کہا کہ کورونا سے متعلق دوسری بڑی غلط فہمی کا تعلق ’ نیو ورلڈ آرڈر‘ سے متعلق تھا۔

مزید پڑھیں: ڈبلیو ایچ او نے چین سے متعلق امریکی صدر کا الزام مسترد کردیا

محققین کے مطابق پھر یہ دعویٰ سامنے آیا کہ یہ وبائی بیماری امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے سیاسی فائدے کے لیے ایک دھوکا ہے، اس کے بعد چین کے شہر ووہان میں ایک لیبارٹری کے ذریعے اس وائرس کو پھیلانے کا الزام لگایا گیا۔

علاوہ ازیں کورونا وائرس کی وبا کو بل گیٹس سے منسوب کرنے کی سازش کے نظریات بھی سامنے آئے۔

انہوں نے بتایا کہ پھر یہ غلط معلومات پھیلی کہ فائیو جی، یہودیوں کے خلاف سازش اور آبادی کو کنٹرول کرنے کی وجہ سے کووڈ 19 کی وبا پھیلی۔