مقبوضہ کشمیر میں انگریزی اخبار 'کشمیر ٹائمز' کا دفتر سیل

اپ ڈیٹ 20 اکتوبر 2020

ای میل

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 1990 کی دہائی کے اوائل میں جگہ متعلقہ افراد کو الاٹ کی گئی تھی — فوٹو: اے پی
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 1990 کی دہائی کے اوائل میں جگہ متعلقہ افراد کو الاٹ کی گئی تھی — فوٹو: اے پی

مقبوضہ کشمیر میں انتظامیہ نے انگریزی اخبار 'کشمیر ٹائمز' کا دفتر سیل کردیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مقامی انتظامیہ کے محکمہ املاک نے منگل کے روز مرکزی شہر سری نگر کے پریس انکلیو میں واقع کشمیر ٹائمز کے دفتر کو سیل کردیا۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں خاتون صحافی کے خلاف غداری کا مقدمہ درج

کشمیر ٹائمز کی خاتون مالک اور ایگزیکٹو ایڈیٹر انورادھا بھاسن نے بتایا کہ ضلعی حکام نے 'مجوزہ کارروائی کے لیے قانون کو نظر انداز' کیا ۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 1990 کی دہائی کے اوائل میں اخبار کے دفتر کی جگہ کسی اور کو الاٹ کی گئی تھی۔

ایگزیکٹو ایڈیٹر نے کہا کہ 'ہمیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا'، جس وقت محکمہ املاک کے عہدیدار آئے تو اس وقت دفتر میں عملہ کام کر رہا تھا'۔

انہوں نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کے عہدیدار نے عملے کو یہ کہتے ہوئے باہر آنے کو کہا کہ وہ دفتر کو تالا لگا رہے ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں انورادھا بھاسن نے کہا تھا کہ انہیں جموں میں واقع ان کی سرکاری رہائش گاہ سے بے دخل کردیا گیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ان کے دفتر کو سیل کرنا 'انتقامی سیاست' اور بھارتی انتظامیہ کی 'انہیں دبانے کی کوشش' ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت صحافیوں کی آواز دبانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے'

انورادھا بھاسن نے بتایا کہ گزشتہ برس بھی اخبار کی بندش پر انہوں نے عدالت نے رجوع کیا اور اسی دن سے کشمیر ٹائمز کے سرکاری اشتہارات روک دیے گئے اور تب سے یہ سلسلہ جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم متعدد حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کے خلاف تنقید کرتے رہے ہیں'۔

کشمیر ٹائمز کی مالکن نے کہا کہ دفتر کو سیل کرکے مجھے خاموش کرانا مقصود ہے اور یہ مجھے دباؤ میں لینے کی کوشش ہے'۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہمارے دفتر کو تالے لگا سکتے ہیں لیکن ہماری آواز کو دبا نہیں سکتے۔

مذکورہ پیش رفت سے متعلق مقبوضہ کشمیر میں محکمہ املاک کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے کشمیر ٹائمز کا دفتر سیل نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم نے صرف اس عمارت کا قبضہ حاصل کیا ہے کیونکہ عمارت آنجہانی وید بھاسن کو مختص کی گئی تھی جو کچھ سال قبل دنیا سے رخصت ہوگئے'۔

واضح رہے کہ انورادھا کے والد اور کشمیر ٹائمز کے بانی ایڈیٹر وید بھاسن کا 2015 میں انتقال ہوگیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پلوامہ واقعے کے بعد بھارت میں صحافی سمیت کشمیری نوجوانوں پر حملے

مقبوضہ کشمیر میں ضلعی انتظامیہ کے اقدام کے بعد صحافیوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

انہوں نے کشمیر ٹائمز کے خلاف ضلعی انتظامیہ کی کارروائی کو 'بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں آزادی صحافت کا گلا گھونٹنے کی ایک اور کوشش' قرار دیا۔

کشمیر پریس کلب کے جنرل سکریٹری اشفاق تنٹری نے کہا کہ 'یہ اقدام انتہائی قابل مذمت ہے، بھارتی حکومت دفتر سیل کرنے کا فیصلہ واپس لے اور جموں و کشمیر میں پریس کے لیے خوف اور جبر سے آزاد ماحول کو یقینی بنائے'۔

میڈیا واچ ڈاگ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے بھی مقبوضہ کشمیر کی انتظامیہ کے اقدام کی مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم کشمیر ٹائمز کو ہدف بنائے جانے اور ہراساں کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔

سی پی جے نے ایک بیان میں کہا کہ حکام کو لازمی طور پر آزاد اور تنقیدی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کو ترک کرنا ہوگا اور پریس کی آزادی کا احترام کرنا ہوگا۔

مزید پڑھیں: صحافت کا عالمی ایوارڈ مقبوضہ کشمیر کی کوریج کرنیوالے صحافی کے نام

اس سے قبل ایک خاتون صحافی مسرت زہرا نے بھی مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کے حوالے سے بیان دیا تھا۔

خیال رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں پولیس نے غیر قانونی سرگرمیوں کے انسداد کے حوالے سے موجود قانون (یو اے پی اے) کے تحت مسرت زہرا کو گرفتار کرلیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق 26 سالہ مسرت زہرا کو سوشل میڈیا میں ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا۔

کشمیر پریس کلب کی جانب سے جاری بیان میں خطے کے صحافیوں پر لگنے والے الزامات کی مذمت کی گئی اور بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ سے مداخلت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ 'یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ جب دنیا وبا میں جکڑی ہوئی ہے، جب ہمیں کووڈ-19 کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے تو ایسے میں پولیس نے صحافیوں کے خلاف مقدمات بنانے اور انہیں ہراساں کرنا شروع کردیا ہے'۔

مزید پڑھیں: 5 اگست 2019 سے 5 فروری 2020 تک مقبوضہ کشمیر کی آپ بیتی

مقبوضہ کشمیر کے صحافیوں نے بیان میں کہا تھا کہ 'کشمیر کے صحافیوں کے لیے یہ ناقابل قبول ہے کیونکہ کشمیری صحافی اپنے حقوق کے مطابق آزادی اظہار اور تقریر کے خواہاں ہیں'۔

یاد رہے کہ بھارت کی ہندو انتہا پسند حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو 5 اگست 2019 کو باقی دنیا سے منقطع کرتے ہوئے مواصلاتی روابط بند اور نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی تھی۔