ڈبلیو ایچ او نے چین سے متعلق امریکی صدر کا الزام مسترد کردیا

اپ ڈیٹ 08 اپريل 2020

ای میل

امریکا، جنیوا کی صحت کے حوالے سے عالمی تنظیم کی مالی معاونت کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے — فوٹو: رائٹرز
امریکا، جنیوا کی صحت کے حوالے سے عالمی تنظیم کی مالی معاونت کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے — فوٹو: رائٹرز

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے حکام نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس الزام کو مسترد کردیا ہے کہ ادارہ چین سے جانبداری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ وہ چین پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کر رہا ہے اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ وہ اس ایجنسی کے لیے امریکی مالی اعانت پر پابندی لگائیں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے حکام نے امریکی صدر کے بیان کے جواب میں کہا کہ 'عالمی وبا کے اہم ترین مرحلے میں یہ مالی مدد روکنے کا وقت نہیں ہے'۔

امریکا، صحت کے حوالے سے عالمی تنظیم کی مالی معاونت کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اس نے کورونا وائرس کے دوران بُرا مشورہ دیا۔

امریکی صدر نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’واقعی ڈبلیو ایچ او نے کسی وجہ سے اسے تباہ کردیا، ادارے کو بڑے پیمانے پر امریکا کے ذریعہ مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے، اس کے باوجود ان کا جھکاؤ چین کی جانب بہت زیادہ ہے، ہم اسے اچھی طرح سے دیکھیں گے'۔

مزید پڑھیں: عوام کو ماسک پہننے کا مشورہِ دے کر ٹرمپ کا خود ماسک پہننے سے انکار

امریکا نے ڈبلیو ایچ او کو 2019 میں 40 کروڑ ڈالر کی مالی اعانت فراہم کی تھی، جو دوسرے بڑے رکن ملک کی مالی مدد سے تقریباً دوگنا تھی۔

دوسری جانب چین کی جانب سے 4 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی مالی مدد فراہم کی گئی تھی۔

امریکی صدر کے بیان کے جواب میں عالمی ادارہ صحت کے یورپ کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر ہینز کلوگ نے ورچوئل بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 'ہم اب بھی وبا کے اہم ترین مرحلے میں ہیں اس لیے ابھی یہ وقت نہیں کہ مالی معاونت روکی جائے۔'

یورپ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو انہوں نے انتہائی تشویشناک قرار دیا اور حکومتوں پر زور دیا کہ وہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پابندیوں میں نرمی کرنے کے حوالے سے بہت محتاط رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یورپ میں وائرس کے کیسز میں ڈرامائی اضافہ انتہائی تشویشناک ہے اور اس دوڑ میں ہمیں ابھی بہت سفر طے کرنا ہے'۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل کے سینئر مشیر ڈاکٹر بروس ایلوارڈ نے بھی اقوام متحدہ کی ایجنسی کے چین کے ساتھ تعلقات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ 'اس کا بیجنگ انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنا یہ سمجھنے کے لیے اہم ہے کہ ووہان میں اس وبا نے کیسے جنم لیا۔

یہ بھی پڑھیں: چین کے باہر کورونا وائرس کے کیسز تیزی سے سامنے آرہے ہیں، ڈبلیو ایچ او

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ 'اس وبا کے پھوٹنے کے بعد ابتدائی مراحل میں بہت ضروری تھا کہ ہر ممکنہ چیز تک رسائی حاصل کی جائے، زمین پر اترا جائیں اور چین کے ساتھ مل کر کام کیا جائے تاکہ ہم اسے سمجھ سکیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہی ہم نے وبا سے شدید متاثر اسپین کے ساتھ بھی کیا اور اس کا چین سے خصوصی طور پر کوئی تعلق نہیں ہے'۔

ڈاکٹر بروس ایلوارڈ نے ڈبلیو ایچ او کی سرحدیں کھلی رکھنے کی سفارش کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ چین نے ابتدائی کیسز اور کے روابط کی شناخت کے لیے بہت محنت کی اور یقینی بنایا کہ وائرس کو روکنے کے لیے یہ کیسز سفر نہ کریں۔