دنیا کو کورونا وائرس کی وبا کیلئے چین کا احتساب کرنا چاہیے، ٹرمپ

اپ ڈیٹ 22 ستمبر 2020

ای میل

امریکی صدر نے کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب کیا— فوٹو: رائٹرز
امریکی صدر نے کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب کیا— فوٹو: رائٹرز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو کورونا وائرس کی وبا کے لیے چین کو ذمے دار ٹھہراتے ہوئے اس کا احتساب کرنا چاہیے۔

خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے ریکارڈ شدہ خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر الزام عائد کیا کہ اس نے وائرس کو اپنے ملک سے نکلنے دیا اور دنیا کو انفیکشن کا شکار کیا، لہٰذا اقوام متحدہ کو چین کے اقدامات کے لیے ان کا احتساب کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: چین اور امریکا کے درمیان کورونا وائرس کے حوالے سے لفظی جنگ میں تیزی

ٹرمپ کو رواں سال 3 نومبر کو ہونے والے انتخاب میں دوبارہ منتخب ہونے کا چیلنج درپیش ہے کیونکہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے انہیں عوام کے شدید ردعمل کا سامنا ہے اور ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ اس تنقید سے بچنے کے لیے چین کو ذمے دار ٹھہرا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ہال میں خطاب کرتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ امریکی صدر اپنی صدارتی انتخابی مہم سے خطاب کر رہے ہیں۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں اس قوم کا احتساب کرنا چاہیے جس نے ہمیں اس تباہی سے دوچار کیا ہے۔

ٹرمپ نے چین پر الزام عائد کیا کہ جب چین کے شہر ووہان میں گزشتہ سال وائرس نمودار ہوا تو انہوں نے محض اپنے مفادات کا خیال رکھا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی حکام نے ٹرمپ کو بھیجا گیا زہریلے مواد کا پارسل پکڑ لیا

ان کا کہنا تھا کہ چینی حکومت اور چین کے کنٹرول میں موجود عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے دنیا کو یہ غلط معلومات دیں کہ وائرس کی انسان سے انسان میں منتقلی کے کوئی ثبوت نہیں ملے اور اس کے بعد انہوں نے ایک اور جھوٹ بولا کہ جن لوگوں میں وائرس کی علامات نہیں، ان سے وائرس نہیں پھیلتا۔

کورونا وائرس کی پابندیوں کی وجہ سے عالمی رہنما نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیشن سے آن لائن خطاب کر رہے تھے۔

کورونا وائرس کے آغاز سے ہی امریکا کی جانب سے چین پر مسلسل دنیا بھر میں وائرس کو پھیلانے کا الزام عائدکیا جا رہا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس نے وائٹ ہاؤس میں ایک رپورٹ جمع کرائی جس میں کہا گیا کہ چین نے اپنے ملک میں کورونا وائرس کی وبا کو بڑے پیمانے پر چھپا کر رکھا اور اس کے لیے کیسز اور اموات کی مجموعی تعداد پوری طرح ظاہر نہیں کی۔

چین نے امریکی انٹیلی جنس کی اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین نے وبا سے متعلق ہمیشہ ’واضح اور شفاف‘ رویہ اختیار کیا اور امریکا، صحت کے معاملے پر سیاست چھوڑ کر اپنے لوگوں کی حفاظت پر توجہ دے۔

مزید پڑھیں: عالمی ادارہ صحت نے چین سے متعلق امریکی صدر کا الزام مسترد کردیا

اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ وہ چین پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کر رہا ہے اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ ایجنسی کے لیے امریکی مالی اعانت پر پابندی لگا دی تھی۔

امریکا نے ڈبلیو ایچ او کو 2019 میں 40 کروڑ ڈالر کی مالی اعانت فراہم کی تھی، جو دوسرے بڑے رکن ممالک کی مالی مدد سے تقریباً دوگنا تھی۔

دوسری جانب چین کی جانب سے 4 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی مالی مدد فراہم کی گئی تھی۔

عالمی ادارہ صحت نے امریکی صدر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے امداد نہ روکنے کی درخواست کی تھی۔