نیگورنو-کاراباخ میں آذربائیجان سے کشیدگی میں 773 فوجی مارے گئے، آرمینیا

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2020

ای میل

نیگورونو-کاراباخ میں 30 شہری بھی ہلاک ہوئے—فوٹو:رائٹرز
نیگورونو-کاراباخ میں 30 شہری بھی ہلاک ہوئے—فوٹو:رائٹرز

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان متنازع علاقے نیگورنو-کاراباخ میں لڑائی جاری ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے تازہ جھڑپوں کی رپورٹس دی جارہی ہیں جبکہ آرمینیا کی فوج کے اب تک 773 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

خبر ایجنسی ’اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق آرمینیا اور آذربائیجان نے نیگورنو-کاراباخ میں مزید جھڑپوں کی تصدیق کی ہے جہاں لڑائی کو تین ہفتے ہوچکے ہیں جبکہ جنگ بندی کی کوششیں بھی ناکام ہوچکی ہیں۔

آذربائیجان کی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ آرمینیا کی فوج کی جانب سے شیلنگ کا سلسلہ تھما نہیں اور ترتار اور آغدام میں مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں 2شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔

مزید پڑھیں: نیگورنو-کاراباخ میں ہلاکتوں کی تعداد 540 سے زائد، انسانی بحران کا خدشہ

دوسری جانب آرمینیا کی وزارت دفاع کی ترجمان سشان اسٹیپانیان نے کہا کہ جنوبی علاقوں میں لڑائی میں شدت آئی ہے اور آذربائیجان کی فورسز مذکورہ خطے میں آرٹلری کا استعمال کر رہی ہے۔

آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف کا کہنا تھا کہ ان کی فوج نے جبرائیل اور فضولی کے خطے میں کئی گاؤں اور شہروں میں قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ نیگورنو-کاراباخ میں آرمینیا کا قبضہ 90 کی دہائی سے ہے جبکہ عالمی سطح پر اس کو آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔

الہام علی یوف نے کہا کہ ہماری فورسز نے نیگورنو-کاراباخ کے جنوبی علاقے میں زینگیلان اور کئی قریبی گاؤں میں آرمینیا کی فوج کو پیچھے دھکیل دیا اور قبضہ کر لیا ہے۔

نیگورنو-کاراباخ کے عہدیداروں کے مطابق 27 ستمبر کو شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک ان کے 773 فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔

آذربائیجان کے حکام نے اپنے فوجی نقصان سے سے آگاہ نہیں کیا لیکن 61 شہریوں کے ہلاک اور 291 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین سیز فائر کا معاہدہ چند منٹ بھی برقرار نہ رہ سکا

گزشتہ ہفتے دونوں ممالک نے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن وہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکی اور دہائیوں سے جاری تنازع شدت اختیار کر گیا۔

روس کے دارالحکومت ماسکو میں 9 اکتوبر کو آرمینیا اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ کے درمیان 10 گھنٹے تک مذاکرات ہوئے تھے جس کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا گیا لیکن اس کی خلاف ورزی کی گئی۔

دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ کی ملاقات امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو سے واشنگٹن میں شیڈول ہے۔

پومپیو نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ تنازع کو ختم کرنے کے لیے امریکا سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور دونوں ممالک سے جنگ بندی معاہدے پر عمل کرنے پر زور دیا تھا۔

یاد رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 1990 میں سوویت یونین سے آزادی کے ساتھ ہی کاراباخ میں علیحدگی پسندوں سے تنازع شروع ہوا تھا اور ابتدائی برسوں میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دونوں ممالک کے درمیان 1994 سے اب تک تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔

آرمینیا کے حامی علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا۔

بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:اقوام متحدہ کا نیگورنو-کاراباخ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

متنازع خطے نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری جھڑپوں میں اب تک 244 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور کئی شہروں کو بھی نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے، آرمینیا نے مقامی جنگجوؤں کی مدد سے آذربائیجان کے علاقے پر خطے سے باہر سے حملہ کرکے قبضہ بھی کرلیا تھا۔