اقوام متحدہ کا نیگورنو-کاراباخ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 09 اکتوبر 2020

ای میل

رپورٹس کے مطابق کشیدگی میں اب تک 400 افراد ہلاک ہوئے—فوٹو: اے ایف پی
رپورٹس کے مطابق کشیدگی میں اب تک 400 افراد ہلاک ہوئے—فوٹو: اے ایف پی

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی سربراہ مشل بیچلیٹ نے متنازع خطہ نیگورنو-کاراباخ میں انسانی جانوں کے ضیاع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آرمینیا اور آذربائیجان دونوں سے دو ہفتوں سے جاری جنگ فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مشل بیچلیٹ کا کہنا تھا کہ ‘حالیہ دنوں میں تنازع کے اطراف میں واقع گنجان آباد علاقوں کو شیلنگ اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنانے کی رپورٹس پر سخت تشویش ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘شہریوں پر پڑنے والے اثر کے باعث فوری طور پر جنگ بندی کی ضرورت ہے’۔

مزید پڑھیں: آذر بائیجان، آرمینیا کے درمیان متنازع علاقے میں جھڑپیں، 23 افراد ہلاک

مشل بیلچیٹ کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 27 ستمبر کو شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک بچوں سمیت 53 شہریوں کی ہلاکت ہوئی ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ میں تمام فریقین کو یاد دلا رہی ہوں کہ کشیدگی کے دوران شہریوں اور ان کی املاک کے تحفظ کے حوالے سے عالمی انسانی قوانین پر عمل کریں۔

انسانی حقوق کی ہائی کمشنر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آرمینیا اور آذربائیجان دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ماسکو میں ملاقات متوقع ہے اور امید کی جارہی ہے کہ کشیدگی کے خاتمے کا کوئی حل نکل آئے گا۔

رپورٹس کے مطابق نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپوں میں اب تک فوجیوں سمیت 400 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ہزاروں شہری گھروں کو چھوڑ کر نقل مکانی کرچکے ہیں۔

مشل بیچلیٹ کا کہنا تھا کہ تنازع میں شامل تمام فریقین پر لازم ہے کہ وہ شہری آبادی کو لپیٹ میں لینے والے دھماکا خیز ہتھیار کو استعمال نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں:آذربائیجان، آرمینیا کے درمیان ثالثی کی پہلی کوشش، لڑائی بدستور جاری

انہوں نے دونوں فریق پر اثر و رسوخ رکھنے والے دیگر ممالک سے بھی کشیدگی روکنے، عالمی قوانین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کردار اد کرنے کی اپیل کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘خطے میں کلسٹر بم اور دیگر بم گرائے گئے ہیں جن میں سے اکثر دھماکا خیز ثابت نہیں ہوئے لیکن بعد میں اس سے ہلاکتیں ہوسکتی ہیں’۔

انسانی حقوق کی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ ‘اس طرح کا ہتھیار استعمال کرنے سے فوری گریز کرنا چاہیے’ اور ساتھ ہی فریقین سے اشتعال انگیز اور تفرقے کا باعث بننے والی زبان استعمال نہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت ہر طرف نفرت انگیز تقاریر ہورہی ہیں اور باہمی انسانیت سوز اور کشیدگی کا باعث بننے والے بیانات سے تنازع نے جنم لیا اور جانی نقصان ہوا’۔

انہوں نے خبردار کیا کہ کشیدگی سے خطے میں کورونا وائرس کی روک تھام کی کوشش پر اثر پڑسکتا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پہلی مرتبہ عالمی سطح پر باقاعدہ کوشش کی گئی تھی جہاں آذربائیجان کے وزیر خارجہ کی ملاقات روس، امریکا اور فرانس پر مشتمل گروپ کے نمائندوں سے طے تھی۔

مزید پڑھیں: آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان شدید لڑائی، ہلاکتیں 240 سے زائد ہوگئیں

او سی ایس منسک گروپ سے معروف تینوں ملک 1990 کی دہائی سے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نیگورنو-کاراباخ میں تنازع کو ختم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں اور آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بیراموف کی ملاقات گروپ کے نمائندوں سے شیڈول تھی۔

یاد رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 1990 میں سوویت یونین سے آزادی کے ساتھ ہی کاراباخ میں علیحدگی پسندوں سے تنازع شروع ہوا تھا اور ابتدائی برسوں میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دونوں ممالک کے درمیان 1994 سے اب تک تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔

آرمینیا کے حامی علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا۔

بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔

مزید پڑھیں: نیگورنو-کاراباخ میں جنگ بندی پر بات کرنے کو تیار ہیں، آرمینیا

متنازع خطے نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری جھڑپوں میں اب تک 244 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور کئی شہروں کو بھی نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے، آرمینیا نے مقامی جنگجوؤں کی مدد سے آذربائیجان کے علاقے پر خطے سے باہر سے حملہ کرکے قبضہ بھی کرلیا تھا۔